GB News

گلگت بلتستان کی تاریخ و زبانوں کو نصاب کا حصہ بنانے کا اعلان

Share Button

 

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا کہ گلگت بلتستان کی تاریخ اور زبانوں کو نصاب کا حصہ بنایا جائیگا ، صد سالہ آزادی گلگت بلتستان کی اشاعت تاریخ کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے یہ کتاب کئی کتابوں کا مجموعہ ہے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی ثقافت،اپنی تاریخ،روایات اور زبانوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں اس مقصد کیلئے ضروری ہے کہ تاریخ اور زبانوں کو کتابی شکل دیکر نصاب کا حصہ بنایا جائے اس حوالے سے زبانوں کو کتابی شکل دینے کیلئے ایک فورم تشکیل دیاتھا جس نے یہ کام مکمل کر دیاہے آئندہ نئے تعلیمی سال میں مقامی زبانوں پر مشتمل ابتدائی قاعدہ نصاب میں شامل کیا جائے گا۔زبانوں پر کام کرنے والے فورم کو گلگت بلتستان کی تاریخ یکجا کرتے ہوئے متفقہ طور پر ایک تاریخی کتاب مرتب کرنے کاٹارگٹ دیاجائیگا اور اس کو کتابی شکل دیکر بہت جلد تاریخ کو بھی نصاب کا حصہ بنایاجائیگا۔
زبانیں’ثقافت اور تاریخ قوموں کا اثاثہ ہوا کرتے ہیں مقامی زبانیں ثقافت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں یہ حقیقت ہے کہ زبانیں بنیادی طور پر ابلاغ کا ذریعہ ہیں اور ابلاغ کے لیے بات پہنچا دینے کو ضروری تصور کیا جاتا ہے خواہ وہ چپ کی زبان میں ہی کیوں نہ ہوتاہم اس امر سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ بچہ اپنی ماں بولی ہی میں سمجھ سکتا ہے اس کا ناپختہ ذہن دوسری زبان کو سمجھنے کیلئے مشکل کا سامنا کرتا ہے اگر بالفرض محال وہ اس مشکل سے گزر بھی جائے تو بھی اس زبان کے تاثرات کو وہ اپنے اندر سمونے میں قطعی کامیاب نہیں ہو سکتا ہماری ناکامی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ستر سال گزرنے کے باوجود ہم یہ طے نہیں کر سکے کہ ہمارے نظام تعلیم کی زبان کیا ہوگی’ماضی میںقومی زبانوں کو پرائمری وسیکنڈری سطح پر ذریعہ تعلیم بنانے کی مہم زوروں پرتھی۔ ضیاء الحق نے ایک قانون گھڑ کر پرائیویٹ سیکٹر میں انگریزی سکولوں کی اجازت دی اور 1985 میں ان کا زور بڑھااور پھرنیا منظرنامہ آپ کے سامنے ہے۔ادھر عدالت عظمیٰ اردو کے حق میں فیصلہ صادر کرکے خود اپنے ہی جج صاحبان کو اردو میں فیصلے لکھنے کا پابند نہیں بنا سکی۔ مراعات یافتہ حکومتی طبقے تو عدالتی فیصلوں کو ایک طرف رکھ دینے کے عادی ہیں ہی۔ تعلیم و تدریس اور سرکاری امور میں پاکستانی زبانوں کو ان کا حق دلانے کی تحریکوں نے پچھلے عرصے میں زور پکڑا تو مذکورہ مقتدر طبقوں کے بے مغز ایجنٹوں نے ایک نام نہاد لسانی بل سینیٹ میں پیش کردیا تاکہ مختلف لسانی گروہوں میں تفریق اور تفرقہ کو ہوادی جائے۔سوال یہ ہے کہ کیا واقعی قومی یا مختلف مقامی زبانیں اپنے اپنے تاریخی ثقافتی اور لسانیاتی سیاق و سباق کے باوجود ایک دوسرے کی جگہ لے بھی سکتی ہیں ؟ اس حوالے سے تاریخ کا سبق کیا ہے ؟کیا صدیوں تک فارسی زبان کی ہرسطح پر حکمرانی نے سرائیکی، سندھی، بلوچی، بٹالوی، پشتو، ہندکو، پنجابی، کھوار، شینا یا دیگر زبانوں کو ختم کرکے فارس کو ان کی جگہ دلائی؟ یہ سبھی زبانیں ان جانے زمانوں سے دوش بدوش موجود ہیں۔ ان کے بولنے والوں میں کتنے تضادات یا فسادات سامنے آئے؟ اور کس زبان نے کسی دوسری زبان کو اپنے مخصوص علاقے سے یکسر بے دخل کردیا ؟ اردو کو 1860 کے بعد ایک نوآبادیاتی سکیم کے تحت پنجاب میں مسلمان زبان قرار دے کر نچلی سطحوں پر تعلیم وتدریس اور معدودے چند سرکاری امور میں استعمال کے لئے برتا جانے لگا۔ سوال یہ بھی ہے کہ پاکستان کی قومی زبان بن کر اس کا مرتبہ عملی طور پر کتنا بلند ہوا؟ اور وہ کس مقامی زبان کی جگہ لے چکی ہے؟کیا پچھلے ستر برس میں تدریسی سرکاری اور عدالتی امور وغیرہ میں انگریزی کا عمل دخل نوآبادیاتی دور سے کئی گنا زیادہ نہیں ہو گیا ؟نو آبادیاتی عہد میں زبانوں کی پالیسی اپنی نوعیت میں استعماری تھی۔ انگریزی زبان کو برصغیر کی تمام زبانوں’ان کے بولنے والوں اور ان کے ادب پر طاقت حاصل تھی’حقیقی سیاسی طاقت ، سرکاری زبان ہونے کی طاقت ، سماج میں عزت ومنصب کی طاقت۔نیز انگریزی بہ یک وقت جدیدیت، ترقی ، نئی اشرافیہ جماعت جوانگریزوں اور ہندوستانیوں کے درمیان کالے انگریزوں پر مشتمل تھی اور استعماری طاقت کی نمائندہ اور مظہر تھی۔باقی سب زبانوں کا مرتبہ وہی تھا جو انگریزوں کے مقابلے میں کالے ہندوستانیوں کا تھا۔ تاہم ان زبانوں نے نو آبادیاتی عہد میں ان تحریکوں کے نتیجے میں اچھی خاصی اہمیت حاصل کرلی تھی جو برطانوی استعمار کے خلاف شروع ہوئیں۔ ہمیں اپنی غلطیوں کے اعتراف کی عادت ڈالنی چاہیے۔ ہمیں اس ضمن میں غیروں کی سازشوں کا ہاتھ تلاش کرنے سے زیادہ یہ اعتراف کرنا چاہیے کہ پاکستان میں کثیر اللسانیت کے مسئلے کے حل کے لیے ایک باقاعدہ کل وقتی لسانیاتی وزارت کی ضرورت تھی جسے قائم کرنے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچا تک نہیں گیا، اسی طرح انگریز دور کی لسانی استعماری پالیسی کو تبدیل کرنے کی کوشش بھی نہیں کی گئی۔قومی زبان کا مسئلہ ہمارے یہاں ابتدا ہی سے سیاسی اور نظریاتی رہا ہے۔ایک سے زیادہ زبانوں، ثقافتوں ، مذاہب اور نظریات کو یکساں درجہ دینا، مخصوص قومیت کے احساس کے بغیراور گلوبل شہریت کا احساس پیدا کرنا پوسٹ نیشن کا بنیادی نکتہ ہوتا ہے۔ پوسٹ نیشن کا تصور قائم کرنے میں عالمگیریت کا بھی ہاتھ ہے۔ مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ ایک سے زیادہ زبانوں کو قومی زبانیں قرار دینا، بادی النظر میں ایک پوسٹ نیشن تصور کی قبولیت کا عمل ہے، مگر اس کا عملی نتیجہ ایک قومی زبان کے مختلف حریف پیدا کرنا ہے۔ واضح رہے کہ کوئی زبان بجائے خود کسی زبان کی حریف نہیں ہوتی، ریاست کی غیر مساوی پالیسیاں زبانوں کو ایک دوسرے کا حریف بناتی ہیں۔ہمیں یہ کہنے میں عار نہیں کہ ایک قوم کا تصور ،ایک سے زیادہ قومی زبانوں کے ساتھ کرنے کی مثالیں موجود ہیں۔ سب سے بڑی مثال سوئٹرزلینڈ کی ہے، جہاں چار قومی زبانیں ہیں: جرمن، فرانسیسی، اطالوی اور رومانش۔ حالانکہ آخری زبان کو بولنے والوں کی تعداد دو فیصد بھی نہیں۔تاہم وہ فیڈریشن نہیں،کنفیڈریشن ہے۔ دوسرے لفظوں میں لسانی اور ثقافتی تکثیریت کے ہوتے ہوئے بھی ،ایک قوم کا تصور کیا جاسکتا ہے اور ہم نے قوم کیلئے جن مشترک جذبات و تخیلات کا ذکر کیا ہے، وہ زبانوں اور ثقافتوں کی کثرت کے احترام اور ان کی ترقی کے یکساں مواقع پیدا کرنے کے ضمن میں بھی ہوسکتے ہیں۔بلاشبہ ان زبانوں کو قومی زبانیں قرار دے کر انھیں عزت و مقام دینے کی کوشش کی گئی ہے، مگر ایک بنیادی بات فراموش کر دی گئی ہے کہ ان زبانوں کو محض آئین میں قومی زبان جیسا عزت کا مقام دینے سے کہیں زیادہ ضروری ،ان کی ترقی کے لیے عملی اقدامات کرنا ہے۔ تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ انہیں قومی زبان کا مرتبہ دینے کے بعد بھی،ان کی حالت وہی رہے گی جو اردو کی بطور قومی زبان کی اب تک چلی آتی ہے۔قومی زبان کے نام پر سیاست ہوتی رہے گی۔دوسرا نکتہ یہ ہے کہ چارمقامی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دینے کے بعد باقی پاکستانی زبانوں کو ایک نئی جدوجہد پر مجبور کیا گیا کہ وہ بھی قومی زبان شمار کی جائیں۔ سرائیکی، براہوی، بلتی ،شینا، کھوار، ہندکو اور دوسری زبانیں بھی قومی زبانیں بننے کی جدوجہد کررہی ہیں اور ان کی جدوجہد کو بلا جواز سمجھنے کا کوئی جواز نہیں ۔ پہلے اردو کے مقابل پنجابی، سندھی، بلوچی ،پشتو کو لایا گیا، اب ان سب قومی زبانوں کے مقابل باقی پاکستانی زبانوں کو لایا جائے گا۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ مقامی زبانوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ ان کی ترویج واشاعت کو ممکن بنایا جائے اور انہیں مقامی سطح پر رائج کیا جائے جیسا کہ وزیراعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے جو درست سمت میں اہم قدم ہے۔

Facebook Comments
Share Button