GB News

گلگت بلتستان آرڈر 2018 پر حتمی تجاویز کی طلبی

Share Button

سپریم کورٹ نے گلگت بلتستان آرڈر 2018ء کے معاملے پر آئندہ سماعت پر فریقین سے حتمی تجاویز طلب کی ہیں،گلگت بلتستان آرڈر کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ سپریم کورٹ نے آرڈر کو بحال کیا ہے آرڈر میں کیا ترامیم کی جائیں اس حوالے سے عدالت کو آگاہ کیا جائے، چیف جسٹس نے اعتزاز احسن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اعتزاز صاحب آپ ہماری رہنمائی کریں، یہ ایک اہم مسئلہ ہے ، گلگت بلتستان کو حقوق دینا ہماری ذمہ داری ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ گلگت بلتستان کے بارے میں ہمیں سپریم کورٹ کے تاریخی فیصلے پر عملدرآمد کرانا ہے اور اس ضمن میں دیکھیں گے کہ وفاق کو کیا کرنا ہے اور ہم نے کیا کرنا ہے اس کیس کا ہم نے فوری فیصلہ دینا ہے ، عدالت نے کیس کو التواء میں ڈالنے کی درخواست بھی مسترد کر دی، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ التواء میں دینے سے یہ ادارہ مقدمات کے بوجھ تلے دب جائے گا گلگت بلتستان کے لوگ ملک کے دیگر شہریوں سے زیادہ محب وطن ہیں یہاں دشوار گزار پہاڑوں پر پاکستان کے پرچم بنائے گئے ہیں لوگ پاکستان سے بے حد پیار کرتے ہیں،دوران سماعت پاکستان بار کونسل کے وکیل سلمان اکبر راجہ نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کا مطالبہ ہے کہ انہیں پوری طرح اپنایا جائے۔عدالت نے کیس کی سماعت دو ہفتوں کیلئے ملتوی کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر فریقین سے تجاویز طلب کر لیں۔گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کے ضمن میں سپریم کورٹ میں ہونے والی پیشرفت یقیناًخوش آئند ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ چیف جسٹس کی بدولت گلگت بلتستان کے عوام کو ان کے دیرینہ مطالبات کی تکمیل میں معاونت حاصل ہوگی‘چیف جسٹس گلگت بلتستان کے دورے کے بعد نہایت سنجیدگی اور نیک نیتی سے خطے کے عوام کو ان کے حقوق کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کوپاکستان کے شہری کی حیثیت سے حقوق دیے جائیں‘ سابق حکومت نے اپنی حکومت کے آخری ایام میں گلگت بلتستان آرڈر 2018 جاری کیا تھا لیکن یہاں کے عوام کی اکثریت نے اسے ناموافق قرار دے کر مسترد کر دیا تھا اور سپریم اپیلٹ کورٹ نے اسے معطل کر دیا تھا لیکن سپریم کورٹ اسے بحال کر دیا‘اب سپریم کورٹ اس ضمن میں تجاویز طلب کر کے اسے قابل قبول اور حقوق کا ضامن بنانے کی خواہاں ہے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ماضی کی حکومتوں نے اس حوالے سے کوئی کردار ادا نہیں کیا پانچ سال تک محض کمیٹیوں اور اجلاسوں کا کھیل کھیلا جاتا رہا لیکن نتیجہ ڈھاک کے تین پات کے سوا کچھ نہ نکلا‘اس تناظر میں سپریم کورٹ ہی یہاں کے عوام کے خوابوں میں رنگ بھرنے کیلئے آخری امید ہے‘اب یہ عذر ختم ہو جانا چاہیے کہ گلگت بلتستان کو حقوق دینے سے مسئلہ کشمیر پر حرف آئے گا‘آزادکشمیر مجاہدین نے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے تسلط سے جہاد کر کے آزاد کروایا تھا۔ آزادکشمیر 1947ء میں مہاراجہ کشمیر کے زیر نگین تھا لہذا وہ متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا لیکن گلگت بلتستان کا مسئلہ بالکل جداگانہ حیثیت رکھتا ہے۔ یہ بوقت آزادی ہند مہاراجہ کشمیر کے زیر نگین نہیں تھا لہذا یہ متنازعہ علاقہ نہیں ۔ اس لیے اسے بوقت الحاق پاکستان میں پانچواں صوبہ بنا دینا چاہئے تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ 1954ء تک اس علاقہ کے لوگ اپنا ڈومیسائل مظفر آباد آزادکشمیر سے حاصل کرتے تھے۔ 1937ء اور 1941ء کے ریاستی انتخابات میں گلگت بلتستان سے پانچ نمائندے کشمیر اسمبلی میں منتخب ہو کر جاتے تھے اور 1947ء تک کشمیر اسمبلی میں اس علاقہ کی نمائندگی تھی لہذا تاریخی طورپر اس علاقہ کے مفتوحہ علاقہ ہونے کی بدولت یہ کشمیر کا حصہ قرار پایا لیکن حکومت برطانیہ کی عملداری کے وقت 1947ء کو آزاد ہوا تو مہاراجہ کشمیر کے زیر تسلط نہ تھا لہذا یہ کشمیر کا حصہ نہیں بنتا۔