GB News

صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی

Share Button

 

گورنر گلگت بلتستان راجہ جلا ل حسین مقپون اوروفاقی وزیر برائے صحت اینڈ ریگولیشن سروسزاینڈ کوآرڈینیشن عامر محمود کیانی کی ملاقات میں گلگت بلتستان میں صحت کے شعبے میں درپیش مسائل اور وفاقی حکومت کے گلگت بلتستان میں جاری صحت کے پروگرامز اور جاری منصوبوں کے حوالے سے گفتگو ہوئی۔وفاقی وزیر صحت نے گورنر گلگت بلتستان کے درخواست پر دوموبائل ہسپتال فراہم کرنے کے احکامات دیئے جو جدید مشینری سے لیس ہیں۔ ان موبائل ہسپتالوں میں سے ایک سکردو اور دوسرا گلگت ڈویژن کو دیاجائے گا۔جنوری کے مہینے میں 50ہزار فیملی ہیلتھ کارڑز گلگت بلتستان میں تقسیم کئے جائیں گے جس سے گلگت بلتستان کے نادار اور غریب مریض ملک کے بہترین ہسپتالوں میں اپنے علاج کروا سکیں گے ہیلتھ کارڑکے اجراء سے غریب اور مستحق لوگوں کو بھی جدید طبی سہولیات موثر ہوں گی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گلگت بلتستان میں جلد نرسنگ ٹریننگ کالج کا سنگ بنیاد رکھا جائے گا جس سے گلگت بلتستان کے سٹوڈنٹس کو گلگت بلتستان میں ہی نرسنگ کی جدید تعلیم سے آراستہ کیا جائے گا۔اس کالج کے قیام سے گلگت بلتستان میں روزگار کے بھی بہت سے مواقع ملیں گے۔وفاقی وزیر صحت نے گورنر گلگت بلتستان کو یقین دلایا کہ وہ ضلع سکردو میں MRIمشین فراہم کریں گے اور گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں الٹراسائونڈ مشینیں اور دیگر اہم مشینری فراہم کی جائے گی۔گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کااسلام آباد کے تمام ہسپتالوں میں ترجیحی بنیادوں پر علاج کیا جائے گا اور تمام طبی سہولیات میسر کی جائیں گی اور بہت جلد وفاقی حکومت گلگت بلتستان کے عوام کے لیئے جدید طرز کے دو ہسپتال بنائے گی تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو دیگر صوبوں کے برابر صحت کے سہولیات میسر ہوں اور تمام بیماریوں کا علاج اپنے ہی علاقے میں ممکن بنایا جا سکے۔صحت عامہ کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے لیکن ہمارے ہاں صحت کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں سرکاری ہسپتالوں میں تو حالت زار ناقابل بیان ہے کیونکہ ملنے والے فنڈز باہمی ملی بھگت سے ہڑپ کر لیے جاتے ہیں حالانکہ اگر مختص کردہ فنڈز کا درست استعمال کیا جائے تو صورتحال میں نمایاں تبدیلی ہو سکتی ہے اور عوام کو ریلیف مل سکتا ہے مگر کرپشن کی دلدل میں سرتاپا دھنسے ہوئے یہ سوچنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے یہ غریبوں ومسکینوں کا مال ہے حالت یہ ہے کہ زکواة و خیرات کا مال تک نہیں چھوڑا جاتا’خوش آئند بات یہ ہے کہ گلگت بلتستان جہاں صحت عامہ کی سہولیات بہت کم ہیں وفاقی وزیر نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرا کر عوام کے دل جیت لیے ہیں گلگت بلتستان میں جدید ہسپتالوں اور صحت کی سہولیات فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ علاج مہنگا ہونے کے باعث لوگوں کیلئے پرائیویٹ سطح پر علاج کرانا ناممکنات میں سے ہو گیا ہے حالانکہ صحت کے بغیر انسانی زندگی کا تصور ممکن نہیں لیکن بدقسمتی سے اس وقت جہاں دیگر مسائل جنم لے رہے ہیں وہاں پر صحت کی اہمیت کو نظر انداز کیا جا رہا ہے یہاں کی زیادہ تر آبادی دیہات میں رہائش پذیر ہے اور دیہات میں بہتر طبی سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ شہروں کی طرف رخ کرتے ہیں۔سرکاری ہسپتالوں کی صورتحال یہ ہے کہ ایک بستر پر تین تین مریض ہوتے ہیں اور ہسپتال میں آئے ہوئے مریضوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جاتا ہے۔حکومت کو چاہیے کہ خدارا ان سرکاری ہسپتالوں کی حالت کو بہتر بنایا جائے انسانیت کا درد رکھنے والے ڈاکٹروں کو مریضوں کے علاج پر مامور کیا جائے۔ جو لوگ دوائیں نہیں خرید سکتے ان کو حکومت مفت دوائیں فراہم کرے۔ اس کے علاوہ ان ہسپتالوں کو وہ تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں جس سے انسانی زندگی کو بچایا جا سکے۔