تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ڈاکٹر صدیقی امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع کارزویل جیل میں قید ہیں جہاں بہترین سہولیات میسر ہیں کارزویل جیل میں صرف خواتین قیدی زیرحراست ہیں، ڈاکٹر صدیقی عموما شلوار شلوار ... مزید-آصف زرداری نے پارٹی کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کی ہدایت کردی پیپلز پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو اپنے حلقوں میں کھلی عوامی کچہریاں بھی لگانے کی ہدایت-سابق صدر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی اور بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت میں رو پڑا غریب آدمی ہوں، وکیل کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں، نہیں جانتا کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے کہاں سے ... مزید-اسد عمر کی وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا امکان سابق وزیر خزانہ وزیراعظم سے مشاورت کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے، وزارت قبول کرنے کیلئے دوست احباب سے مشورے جاری-اگر این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ پی ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل نہ دی گئی تو لوگوں کو اٹھارویں ترمیم سمیت این ایف سی ایوارڈ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مصطفی کمال-ایف بی آر نے واپڈا ٹائون میں واقع ڈیپارٹمنٹل سٹور کے اکاونٹس منجمد کر دئیے-عمران خان اپنے تمام فیصلے خود کرتے ہیں جہاں ضرورت محسوس ہو تبدیلی کر دیتے ہیں‘ صمصام بخاری وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو میرٹ پر پنجاب کا وزیر اعلی مقرر کیا ہے انہیں ہٹانے ... مزید-کابینہ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،ڈاکٹر فر دوس عاشق عوان آئندہ بجٹ کو عوام دوست بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، اشیائے ضروریہ ... مزید-وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 22 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین کو باور کرایا ہے کہ وہ عوامی خدمت کے اقدامات ... مزید-لاہور ، وزیراعظم عمران خان کی آٹھ رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کا لاہور پریس کلب کا دورہ

