GB News

حکومت نے اپنا منی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا

Share Button

 

اسلام آباد(آ ئی این پی) حکومت نے اپنا منی بجٹ پیش کرنے کا فیصلہ کرلیا، اس سلسلے میں تحریک انصاف کی حکومت نے مالی سال 2018-19کے فنانس بل میں بڑی ترامیم لانے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت گزشتہ دور حکومت میں ٹیکس استثنی کے معاملے بھی ترمیم لائے جائے گی، ذرائع کاکہنا ہے کہ مسلم لیگ(ن)کی حکومت نے 12 لاکھ روپے تک سالانہ آمدن والوں کو انکم ٹیکس سے استثنی دیا تھا لیکن اب وفاقی حکومت اس حد کو کم کرکے 8 لاکھ تک کرے گی۔ذرائع کے مطابق فنانس ایکٹ میں ترامیم کے ذریعے 800 ارب روپے لا اضافی ریونیو حاصل کیا جائیگا، حکومت ترقیاتی بجٹ میں 400 ارب روپے کی کمی کا ارادہ رکھتی ہے جب کہ ایف بی آر میں متعدد اقدامات سے 400 ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکسز لگائے جائیں گے۔ذرائع کے مطابق مالیاتی بل میں ترامیم کا مقصد بجٹ اور تجارتی خسارہ کم کرنا ہے، حکومت ٹیکس ریونیو بڑھانے کے لیے فنانس بل میں تجاویز پیش کرے گی جب کہ تمام درآمدی اشیا پر ایک فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی کی تجویز دی جائے گی جس سے حکومت کو خاطر خواہ آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے۔ذ را ئع کے مطا بق ایک کھرب کی ٹیکس چھوٹ و مراعات ختم کئے جانے کا بھی امکان ہے، تنخواہ دار افراد کی ٹیکس چھوٹ ،12لاکھ سے کم کر کے 4لاکھ روپے کرنے جبکہ 1600اشیاء کی ریگولیٹری ڈیوٹی میں 5سے 10فیصد اضافے کا امکان ہے، موبائل فونز کی درآمد پر ڈیوٹی کی شرح میں 5فیصد تک اضافے کا امکان ہے، ذرائع کے مطابق پی ایس ڈی سی پی میں غیر منظور شدہ ترقیاتی اسکیمیں ختم کرنے جبکہ بجٹ خسارہ، جی ڈی پی اور دیگر اہداف پر نظرثانی کا بھی امکان ہے،ذرائع کا کہنا ہے کہ 14ستمبر کو قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس اسی سلسلے میں طلب کیا گیا ہے، حکومت اس اجلاس کے دوران ہی فنانس بل اسمبلی میں پیش کرے گی۔ذرائع نے بتایاکہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ ترامیم کی منظوری کا امکان ہے۔

Facebook Comments
Share Button