GB News

پاکستان انتہاپسندی کے خاتمے کیلئے قانون سازی کرے،امریکہ

Share Button

امریکا نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر دبائو میں اضافہ لاتے ہوئے زور دیا ہے کہ پاکستان انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے سدباب کے لیے فوری قانون سازی کرے، دو مذہبی جماعتوں پر پابندی کا ختم ہونا ایف اے ٹی ایف سے کئے گئے وعدے کی خلاف ورزی ہے، پاکستان کو دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں درپیش خامیوں کو دور کرنا ہو گا،دہشتگردوں کومالی معاونت کی فراہمی پاکستان کی اہلیت کو خطرے سے دو چار کر دیگی۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی حکومت نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ انتہا پسند مذہبی جماعتوں کے سدباب کے لیے فوری قانون سازی کرے’۔رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ اقوام متحدہ کی ایک قرارداد کے تحت جاری کیے گئے صدارتی آرڈیننس کے معیاد کے خاتمے کے بعد حافظ سعید کی سربراہی میں چلنے والی ‘جماعت الدعو’ اور ‘فلاح انسانیت فاونڈیشن’ کالعدم جماعتوں کی فہرست میں نہیں رہیں۔اس حوالے سے اطلاعات ہیں کہ نئی حکومت ان تنظیموں پر عائد پابندی کی مدت میں اضافے کے لیے غور کر رہی ہے۔اس بارے میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس صورتحال میں پاکستان کو فوری طور پر قانون سازی کرنے کی ضرورت ہے، جو ان دونوں تنظیموں کو محدود کرسکے۔امریکی عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ جماعت الدعو اور فلاح انسانیت فانڈیشن پر پابندی کی مدت ختم ہونا پاکستان کی جانب سے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ساتھ کیے گئے وعدے کے برخلاف ہے، جس کے تحت اسے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے میں درپیش خامیوں کو دور کرنا ہے۔ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ امریکا کو اس حوالے سے سخت تشویش ہے کہ یہ معاملہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دار 1267 کے تحت اقوامِ متحدہ کی جانب سے دہشت گرد قرار دی جانے والی تنظیموں کی مالی معاونت روکنے کیے لیے پاکستان کی اہلیت کو خطرے میں ڈال دے گا

Facebook Comments
Share Button