GB News

07ستمبر:یوم فضائیہ

Share Button

آج ملک بھرمیں یوم فضائیہ ملی جوش وجذبے سے منایا جارہاہے، 1965کی جنگ میں شہید ہونے والے پاک فضائیہ کے جانبازوں کی قربانیاں فضائیہ کی تاریخ میں نا قابل فراموش ہیں،پاک بھارت1965کی جنگ میں پاک فضائیہ کے ناقابلِ فراموش کردار کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے 7 ستمبر کو یوم فضائیہ ملی جوش وجذبے سے منایاجاتا ہے، یوم فضائیہ یاد دلاتا ہے کہ جب بھارتی افواج نے اچانک پاکستان پر حملہ کیا تو کس طرح ہمارے جاں باز دلیر شاہینوں نے دشمن کے حملے کو پسپا کرکے وطن عزیزکی آن بان اورشان کو قائم رکھا،پاک فضائیہ نے بھارتی فضائیہ کے خلاف اپنی کارروائی چھ ستمبر کی شام کو شروع کی اور سات ستمبرکو شام پانچ بجے سے پہلے دشمن کے تریپن طیارے تباہ کرکے ناقابل شکست فضائی برتری حاصل کی،جھپٹ کر پلٹنا’پلٹ کرجھپٹنا اورپھر دشمن کو بھاگنے پرمجبورکردینا یہی وہ عزم ہے جسے یومِ فضائیہ کے دن ہمارے شاہین دہراتے ہیں، پاکستانی قوم اپنے جاں بازشاہینوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لیے آج کے دن تقریبات کا انعقاد کرے گی، سرکاری عمارات پر پرچم لہرائے جاتے ہیں اور شہداء کی قبروں پر پھول چڑھائے جائیں گے،جنگِ ستمبر میں پاک فضائیہ کے ہیرو سکواڈرن لیڈر محمد محمودعالم کو یہ اعزازحاصل ہے کہ انہوں نے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں سرگودھا کے محاذ پرپانچ انڈین ہنٹرجنگی طیاروں کوایک منٹ کے اندرمارگرایا جن میں سے چارابتدائی تیس سیکنڈ کے اندر مارگرائے گئے تھے اوریہ ایک عالمی ریکارڈ تھا،اس مہم میں ایم ایم عالم ایف 86 سیبرطیارہ اڑا رہے تھے۔ بہادری کے صلے میں انہیں دو بار ستارہ جرات سے نوازاگیا۔بزدل دشمن نے ہمارے ملک پر جب وار کیا تو ہماری فضائیہ نے بھی اس کا بھرپور طریقے سے جواب دیا۔ دشمن کے طیاروں کو نہ صرف فرار پر مجبور ہونا پڑا بلکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے ان کا پیچھا کیا اور انہیں نشان عبرت بنایا۔پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر بھی جوابی حملہ کیا اور لدھیانہ، جالندھر، بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کر کے دشمن کے کئی طیارے تباہ کر دیے۔پینسٹھ کی جنگ میں پاک فضائیہ نے بری اور بحری افواج کے ساتھ مل کر دشمن کی جارحیت کا مقابلہ کیا اور چوبیس گھنٹے میں ہی دشمن کو ایسا سبق سکھایا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔شاہین طیاروں کی بادلوں کو زیر کرنے اور آسمان کو چھونے والی پرواز بھری ۔سات ستمبر 1965 کو پاک فضائیہ نے بھارتی ائیر فورس کو اس قدر نقصان پہنچایا تھا کہ وہ کئی سال اپنے زخم چاٹتی رہی۔اس دن کی یاد میں آج پاکستان کے تمام ائیر بیسز پر پاکستانی جنگی طیاروں کی نمائش کی جاتی ہے ، پاک فضائیہ کے سامان حرب کی نمائش بھی ہوتی ہے۔پاکستانی شاہین فضاؤں میں پرواز کرتے ہیں ، فوجی ائیر بیس عام لوگوں کے لئے کھول دیئے جاتے ہیں۔ستمبر انیس سو پینسٹھ میں عددی برتری کے نشے میں مست دشمن ارض پاک پر چڑھ دوڑا، جنگ میں پاک فضائیہ کے جانبازوں نے جرات اور بہادری کی مثالیں قائم کیں اور وطن عزیز کا دفاع کیا۔جنگ میں پاکستان فضائیہ نے بھارتی ایئر فورس کے ایک سوچار طیارے تباہ کیے جبکہ پاکستان کو انیس طیاروں کا نقصان ہوا۔اس طرح لاہور میں ناشتہ کرنے کے عزائم لیکر میدان جنگ میں اترنے والی بھارتی افواج کو پاک فضائیہ کے شاہینوں نے ناکوں چنے چبوادئے۔ پینسٹھ کی جنگ میں سیالکوٹ کے قریب چونڈہ کا مقام بھارتی افواج کیلئے ٹینکوں کا قبرستان بنا اور پاک فضائیہ نے مجموعی طور پر بھارتی جارحیت کے عزائم خاک میں ملادیے۔ اس جنگ میںبری اور بحری افواج کے ساتھ پاک فضائیہ کا کردار بھی سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔جنگ کے پہلے ہی دن’ پاک فضائیہ نے بری فوج کے دوش بدوش بڑا اہم کردار ادا کیا اور پٹھان کوٹ’ آدم پور اور ہلواڑہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے’ دشمن کے متعدد طیارے اور متعدد ٹینک’ بھاری توپیں اور دوسرا اسلحہ تباہ کیا۔