نظام صحت کا اولین اور اہم ترین جزو اس کا مشن اور حکمت عملی ہے پاکستان نے اقوام متحدہ میں جاری پائیدارترقیاتی اہداف پر دستخط کیے جہاں ہدف نمبرتین کے تحت اچھی صحت اوربہبود کے ضمن میں منتقل ہونے والی بیماریوں کو ختم کرنا، عالمی صحت کی دیکھ بھال اور 2030 تک محفوظ اور مؤثر ادویات اور ویکسین تک رسائی فراہم کرنا پیش نظررکھا گیا ہے تاہم یہ ایک غیر حقیقی ہدف ہے جسے خواہ بطورانتہائی سیاسی ترجیح نافذ کیا جائے ، اس پہ بے دریغ پیسہ خرچ کیا جائے یا جارحانہ قوت سے نافذ کرنے کی کوشش کی جائے حاصل نہیں کیا جاسکتاحل یہ ہے کہ صحت کے اہم مسائل کی نشاندہی کی جائے، انہیں قابل عمل اہداف میں بانٹ دیا جائے، اثرات اور مشکلات کے تجزیہ کے مطابق ترجیحی مسائل کا انتخاب کریں اور مختلف علاقوں کے آبادی کی ضروریات کے مطابق ان کو ڈھالا جائے، ہر علاقے میں ہر مسئلے کے لئے کامیابی کے امکانات کا تخمینہ لگا کر موثر ترسیل اور عمل درآمد کے لئے حل پیش کیا جائے ہمارے ہاں نظام صحت کا بنیادی ڈھانچہ ایک درخت کی مانند ہے جس کی وسیع ترجڑیں تین شاخہ ساخت تک پھیلی ہوئی ہیں : بنیادی دیکھ بھال ، ثانوی دیکھ بھال اور تیسرے درجے کی دیکھ بھال بنیادی دیکھ بھال ، بی ایچ یوز’دیہی ہیلتھ سینٹر جو ملحقہ آبادی اور ڈسپنسریوں پر مشتمل ہے ثانوی صحت کی دیکھ بھال تحصیل ہیڈکوارٹر اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتالوں پہ مشتمل ہے جبکہ تیسرے درجہ کا نظام صحت ٹیچنگ اسپتالوں اور خصوصی ہسپتالوں پر مشتمل ہے یہ نظام دیہی اور شہری علاقوں کی آبادی تک زیادہ سے زیادہ رسائی کو یقینی بناتا ہے مسئلہ تاہم اس مجوزہ دیوہیکل بنیادی ڈھانچے کی فعالیت کے ساتھ پیدا ہوتا ہے اس سہ شاخہ ترکیب میں، اس کی بنیادوں کو سب سے کم سرمایہ اور افرادی قوت فراہم کی گئی ہے ۔مندرجہ بالا مسائل کا حل یہ ہے کہ فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی جائے، اعلی سطحی ہیلتھ کیئر کی بجائے بنیادی سطح پر کوٹا میں اضافہ کرنا چاہئے تمام بی ایچ یوز،آر ایچ سی اور ماں اور بچے کی دیکھ بھال کے مرکز کے ساتھ ساتھ ٹی ایچ کیوز اور ڈی ایچ کیوز کی ری ویمپنگ کرنا خاص طور پران علاقوں میں جہاں ہیلتھ کیئر تک رسائی بہت کم ہے’ سپیشلائزڈ ہسپتالوں کی مجموعی استعداد کار کو پاکستان بھر سے آنے والے مریضوں کی کثرت کے باعث بڑھایا گیا ہے جواعلی اور معیاری طبی نگہداشت حاصل کرنے کیلئے ان مراکز کا رخ کرتے ہیں تاہم، اس سے خدمات کا معیارناقص ہوگیا ہے۔تمام مراکز صحت ان کے نامزد مریضوں کا ایک ڈیٹا بیس رکھیں جو علاج میں مدد ، پیروی اور مثبت طبی نتائج فراہم کرے’ سرکاری میڈیکل اداروں میں بڑی تعداد میں داخلہ لینے والی خواتین طالبات میں سے کچھ ڈگری مکمل کئے بغیر چھوڑ دیتی ہیں، کچھ جوان میں سے تعلیم مکمل کرلیں تو انہیں پریکٹس کی اجازت نہیں ملتی جبکہ کچھ اپنی مرضی سے ملازمت نہیں کرتی ہیں ان میں سے تقریبا نصف ایسی ہوتی ہیں جو آگے پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ تک پہنچ پاتی ہیں جب ان خاتون ڈاکٹروں کو دور دراز علاقوں میں واقع آر ایچ سی اور بی ایچ یو کے لئے منتخب کیا جاتا ہے تو، وہ کبھی سماجی اورکبھی سیکیورٹی کے وجوہات کے باعث اس پرعملدرآمد نہیں کرتیں پیشہ وارانہ لحاظ سے بھی ان کے لئے یہ زیادہ نفع بخش ہوتا ہے کہ وہ دیہی علاقوں کے بجائے بڑے شہروں کے ٹیچنگ ہسپتالوں یا خصوصی ہسپتالوں یا پھر چھوٹے شہروں میں ہی رہیںحالانکہ عملی طور پر فعال افرادی قوت کا ہونا نہایت ضروری ہے’اس تناظر میں ضروری ہے کہ حکومت صحت عامہ کے پھیلائو کو یقینی بنائے اس کے لیے مختص بجٹ میں اضافہ کرے ہر ڈسٹرکٹ میںکم از کم 200بستروں کا ہسپتال بنائے جس میں تمام جدید سہولیات اور عملہ موجود ہو ان ہسپتالوں کی گنجائش میں اضافے کی بھی کوشش کی جاتی رہے تاکہ ضرورت پوری ہوتی رہے اور مریضوں کو مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

Facebook Comments
Share Button