ایک موقف یہ ہے کہ پاکستان نے قانونی غلطی یہ کی کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں میں بھارت کے زور پراسے کشمیرکا حصہ تسلیم کیا اور اب اگر اسے پاکستان کا پانچواں صوبہ بنایا گیا تو یہ پاکستان کی طرف سے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہو گی جس سے پاکستان کا کشمیر پر موقف کمزور جائیگا اور بھارت بھی ردعمل میں اسے جواز بنا کر مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں شامل کر لے گا۔ اس طرح ’’تقسیم کشمیر’’ کی راہ ہموار ہو جائیگی۔ ستمبر 2009ء میں چین نے پنجی استور کے مقام پر ایک میگا انرجی پروجیکٹ لگایا جس پر بھارت نے واویلا مچایا۔ پاکستان نے بھارت کے احتجاج کو مسترد کر دیا۔ اب بھی پاک چین اقتصادی راہداری بھارت کو کھٹکتی ہے اور واویلا کر رہا ہے بھارتی احتجاج کو مسترد کرتے ہوئے چین کی تسلی کیلئے پاکستانی سینیٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کیلئے سیٹیں مختص کرنے میں کوئی قانونی وآئینی سقم نہیں ہونا چاہیے۔گلگت بلتستان کو 2009 میں سیلف گورننس آرڈر کے تحت ایک قانون ساز اسمبلی دی گئی جس کا وزیراعلٰی بھی ہے اور صوبے کا ایک گورنر بھی لیکن یہاں کے سیاست دانوں اور عوام کا خیال ہے کہ انہیں نہ تو حقیقی اختیارات ملے اور نہ ہی انہیں اس طرح سے پاکستان کا حصہ بنایا گیا ہے جس طرح کہ دوسرے صوبوں کے عوام کو۔ گلگت کے نمائندوں کو مختلف پارلیمانی فورمز پر مدعو کیاگیا اور سینیٹ کی سطح پر ان معاملات کو طے کرنے کیلئے سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کی سربراہی میں کمیٹی بھی بنی جس نے اعتراف کیا کہ گلگت کی اسمبلی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔مگریہاں کی اسمبلی اور وزیراعلٰی کے پاس وہ اختیارات نہیں جو دوسرے صوبوں کی اسمبلیوں کے پاس ہیں۔گزشتہ عرصے میں گلگت بلتستان کے عوام کو اور کچھ ملا یا نہیں سیلف گورننس آرڈر اور اس کے نتیجے میں شروع ہونے والے سیاسی عمل نے لوگوں کو سیاسی پختگی ضرور دی۔پارٹی کوئی بھی ہو منشور کیسا بھی ہو گلگت کے سیاست دان آئینی حقوق کے حصول پر متفق ہیں اور پاکستان میں سیاست دان بھی ان حقوق کے مخالف نہیں۔تو پھرسوال یہ ہے کہ آخر گلگت کی عبوری حیثیت کو ختم کرکے اسے پاکستان کا مستقل حصہ بنانے کی راہ میں رکاوٹ کیا ہے ؟لوگ سمجھتے ہیں کہ مسئلہ کشمیر کو سامنے رکھتے ہوئے بھی گلگت کے عوام کو ان کے حقوق دلانے کیلئے کوئی درمیانی راہ نکالی جاسکتی ہے۔یہ یہاں کے مستقبل کے تعین کے لیے اہم ترین مسئلہ ہے اور گلگت کے عوام میں اس حوالے سے بہت فکر پائی جاتی ہے۔ ماضی میں کچھ فیصلے کیے گئے جن میں یہاں کی عوام کی رائے کو شامل نہیں کیا گیا۔ اسی لیے ان کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ گلگت کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہ علاقہ پاکستان کی سلامتی کے لیے خاصا اہم ہے۔گلگت کی سرحدیں روس، چین اور بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملتی ہیں۔ تجزیہ کاروں کی رائے ہے کہ خاص طور پر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی تکمیل کے لیے گلگت کا پرامن ہونا اور یہاں کے عوام کا سیاسی احساس محرومی دور ہونا انتہائی اہم ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف اس حوالے سے کس حد تک اپنے وعدے پورے کرتی ہے اور اگر چیف جسٹس اس ضمن میں اپنی ذمہ داریاں ادا کریں تو امید واثق ہے کہ برسوں سے حل طلب یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس معاملے پر پہلے ہی بہت سا وقت ضائع کر دیا گیا ہے چیف جسٹس کو بھی اس کا احساس ہے اسی لیے انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے اس کیس کا فوری فیصلہ دینا ہے‘ہونا بھی یہی چاہیے کیونکہ لوگ اب مزید تاخیر برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے نہ ہی ان کے صبر وبرداشت کا مزید امتحان لیاجانا چاہیے‘حکومتیں نامعلوم مصلحتوں اورمجبوریوں کے تحت اس معاملے کو ٹالتی چلی جائیں گی لہذا بہتر یہی ہے کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ دو ٹوک احکامات جاری کرتے ہوئے وفاق کو پابند بنائے کہ وہ بلاتاخیر ہر وہ قدم اٹھائے جس سے یہاں کے عوام کوحقوق مل سکیں۔

Facebook Comments
Share Button