اس روز پاک فضائیہ نے دشمن کو ایسی دھول چٹائی جس نے ایک نئی تاریخ رقم کی۔اس دن اگرچہ پاک فضائیہ کے طیارے سرگودھا کے ہوائی اڈے پر’ طلوع آفتاب سے پہلے ہی بھارت کے ممکنہ حملے کے دفاع کے لیے تیار کھڑے تھے۔ مگر دشمن کا حملہ اس قدر ناگہانی تھا کہ حملے کا علم ان کی آمد کے بعد ہی ہوا چنانچہ فضائیہ کے طیاروں نے اپنا فریضہ بھرپور طریقے سے انجام دیا۔دشمن کے طیاروں کو نہ صرف فرار پر مجبور ہونا پڑا بلکہ پاک فضائیہ کے طیاروں نے ان کا پیچھا کرتے ہوئے ان کے کئی طیارے مار گرائے۔اس کے بعد پاک فضائیہ نے دشمن کے ہوائی اڈوں پر جوابی حملہ کیا اور لدھیانہ’ جالندھر’ بمبئی اور کلکتہ کے ہوائی اڈوں پر حملہ کرکے مجموعی طور پر دشمن کے 31 طیارے تباہ کردیے۔ جنگ ستمبر کے دوران پاک فضائیہ نے پیشقدمی کرنے والی بھارتی فوج کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کر لاہور کو بچا لیا۔ بھارت کے لڑاکا طیاروں کو اڑنے سے پہلے ہی پٹھان کوٹ کے ہوائی اڈے پر تباہ کر دیا اور بغیر کسی مزاحمت کے سرینگر ہوائی اڈے کو بمباری سے تباہ کر کے ناقابل استعمال بنا دیا۔جنگ ستمبر شروع ہونے سے پہلے ہی جنگ کے آثار نمایاں تھے اور پشاورمیں متعین فضائیہ کے انیسویں سکواڈرن کو پٹھان کوٹ کا بھارتی ہوائی اڈہ تباہ کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔اسی شام پٹھانکوٹ کا مشن مکمل کرناتھا۔انتہائی بلندی پر اڑنے والے دو جاسوس طیاروں کی بدولت پاکستان کے پا س پٹھانکوٹ کے اڈے کی مکمل تفصیلات موجود تھیں۔ فضائی جنگوں کی تاریخ کے یہ کامیاب ترین کارروائی تھی۔بھارتی فضائیہ کے مورال کا یہ حال ہو گیا تھا کہ بھارتی طیارے، پاکستانی طیاروں کو دیکھ کر ہی رخ بدل لیتے تھے۔ متعدد بار بھارتی طیاروں نے تعداد میں زیادہ ہونے کے باوجود پسپائی اختیار کی۔اس کے بعد جنگی بندی تک’ ماسوائے سرحدی جھڑپوں کے’ بھارتی فضائیہ نے کبھی بھی پاک فضائیہ کے اس تسلط کو چیلنج نہیں کیا جو اس نے فضائوں میں پہلے ہی روز قائم کرلیا تھا۔ فضائی جنگ چھ ستمبر کو شروع کی گئی تھی جو پاک فضائیہ نے سات ستمبر ہی کو جیت لی تھی۔میجر جنرل جی ایس سندھو اپنی کتاب History of Indian Cavalry میں لکھتے ہیں کہ کس طرح ویمپائر نے پہلے چار حملوں میں بھارت کی اپنی ہی 20لانسر کے اے ایم ایکس 13ٹینکوں کو تباہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ اکلوتی امدادی اور اسلحہ بردار گاڑیاں بھی تباہ ہو گئیں۔ دوسری جھڑپ کے دوران انڈیا انفنٹری کی کئی گن پوزیشنز اور اسلحہ بردار گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ ابھی بھارتی فوج اپنے ہاتھوں ہی زخم اٹھا رہی تھی کہ اچانک پاک فضائیہ کے دو سیبرز نمودار ہوئے۔ سکواڈرن لیڈر سرفراز رفیقی اور فلائٹ لیفٹیننٹ امتیاز بھٹی چھمب سیکٹر پر بیس ہزار فٹ پر پرواز کررہے تھے۔ ریڈار سے اطلاع ملنے کے بعد انہوں نے شام کے اندھیرے میں دو ویمپائرز اپنی طرف بڑھتے ہوئے دیکھے۔ سرفراز رفیق آگے بڑھے تو دو اور ویمپائرز اچانک سیبرز کے سامنے آ گئے جن کو انہوں نے چند لمحوں میں شکار کرلیا اور امتیاز بھٹی کے ساتھ آ گئے جو کہ دوسرے ویمپائرز کے ساتھ نبرد آزما تھے۔ جب رفیق عقب سے ہٹ گئے تو امتیاز بھٹی نے ایک ویمپائر کو نشانہ بنایا جو کہ بری طرح لڑکھڑا کر درختوں میں جا گرا۔اس ایک جھڑپ نے دشمن فضائیہ پر پاک فضائیہ کے شاہینوں کی ہیبت طاری کردی تھی۔ بدحواس بھارتی فضائیہ نے اپنے80ویمپائرز طیاروں کو گراؤنڈ کردیا جس سے ان کی فضائی طاقت 35فیصد کم ہو گئی جو کہ رفیقی اور امتیاز بھٹی کی شاندار کامیابی کی مرہون منت تھی۔ آج بھی پاک فضائیہ دشمن کو اس کی فضائی برتری کے باوجود ناکوں چنے چبوانے کی مکمل اہلیت رکھتی ہے۔

Facebook Comments
Share Button