GB News

انفراسٹرکچر:سیاحت:ترقیاتی پروگرام

Share Button

 

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ بحیثیت قوم تعمیر و ترقی اور معاشی استحکام کیلئے فیصلے کرنے ہوں گے۔ امن وامان کی وجہ سے سیاحوں کی بڑی تعداد گلگت بلتستان آرہی ہے۔ انفراسٹرکچر اور گلگت بلتستان آنے والے سیاحوں کی سیکیورٹی پر حکومت کروڑوںروپے خرچ کررہی ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت اور پاور سیکٹر میں وسیع مواقع موجود ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ نیشنل گرڈ کے قیام کیلئے مسلم لیگ نون کی سابق وفاقی حکومت نے منصوبے کی منظوری اور رقم فراہم کی ہے۔ نیشنل گرڈ سے گلگت بلتستان کے منسلک ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں موجود پانی سے بجلی پیدا کرنے کے مواقع سے بھرپور استعفادہ کیا جاسکے گا اور بین الاقوامی سرمایہ کار گلگت بلتستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔ گزشتہ چار سالوں سے گلگت بلتستان امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ گلگت کی روشنیاں بحال ہوئی ہیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ تمام اضلاع میں بلاتفریق تعمیر و ترقی کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن علاقوں سے مسلم لیگ نون کو ووٹ نہیں ملا ان علاقوں میں بھی اربوں روپے کے منصوبے دیئے گئے ہیں۔تعمیر و ترقی ،غربت کے خاتمے ، عوام کے معیار زندگی کو بہتر بنانے اور علاقے کے وسیع تر مفاد کیلئے سب کو مل کر کام کرنے کا دعوت دیتا ہوں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ ہماری جماعت نے شفافیت اور میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایاہے۔ تمام اداروں میں اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔ کرپشن کے دروازے بند کردیئے ہیں۔ ترقیاتی بجٹ کوپانچ ارب سے بڑھا کر19ارب کردیا لیکن بدقسمتی سے تحریک انصاف کی وفاقی حکومت نے دوارب کی کٹوتی کی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ تعمیر و ترقی کے بغیر کوئی بھی ملک اور علاقہ آگے نہیں بڑھ سکتا اس لیے ضرورت اس امر کی ہوتی ہے کہ تسلسل کے ساتھ یہ سلسلہ جاری رکھا جائے’گلگت بلتستان میں بلاشبہ ہر شعبے میں سرمایہ کاری کے متعدد مواقع موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے تاحال اس کے وسائل کو استعمال میں لانے اور اس کی جغرافیائی حیثیت سے فائدہ اٹھانے کی سعی نہیں کی گئی ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ یہاں محض سیاحت سے اربوں ڈالر کا زرمبادلہ کمایا جا سکتا ہے لیکن اس جانب بھی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے کون نہیں جانتا کہ سوئٹزرلینڈ ‘جرمنی’ فرانس’ اٹلی ہر سال ملک گھومنے آنے والے سیاحوں سے کتنا پیسہ کماتے ہیں؟مغرب کا تذکرہ نہ بھی کیا جائے توہم جانتے ہیں کہ نیپال’ سری لنکا’ مالدیپ’ بھوٹان’ سنگاپور اور تھائی لینڈ جیسے چھوٹے ممالک کی معشیت کا دارومدار ہی سیاحت پر ہے یعنی سیاحت اتنی بڑی انڈسٹری ہے کہ یہ مکمل ملک چلانے کی اہلیت رکھتی ہے۔ ہمسایہ ملک بھارت کی دو درجن ریاستوں میں علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں مسلح شورش برپا ہے لیکن انہوں نے اک سال میں سیاحت میں پچیس لاکھ نوکریاں پیدا کی ہیں انہوں نے سیاحت کو باقاعدہ انڈسٹری کی شکل دے رکھی ہے اور اس ایک انڈسٹری کی بنیاد پر ان کی ہوٹل’ فوڈ’ ریلوے حتیٰ کہ میڈیا انڈسٹریز بھی آگے بڑھ رہی ہے۔