تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

امریکہ افغانستان کا سیاسی مذاکرات کے ذریعے حل چاہتا ہے، وزیر خارجہ

Share Button

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ خارجہ امور پر پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کو ہمیشہ اعتماد میں لیا جائے گا،خارجہ پالیسی کے حوالے سے پارلیمانی کمیٹی سے رہنمائی لیں گے،چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبہ (سی پیک)کو حکومت عزم کے ساتھ آگے بڑھائے گی، جلد ترک وزیرخارجہ پاکستان کا دورہ کریں گے۔جمعرات کو سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں نئی حکومت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمنٹ اور سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کا احترام کرتے ہیں،خارجہ پالیسی کے حوالے سے ہمیشہ پارلیمنٹ سے رہنمائی حاصل کی جائے گی،سی پیک ایک قومی منصوبہ ہے،جو کہ اتفاق رائے کے ساتھ فروغ پا رہا ہے اور حکومت بھی اسے آگے بڑھانے کیلئے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جلد افغانستان کا دورہ کروں گا۔ انہوں نے بتایا کہ چین اور ترکی کے وزیرخارجہ بھی جلد پاکستان کا دورہ کریں گے۔ اجلاس میں چیئرمین خارجہ امور کمیٹی مشاہد حسین سید اور دیگر تمام ارکان نے شاہ محمود قریشی کو وزیرخارجہ کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی اور انہیں یقین دلایا کہ ہمیشہ کمیٹی کی جانب سے شاہ محمود قریشی کو تعاون فراہم کیا جائے گا۔ اراکین کمیٹی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنوبی ایشیائی پالیسی پر تحفظات کا اظہار کیا جس کے تحت امریکہ خطے میں بھارت کے اثر رسوخ میں اضافہ کر رہا ہے اور اس کے باعث افغانستان میں بھی بھارت کا کردار بڑھ رہا ہے، یہ پالیسی پاکستان کے قومی مفادات کے بھی خلاف ہے۔ کمیٹی میں یوم دفاع کے موقع پر مادر وطن کیلئے جان نچھاور کرنے والوں کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔ سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ وطن پر جان قربان کرنے والوں کو پوری قوم خراج تحسین پیش کرتی ہے، جن کی قربانیوں سے مستقبل کی نسلیں امن سے رہیں گی۔ جلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین کمیٹی مشاہد حسین سید نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ خارجہ پالیسی سیاسی وابسطگیوں سے بالاتر ہو کر بنائی جائے ،، جس میں پارٹی بعد میں آتی ہے اور پاکستان کے مفادات کو اہمیت دیتے ہیں ، ہم ایک زبان سے بولتے ہیں ، دوسری بات ہم نے کی کہ ہم چاہتے ہیں خارجہ پالیسی بنانے کا محور وزرت خارجہ ہونا چاہیئے ، پالیسی وہ بنائیں اور باقی سب کو ساتھ لے کر چلیں ۔، وزیر خارجہ نے کہا کہ ان کو امریکی اپروچ پر تھوڑی سی تبدیلی نظر آرہی ہے ، وہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو کوئی فوجی حل نہیں ہے اور افغانستان کو سیاسی حل مذاکرات کے ذریعے ہوسکتا ہے اور ان مذاکرات میں وہ چاہتے ہیں کہ پاکستا ن ان کے ساتھ تعاون بھی کرے اور اس کو آگے لے کر چلے ، امریکہ نے کہاہے کہ ہم افغانستان میں اپنی موجودگی کو بڑھانا نہیں چاہتے۔

Facebook Comments
Share Button