GB News

سرکاری تعلیمی اداروں کی حالت زار

Share Button

ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان نے کہا ہے کہ سرکاری سکولوں کے نتائج انتہائی شرمناک ہیں ضلع نگر کے سرکاری سکولوں کے سالانہ نتائج میںبہتر فیصد طلباء وطالبات کا فیل ہونا اورصرف28فیصد کا پاس ہونا ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے انہوںنے کہاکہ گلگت بلتستان میں سرکاری سکولوں کے سالانہ نتائج انتہائی خراب ہیں پرائیویٹ سکولوں کے نتائج اچھے آتے ہیں مگر سرکاری سکولوں کے نتائج ہمیشہ خراب آتے ہیں آخر اس کی کیا وجہ ہے وزیر تعلیم اس کی وجوہات تلاش کر کے ایوان کوآگاہ کریں وزیرتعلیم ابراہیم ثنائی نے ایوان کوبتایا کہ ہنزہ نگر میں ہمیشہ سرکاری سکولوں کے نتائج ایسے ہی آتے ہیں اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کو اچھی تنخواہیں دینے کے باوجوداتناخراب نتیجہ کیوں ہے۔آخر تعلیم کا معیارکب بہترہوگا۔انہوںنے کہاکہ محکمہ تعلیم نے اساتذہ کو سرکاری دفاترمیں بٹھایا ہوا ہے جس کی وجہ سے خراب نتائج آرہے ہیں اور اس کا ذمہ دار کون ہے ہمیں آگاہ کیا جائے۔یہ درست ہے کہ جس طرح ہمارے ہاں ہر شعبہ ہائے زندگی زوال آمادہ ہے اسی طرح محکمہ تعلیم کی حالت زار بھی دگرگوں ہے کیونکہ اس شعبے کا کوئی پرسان حال نہیں اساتذہ بھی اپنی ذمہ داریاں پورا کرنے سے قاصر ہیں سرکاری سکولوں میں آوے کا آوا بگڑا ہوا ہے’آج بھی حالت یہ ہے کہ ہزاروں اساتذہ محکمہ تعلیم کے افسران کی ملی بھگت سے مفت سرکاری تنخواہیں وصول کرتے اور ضلعی تعلیمی افسران کو معقول رقم ادا کرنے کے بعد کبھی بھی دیہاتوں میں موجود سکولوں میں پڑھانے نہیں جاتے ہمارے بہت سے سرکاری سکول جو خصوصاً دیہاتوں میں قائم ہیں وہاں اساتذہ سرے سے ہی موجود نہیں ہیں۔ بجائے اسکے کہ کار پردازاں محکمہ تعلیم دیہاتوں اور قصبوں میں موجود سرکاری سکولوں اور کالجوں میں تعلیمی نظام کو بہتر بنانے اور اساتذہ کو ریگولر کلاسز پڑھانے پر آمادہ کرتے۔ انہوں نے محکمہ تعلیم کے محدود فنڈز کو نئے نئے تجربات کی بھینٹ چڑھانا شروع کر دیااس پر ستم ظریفی کہ ہمارے حکمران محکمہ تعلیم کی بیوروکریسی کی فنکاریوں کو سمجھنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ پہلی سے دسویں جماعت کے درمیان 70 فیصد بچے اپنی تعلیم مکمل کئے بغیر سکول چھوڑ دیتے ہیں۔جس سے صورتحال کی سنگینی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سکولوں میں داخل بچوں کی اکثریت سرکاری سکولوں میں زیرِ تعلیم ہے۔گزشتہ چند دہائیوں میں ان سرکاری سکولوں کے نصاب کے معیار ، طریقہِ تدریس اورانفراسٹرکچر میں بے پناہ تنزلی دیکھنے میں آئی ہے۔ سرکاری سکولوں کی حالتِ زار کی وجہ سے پرائیویٹ سکولوں کا جال بچھ چکا ہے۔اگرچہ پرائیویٹ سکولوں کے معیارِ تعلیم پر بھی ایک سیرحاصل بحث کی جاسکتی ہے پرائیویٹ سکولوں میں داخل بچے کم از کم ان بچوں سے تو بہتر ہیں جن کو آج تک کمرہِ جماعت اندر سے دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔ اگر پرائیویٹ سکولوں میں داخل یہ بچے اور ان کے والدین اس سکول کے تعلیمی معیار سے خوش نہیں تو کم از کم ان کے پاس دوسرے پرائیویٹ سکول میں داخل ہونے کا راستہ تو موجود ہے۔ اس کے علاوہ ان سکولوں میں نہ صرف بچے معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں بلکہ ان کو ڈیسک، اے سی یا پنکھے اور باتھ روم جیسی سہولیات بھی حاصل ہیں۔اگر اس ساری صورتحال کا دوسرا رْخ دیکھا جائے تو کسی بھی سکول میں داخل بچوں اور ان کے والدین کے پاس اور کوئی چارہ بھی تو نہیں ہے۔ یہ تمام بچے اور والدین دراصل ایک سکول مافیا کے ہاتھوں یرغمال بنے ہوئے ہیں۔تعلیم کے شعبے پر مافیا کے قبضے کا مطلب یہ ہے کہ کسٹمرز، یعنی طالب علم اور ان کے والدین، کے پاس سکولوں میں داخلے اور ان کے معیار کے حوالے سے انتہائی محدود آپشن ہیں۔ میں اپنے بچے کو اے ، بی ، سی میں سے کسی ایک سکول بھیج سکتی ہوں ، جس کی فیس دس ہزار سے کم ہوگی،اگر ہم سکولوں کی دونوں اقسام کا معیارِ تعلیم کے لحاظ سے موازنہ کریں تو دونوں اقسام کے درمیان زیادہ فرق نہیں پایا جاتا۔ یہی وجہ کہ پرائیویٹ سکول اپنی مرضی کے مطابق ہر سال اپنی سالانہ فیسوں میں اضافہ کرتے رہتے ہیں کیوں کہ ان کے مقابلے میں دوسرے سکول بھی یہی کام کررہے ہوتے ہیںلیکن دونوں اقسام کے سکولوں کے پاس فیسوں میں اضافے کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی۔اسی طرح پرائیویٹ سکولوں میں پڑھنے کے باوجود ان کے بچے سکول ٹا ئم کے بعد بھی ٹیوشن پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اگر بچے نے ٹیوشن ہی پڑھنی ہے تو پھر ان مہنگے سکولوں کی فیسیں بھرنے کا کیا فائدہ ؟ اس ساری صورتحال سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جب تعلیم کا پورا شعبہ ہی ہائی جیک کرلیا گیا ہو تو پھر قوانین پاس کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آج تک کسی بھی برسراقتدار جماعت نے ایسی تعلیمی پالیسی پیش نہیں کی’ جس کا تعلق پاکستان کے زمینی حقائق سے ہو اور غریبوں کے بچوں کو اس سے اسقدر استفادہ ہوا ہو کہ وہ ہنرمند بن کر زندگی میں کامیاب اور کامران ہوئے ہوں۔ اگر سرکاری تعلیمی نظام سے کچھ خوش قسمت افراد کامیابیوں کی منازل پر پہنچے ہیں تو یہ ان کی اپنی خوش قسمتی۔ کسی ایک آدھ پر خلوص استاد یا ماں باپ کی تربیت اور رہنمائی کا زیادہ کردار ہے تاہم اب تو ایسی صورت بالکل نظر نہیں آتی ہے کہ سرکاری شعبہ تعلیم سے کوئی نوجوان زندگی میں اعلیٰ مناصب پر پہنچ پائے۔ اس کی بڑی وجہ تعلیم کا کمرشل ہونا ہے اور پرائمری اور سیکنڈری سطح پر موجود سکولوں میں تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی’ مناسب عمارات کا نہ ہونا اور سائنس اور کمپیوٹر کی جدید لیبارٹریز کا موجود نہ ہونا اور اس پر مستزاد یہ کہ محکمہ تعلیم میں کرپشن اور روایتی سرخ فیتہ بھی موجود ہے۔تعلیم ہرانسان کا بنیادی حق ہے پڑھ لکھ کر ہی ایک قوم مضبوط بنتی ہے تعلیم کسی قوم کی ترقی میں ایک بھرپور کردار اد اکرتی ہے اور کامیابی کی طرف گامزن کرتی ہے پاکستان ان ممالک میں سرِ فہرست ہے جہاں بہت سارے تعلیمی مسائل درپیش ہیں۔موجودہ تعلیمی ڈھانچہ کمزوریوں سے بھرا پڑا ہے پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے جہاں اچھی تعلیم کا فقدان ہے اورقوم اچھی تعلیم سے محروم ہے یہاں کا ایجوکیشن سسٹم انٹرنیشنل معیار کا ہے ہی نہیں۔ ہمارا تعلیمی نظام اور نصاب اتنا کمزور ہے کہ وہ ہماری معاشرتی عکاسی ہی نہیں کرتا۔ اور اس پر دوہرا تعلیمی معیار، جب تک پاکستان میں دوہرا تعلیمی معیار موجودر ہے گا ،ہمارا تعلیمی ڈھانچہ اسی طرح مخدوش حالت میں ہی برقرار رہے گا۔اور صدیو ں تک ہم ذلت اور پستیوں کی دلدل میں دھنسے رہیں گے’بدقسمتی سے بہت سارے سکول گورنمنٹ کی ناقص پالیسیوں اور عدم توجہی کے باعث مالی بدعنوانیوں اور زبوں حالی کا شکار ہیں ان سکولوںمیں اساتذہ کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، اس کی وجہ پسند نا پسند پر اساتذہ کی بھرتیاں اور تبادلے، پرانی عمارتیں، ناقص سہولیات، معیاری نصاب اور اساتذہ کی عدم دستیابی، فنڈز کی کمی اور اس میں کرپشن ، محکمہ تعلیم سے منسلک اعلیٰ حکام کی عدم توجہی جیسے گمبھیرمسائل ان سرکاری سکولوں سے جڑے ہوئے ہیں۔کبھی اپنے ارد گرد موجود کسی سرکاری سکول میں چلے جائیں تو محسوس ہو گا کہ کسی بھوت بنگلہ میں آ گئے ہیں یا کوئی آثارِ قدیمہ دیکھ رہے ہیں بوسیدہ عمارتیں،ٹوٹی پھوٹی دیواریں،گھن زدہ کھڑکیاں اور دروازے،گندے پانی اور جوہڑوں سے اٹے میدان اور تعلیمی سرگرمیوں کا حال یہ ہے کہ سکول میں بچے تو ہیں مگر استاد موجود نہیں استاد کیوں موجود نہیں کیونکہ اس کے پیچھے ہاتھ تگڑا ہے اس کی بھرتی سیاسی ہوئی ہے اس لئے اس کا سکول آنا کوئی ضروری نہیں وہ گھر بیٹھے ہی تنخواہ وصول کر رہے ہیںکیونکہ ہمارے ہاں اقرباء پروری اور سیا سی وابستگی ہی اعلیٰ معیار گردانی جاتی ہے۔ اسلئے ضروری ہے کہ سرکاری تعلیمی اداروں کی صورتحال کی بہتری کیلئے حوصلہ افزاء اقدامات کیے جائیں تاکہ معیار تعلیم میں بہتری لائی جا سکے۔

Facebook Comments
Share Button