تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نعیم الحق نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر ضبط کرنے کی دھمکی دے دی شہباز شریف اور اس کے چمچوں کی اتنی جرات کہ وہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کریں۔کیا وہ جیل میں ... مزید-وزیراعظم کا سانحہ ساہیول پر وزراء متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار آئندہ بغیر تیاری میڈیا پر بیان بازی نہ کی جائے انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے کسی قسم کی معافی کی گنجائش ... مزید-5 ارب روپے قرض حسنہ کیلئے مختص کرنا خوش آئند ہے، فنانس بل میں غریب آدمی کو صبر کا پیغام دیا گیا ہے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-فنانس بل سے متوسط طبقہ کو ریلیف ملا ہے، عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو گا، اپوزیشن کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس94 کے ضمنی الیکشن کے موقع پر سیکورٹی کو غیرمعمولی بنایا جائے، آئی جی سندھ-وزیر خزانہ اسد عمر کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ضمنی مالیاتی (دوسری ترمیم) بل 2019 کا مکمل متن-جنوری کو ہونے والے ضمنی انتخابات کراچی کی سیاست میں نئی راہیں متعین کرے گا،مصطفی کمال پی ایس پی کسی فرد یا گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جو مظلوم و محکوموں ... مزید-ملک کا اقتصادی مستقبل کراچی کی معاشی ترقی میں مضمر ہے۔گورنر سندھ-سی پیک پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لئے مستحکم بنیاد، خطے کو منسلک کرنے میں اہم کردارادا کر رہا ہے، سی پیک تمام خطے میں امن و استحکام لانے میں ... مزید-احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں دو مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ

GB News

آرمی چیف نے 13دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کی توثیق کر دی

Share Button

راولپنڈی (آئی این پی) چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 13دہشت گردوں کو سزائے موت دینے کی توثیق کر دی،7دہشت گردوں کو عمرقید کی سزا سنائی گئی،دہشت گردپاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، تعلیمی اداروں کی تباہی اور معصوم لوگوں کے قتل میں ملوث تھے۔پیر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ( آئی ایس پی آر)کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے 13دہشت گردوں کو سزائے موت کی توثیق کر دی ہے،دہشت گرد 202 افراد کے قتل میں ملوث تھے، انہوں نے 151 عام شہریوں اور اور آرمڈ فورسز سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے 51اہلکاروں کو قتل کیا جب کہ ان کے حملوں میں 249 سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے، دہشت گرد پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں، تعلیمی اداروں کی تباہی اور معصوم لوگوں کے قتل میں بھی ملوث تھے۔دہشت گردوں کے خلاف فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے،دہشت گردوں کے قبضے سے دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔دہشت گردوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ اور ٹرائل کورٹ کے آگے اپنے جرائم کا اعتراف اورانہیں فوجی عدالتوں نے سزائیں سنائیں۔سزائے موت پانے والوں میں منیر رحمان ولد فضل رحمان، محمد بشیر ولد عبدالرشید، حافظ عبداللہ ولد محمد اقبال، بخت اللہ خان ولد اجمل خان، شاہ خان ولد عبدالبادشاہ ، محمد سہیل خان ولد رضا خان،داؤد شاہ ولد میاں گل زادہ ، محمد منیر ولد سید بادشاہ، حبیب اللہ ولد محمد امین، محمد آصف ولد عنایت الرحمان ،گل شاہ ولد غنچہ گل،جلال حسین ولد شیر افضل خان اور علی شیر ولد رحمدال خان شامل ہیں۔

Facebook Comments
Share Button