ان ممالک میں ایسا کیا ہے جو ہمارے وطن پاکستان میں نہیں پاکستان جہاں اک طرف قدرت کی فیاضی کے منہ بولتے ثبوت ،پہاڑوں ،جھرنوں،ندی نالوں آبشاروں، بہترین وادیوں پرفضا اور خوبصورت مقامات، بہتریں جھیلوں سے مزین ہے وہاں سمندر صحرا ساحل خوب صورت میدان تاریخی مقامات کا ان گنت ورثہ موجود ہے دنیا کی چودہ بلند ترین پہاڑی چوٹیوں میں سے پانچ پاکستان میں ہیں، مائونٹ ایورسٹ کے بعد دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ،کے ٹو،اور پاکستان کا دوسرا بڑا پہاڑی سلسلہ نانگا پربت شامل ہے جس کی اونچائی چھبیس ہزار چھ سو چھیاسٹھ فٹ ہے،جس کی صناعی سیاحوں کو مبہوت کر دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ہم اگر دنیا کے ساتویں بڑے نہری نظام رکھنے والے زرعی ملک کے فصلات و پھل ریکوڈک اور سینڈک میں کاپر و سونے کے ذخائر سوئی کے گیس ذخائر کھیوڑہ میں نمک کی کانوں دنیا کی بہترین سپورٹس انڈسٹری کو شمار میں نہ بھی لائیں تو صرف سیاحت کی انڈسٹری کے حوالے سے ہمارے پاس اتنا کچھ ہے کہ اربوں ڈالر سالانہ کی کمائی کی جا سکتی ہے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم نے کبھی اس سے فائدہ اٹھانے کی ٹھیک طرح سے کوشش ہی نہیں کی پاکستان میں سیاحت کس حال میں ہے ،کسی کو خبر ہے؟ سیاحت کو عروج پر پہنچانے کے لیے تین بنیادی نکات ہیں حفاظت’ سہولیات اور پروپیگنڈا اور بدقسمتی سے ہم ان تینوں میں بری طرح فیل ہو چکے ہیں۔ حفاظت کی بات کریں تو پرامن ترین کمیونٹی پر مشتمل جنت ارض گلگت بلتستان کے حالات اکثر بہار کے دنوں یعنی مارچ اپریل اور مئی میں خراب ہو جاتے ہیں مثال کے طور پر مئی 1988 کے مذہبی فسادات، پھر مئی 1992 کے مذہبی فسادات، کوہستان واقعہ 28 فروری پھر 23 مارچ 2005 آئی جی پی پولیس کا قتل۔ کارگل ڈراپ سین مارچ اپریل گندم دھرنا بھی مارچ اپریل۔کیا کبھی آپ نے غور کیا کہ بہار کے دنوں میں جب دنیا بھر سے سیاح اس علاقے میں آنے کے لیے فروری اور مارچ کے مہینوں میں تیاری شروع کرتے ہیں۔ حکومت پاکستان سے ویزہ وغیرہ کے لیے اپلائی کرتے ہیں ایسے میں اچانک گلگت بلتستان میں ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہیں کہ یہ سارے سیاح کسی اور ملک کسی اور علاقے کی جانب رخ کر جاتے ہیں ہمسایہ ملک ایسے واقعات کو پہت بڑھا چڑھا کر نشر کرتے ہیں اس طرح گلگت بلتستان کی معیشت کو ہر سال بھاری نقصان اٹھانا پڑتا ہے صرف پاکستانی شہری ہی پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا بغیر روک ٹوک سفر کر سکتے ہیں جبکہ غیر ملکی شہریوں کو ان علاقوں میں سفر کرنے کے لیے پاکستان کی وزرات داخلہ کی طرف سے تحریری اجازت درکار ہوتی ہے۔ اجازت مل جانے کی صورت میں بھی غیر ملکیوں پر لازم ہے کہ وہ لائن آف کنٹرول سے آٹھ کلومیٹر دور رہیں جبکہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کی لائن آف کنٹرول کی دوسری طرف وادی کشمیر میں غیر ملکی سیاحوں کے سفر کرنے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔سہولیات کی بات کریں تو حکومت پاکستان بہتر سڑکیں صاف پانی اچھے ہوٹل اور کسی حادثے کے نتیجے میں فوری امداد پہنچانے سے قاصر دکھائی دیتی ہے۔ پروپیگنڈے اور ایڈورٹائزمنٹ کا سن لیں بھارتی ہندو مسلمانوں مغلوں سے بھلے نفرت کرتے ہوں مگر انہوں نے مغلوں کی نشانیوں کو سینت سینت کر رکھا ہوا ہے اور اس سے اربوں ڈالر سالانہ منافع کماتے ہیں۔ یہاں ہم نے ہندوں’ بدھوں اور سکھوں کی نشانیوں کو چن چن کر مسمار کیا ان پر کیا موقوف مسلمانوں کی بنائے ورثے کی حالت کون سا قابل رشک ہے پرانی عمارتیں قلعے مندر بھوت بنگلے بن کر کھنڈرات میں تبدیل ہو رہے ہیں بھارت سیاحوں کو متوجہ کرنے کے لیے صف اول کے اداکاروں کو لے کر امیزنگ انڈیا’ سیو ہیرٹیج’ اپنا راجھستان جیسے خوش نما ناموں پر مشتمل کمپین چلاتے ہیں جس سے متاثر ہو کر غیر ملکی سیاح ہزاروں ڈالر خرچ کر کے ریت کے ٹیلوں اور اونٹ پر سواری کرنے آ بھی جاتے ہیں بھارت ڈسکوری ہسٹری اور نیشنل جیوگرافک جیسے چینلز پر ڈاکومینٹریز چلاتا ہے یہاں پاکستان میں ایسا کوئی رواج نہیں ایسا نہیں کہ ہم ایسا کر نہیں سکتے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم کرنا ہی نہیں چاہتے۔حکومت پاکستان کو چاہیے کہ سیاحوں کیلئے سہولیات انفراسٹرکچر اور سیکیورٹی پر بھرپور توجہ دے اور سب سے اہم اس ڈیجیٹل دور میں دنیا کو دعوت دینے کے لیے منظم کمپین ڈاکومینٹریز چلائے۔ اگر صرف سیاحت کی صنعت کو ہی فروغ دے دیا جائے تو ملکی خزانہ لبالب بھر جائے اور کسی سے قرض لینے کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

Facebook Comments
Share Button