تازہ ترین

Marquee xml rss feed

نعیم الحق نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر ضبط کرنے کی دھمکی دے دی شہباز شریف اور اس کے چمچوں کی اتنی جرات کہ وہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کریں۔کیا وہ جیل میں ... مزید-وزیراعظم کا سانحہ ساہیول پر وزراء متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار آئندہ بغیر تیاری میڈیا پر بیان بازی نہ کی جائے انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے کسی قسم کی معافی کی گنجائش ... مزید-5 ارب روپے قرض حسنہ کیلئے مختص کرنا خوش آئند ہے، فنانس بل میں غریب آدمی کو صبر کا پیغام دیا گیا ہے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-فنانس بل سے متوسط طبقہ کو ریلیف ملا ہے، عوام کا پیسہ عوام پر خرچ ہو گا، اپوزیشن کے پاس بات کرنے کو کچھ نہیں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید-صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی ایس94 کے ضمنی الیکشن کے موقع پر سیکورٹی کو غیرمعمولی بنایا جائے، آئی جی سندھ-وزیر خزانہ اسد عمر کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ضمنی مالیاتی (دوسری ترمیم) بل 2019 کا مکمل متن-جنوری کو ہونے والے ضمنی انتخابات کراچی کی سیاست میں نئی راہیں متعین کرے گا،مصطفی کمال پی ایس پی کسی فرد یا گروہ کا نام نہیں ہے بلکہ ایک تحریک کا نام ہے جو مظلوم و محکوموں ... مزید-ملک کا اقتصادی مستقبل کراچی کی معاشی ترقی میں مضمر ہے۔گورنر سندھ-سی پیک پاکستان اور چین کے مابین تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے لئے مستحکم بنیاد، خطے کو منسلک کرنے میں اہم کردارادا کر رہا ہے، سی پیک تمام خطے میں امن و استحکام لانے میں ... مزید-احتساب عدالت اسلام آباد میں اسحاق ڈار کیخلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے مقدمے میں دو مزید گواہوں کے بیانات ریکارڈ

GB News

کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وزیر امور کشمیر نے شرکت نہ کی توممبران کمیٹی اجلاس سے واک آؤ ٹ کریں گے،رحمن ملک

Share Button

اسلام آباد (آن لائن228آئی این پی) پاکستان پیپلزپارٹی کے سینئر رہنمائرحمن ملک نے کہا ہے کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں وزیر امور کشمیر نے شرکت نہ کی توممبران کمیٹی اجلاس سے واک آؤ ٹ کریں گے‘ ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی معاشی ترقی کی بہتری کیلئے بجٹ میں خصوصی گرانٹ دینے کی سفارش کی ہے جبکہ وفاقی سیکرٹری طارق محمود پاشا کا کہنا تھا کہ آزاد حکومت کو انتظامی طور پر بااختیار بنانے سے وہاں کے لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوگا۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کشمیر افیئر کا پہلا اجلاس گزشتہ روز پروفیسر ساجد میر کی سربراہی میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر رحمن ملک ، لیفٹنٹ جنرل ( ر) صلاح الدین ترمذی ، شاہین خالد بٹ ،انور لال دین کے علاوہ وزارت امور کشمیر وگلت بلتستان کے اعلی حکام نے شرکت کی ۔،کمیٹی کو وزارت امور کشمیر و گلگت بلتستان کے سیکرٹری طارق محمود پاشا نے وزارت کی بنیادی مقاصد،ڈھانچے اور کارکردگی کے بارے میں بتایا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کونسل کا سربراہ وزیراعظم پاکستان ہوتا ہے،جس میں وفاق اور متعلقہ علاقوں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں، آزاد کشمیر کے آئین میں13 ویں ترمیم اورگلگت بلتستان آرڈر2018 کے بعد دونوں علاقوں کو مالی طور پر خودمختاری دی گئی،وزارت امور کشمیر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے پالیسی،پلاننگ اور ترقی کیلئے جی بی اورکشمیر کی حکومتوں کے ساتھ تعاون کرنا ہے،اس وقت گلگت بلتستان میں50 بیڈ کا کارڈک ہسپتال زیر تعمیر ہے،جی بی کا سالانہ گرانڈ2014-15 میں 8.2 ج ملین جبکہ2018-19 کیلئے18 ملین کر دیا گیا ہے۔ سیکرٹری امور کشمیر نے بتایاکہ پاکستان کے چاروں صوبوں کو این ایف سی کے تحت فنڈز ملتے ہیں ، ان دونوں علاقوں میں پاکستانی آئین کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے این ایف سی میں ان کا حصہ نہیں، ہومین رائٹس کے چیف کمشنر کی جانب سے جاری کردہ رپورٹس میں85 فیصدبھارتی جارحیت اور مظالم سے متعلق ہیں جبکہ 15 فیصد آزاد کشمیر کی صورتحال سے متعلق ہیں۔انہوں نے کہاکہ گلگت بلتستان میںآڈیٹر جنرل،اکاؤنٹنٹ جنرل، انکم ٹیکس آفس کے قیام کے بعد2013 سے اب تک4200 ملین ٹیکس جمع ہو گئے ہیں، وزارت امور کشمیر کشمیر کاز کیلئے27 اکتوبر اور 5 فروری کو یکجہتی کشمیر کیلئے خصوصی پروگرامز کا انعقادکرتے ہیں،مسئلہ کشمیر کے حوالے سے دفتر خارجہ سے بھی ان پٹ لینا ہوگا کیونکہ کشمیر کے بیرونی معاملات میں دفتر خارجہ کا کردار بڑا کردار ہے۔ سینیٹر رحمن ملک نے کہا کہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کو این ایف سی کے تحت کیوں فنڈز نہیں مل سکتے،اگر آئین میں نہیں تو ترمیم کر سکتے ، وفاقی حکومت ان علاقوں کیلئے گرانڈز میں اضافہ کریں،وفاقی ان علاقوں میں گڈ گورننس کو بہتر بنانے کی بات کرتے ہیں لیکن جب بھی ان علاقوں کو مالی خود مختاری دینے کی بات ہوتی ہے تو وفاق پیچھے ہٹ جاتا ہے،کشمیر اور جی بی کیلئے ایسا مالی سسٹم ہونا چاہیے کہ مستقبل میں ان کو ہاتھ پھیلانا نہ پڑے،گلگت بلتستا ن کیلئے خصوصی چینل ہونا چاہیے، جی بی پولیس کے پاس ایک گاڑی ایسی نہیں جو صحیح تک گلگت سے پاسو تک چل سکتی ہو،وہاں ائیر ایمبولینس تک نہیں،دنیا بھرمیں پہاڑی علاقوں میں خصوصی ائیر ایمبولینس ہوتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button