GB News

حکومت بجلی، گیس اور کھاد کی قیمتو ں میں اضافہ واپس لے، سراج الحق

Share Button

امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق نے کہاہے کہ حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کی بجائے آتے ہی چیزوں کی قیمتیں بڑھانا شروع کردی ہیں، حیرانگی کی بات یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے آتے ہی گیس کی قیمتوں میں 46 فیصد اور بجلی کی قیمتوں میں فی یونٹ 2 روپے اضافہ کردیا، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے، یوریا کی بوری کی قیمت میں 8سو اضافہ کر کے حکومت نے کسانوں اور چھوٹے زمینداروں کیلئے مشکلات پیدا کردی ہیں جس سے زراعت ترقی کی بجائے مزید تنزلی کی طرف جائے گی ، حکومت بجلی گیس اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ واپس لے کر پہلی قیمتیں بحال کرے اور اپنے منشور پر عمل کرتے ہوئے عوام کو مہنگائی اور غربت سے بچانے کی کوشش کرے ۔ وہ جمعرات کو بونیر میں اجتماع ارکان سے خطاب اور بعد ازاں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کررہے تھے ۔ اس موقع پر سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی خیبر پی کے عبدالواسع بھی موجود تھے ۔سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پی ٹی آئی حکومت نے عوام سے کرپشن ، مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے کے وعدے کیے تھے ، لیکن گیس اور بجلی کی قیمتوں میں موجودہ اضافہ نے عام آدمی کی پریشانیوں میں بے انتہا اضافہ کر دیا ہے ۔ ہم حکومت کے اس فیصلے کو مسترد کرتے ہیںاور حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اپنے اس فیصلے کو واپس لے کر عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ نہیں ڈالے گی ۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے اپنی معاشی ٹیم میں معروف قادیانی مبلغ عاطف میاں کو شامل کرنے سے عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے ۔ قادیانی پاکستانی آئین کے باغی ہیں وہ آئین کے اس سٹیٹس کوتسلیم نہیں کرتے جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیاہے ۔ قادیانی خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو لادین سمجھتے ہیں ۔ حکومت کی طرف سے قادیانیوں کی سرپرستی کوعوام برداشت کرنے کو تیار نہیں ۔ انہوںنے کہاکہ ہم اقلیتوں کے آئینی حقوق کو مکمل تحفظ دینے کی بات کرتے ہیں لیکن قادیانی خود کو اقلیت تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔ ہمارا آئین اجازت دیتاہے کہ غیر مسلم سرکاری عہدوں پر فائز ہوسکتے ہیں مگر ان کو جو خود کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہوں ۔ جو لوگ سرے سے آئین کو ہی تسلیم نہیں کرتے ، انہیں اعلیٰ عہدے اور منصب کیسے دیے جاسکتے ہیں ۔ سراج الحق نے کہاکہ ملک میں عالمی شہرت یافتہ مسلم ماہرین معیشت کی کمی نہیں ، ترقی یافتہ ممالک ان کی قابلیت اور صلاحیتوں سے استفادہ کر رہے ہیں۔ حکومت کو قادیانیوں کی بجائے نامور مسلم معاشی ماہرین سے استفادہ کرنا چاہیے ۔ انہوںنے مطالبہ کیا کہ قادیانی مبلغ عاطف میاں کو فوری طور پر معاشی ایڈوائزری کونسل سے فارغ کیا جائے اور اس حوالے سے عوام کو اطمینان دلا کر حکومت اپنی پوزیشن واضح کرے ۔

Facebook Comments
Share Button