GB News

فوج کی جانب سے تعلیم و صحت کی سہولتیں بہم پہنچانے کا عزم

Share Button

فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود نے کہا ہے کہ پاکستان فوج گلگت بلتستان میں تعلیم ، صحت اور دیگر شعبوں میں گراں قدر خدمات سرانجام دے رہی ہے۔ بلتستان کے دور افتادہ اور بالائی علاقوں میں تعلیم و صحت کی سہولتیں پہنچانے کیلئے ہم پوری طرح کوشاں ہیں، شگر برالدو کے 10گائوں میں تعلیم اور صحت کی سہولتیں فوری پہنچائی جائیں گی اور یہاں کے لوگوں کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کر لیے جائیں گے ،فورس کمانڈر نے اپنے خطاب میں کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام بڑے محب وطن ہیں یہاں کے لوگوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں،عوام کی امنگوں کے مطابق مسائل حل کرنا پاک فوج کی اولین ترجیح ہے۔ دور افتادہ اور بالائی علاقوں میں پاک فوج میڈیکل کیمپ لگائے گی اور ان کیمپوں سے ریفر کردہ مریضوں کو سی ایم ایچ میں مفت علاج و معالجے کی سہولتیں دی جائیں گی، ضرورت پڑنے پر ایسے مریضوں کو اسلام آباد بھی ریفر کر دیا جائے گا، پاک فوج اب عوام کے پاس پہنچ گئی ہے اب ان کے مسائل حل ہوئے بغیر نہیں رہیں گے، ہماری پوری کوشش ہے کہ تعلیم و صحت کی ترقی کیلئے جامع منصوبہ ترتیب دیا جائے عوام کسی مسئلے پر پریشان نہ ہوں کیونکہ فوج عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔بلاشبہ پاک فوج کی خدمات ناقابل فراموش ہیں جس نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں جہاں ان کی ذمہ داری بھی نہیں تھی خدمات انجام دی ہیں جو کام حکومتوں کے کرنے کے تھے پاک فوج وہ بھی کرتی رہی تاکہ عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم ہو سکیں’ بیرونی اور اندرونی محاذوں پر اس نے اپنے فرائض بہترین انداز میں سرانجام دیئے ہیں۔ یہ پاک فوج کے جوان ہی ہیں جو سیاچن جیسے کٹھن محاذ پر جہاں ہر قدم پر موت منہ کھولے کھڑی ہے اپنی جانوں پر کھیل کر ملک و قوم کی حفاظت کر رہے ہیں۔ پاک فوج کے جوانوں کی جگ رتوں کے باعث ہی قوم میٹھی نیند سوتی ہے پاک فوج کی 70 برس کی تاریخ اس حقیقت کو بھی اْجاگر کرتی ہے کہ اس نے وطن عزیز کی سلامتی، خود مختاری اور آزادی کو یقینی بنانے کیلئے دفاعی اعتبار سے گرانقدر خدمات انجام دیں۔ صرف یہی نہیں پاک فوج نے دنیا کے مختلف علاقوں میں امن قائم کرنے کی خاطر اقوام متحدہ کے امن دستوں میں شامل ہو کر قابل تحسین کردار ادا کیا۔ اسی طرح جب نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کا طبل بجایا گیا تو پاک فوج اس کے سرخیل دستے میں شامل ہوئی چنانچہ گزشتہ عرصہ میں پاک فوج نے جان و مال کی ناقابل تلافی قربانیاں دے کر دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی کمر توڑ کر رکھ دی ۔ بین الاقوامی برادری کو خوب احساس بلکہ یقین ہے کہ پاکستان نا صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر میں قیام امن کی خاطر نتیجہ خیز کردار ادا کر رہا ہے۔ اس سلسلے میں وطن عزیز کی سیاسی اور عسکری قیادت میں مکمل ذہنی ہم آہنگی موجود ہے اور عوام اپنی فوج کے پرجوش حامی ہیں۔ ستر سالہ تاریخ کی جھولی میں واحد ادارہ فوج ہی تو ہے جس پر فخر کیا جا سکتا ہے۔ اس فخر کے کئی ایک پہلو ہیں ان پہلوؤں میں خدمات بھی ہیں ، ترقی بھی، انسانی خدمات بھی، قومی جذبہ بھی، فوجی مہارت بھی، قربانیوں کی لازوال داستانیں بھی۔ پاک فوج نے اپنی صلاحیتوں کو وقت کی رفتار سے بڑھایا۔ جنگی جہاز بنائے، جدید ٹینک بنائے، سب میرین شپ اور آرمڈ پرسنل کیریئر سمیت جدید ترین ہتھیاروں پر توجہ دی، ڈیفنس انڈسٹری قائم کی۔ ڈیفنس ایکسپورٹ پروموشن آرگنائزیشن بنائی گئی تاکہ پاکستانی اسلحہ پرموٹ ہوسیاچن کے بلند ترین جنگی محاذ پر پچھلے33 سالوں میں پانچ ہزار زندگیاں اپنی بازی ہار چکی ہیں۔ ان میں ایک ہزار پاکستانی سپوت شہید ہو چکے ہیں جبکہ چار ہزار بھارتی فوج ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیاچن میں انسان زندگیاں موسم کی شدت کے ہچکولوں میں کھیلتی ہیں یہاں لینڈ سلائیڈنگ بہت ہوتی ہے ہوا میں آکسیجن کی کمی ہے اٹھارہ ہزار فٹ کی بلندی پر موسم، دشمن سے بھی زیادہ خطرناک ہوتا ہے۔ کارگل آپریشن پاک فوج کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا، ہماری قوم اپنی فوج کی فائیو بٹالین کے سپوتوں، کمانڈروں پر فخر کر سکتی ہے کہ انہوں نے دشمن کو زیر کیا۔ پاک فوج بھارت سے نہیں لڑی بلکہ اس نے ایک سپر طاقت کو بھی شکست سے دو چار کیا۔ 1979 میں روسی فوج نے افغانستان میں مداخلت کر کے ڈیورنڈ لائن کراس کرنے کی کوشش کی۔ بحر ہند کے گرم پانیوں تک رسائی اس کی خواہش تھی۔ اس کی خواہش خاک میں ملانے میں پاک فوج کا کردار تاریخی تھا۔ امریکا اور چند مسلمان ریاستوں کی مدد سے افغان مجاہدین روس کے سامنے دیوار بن گئے، روس کے ٹکڑے ہو گئے۔ روس چھوٹی ریاستوں میں تقسیم ہو گیا۔
نائن الیون کے بعد جو عالمی صورتحال پیدا ہوئی۔ اس میں بھارت نے فائدہ اٹھانے کی آرزو میں اپنی فوجیں سرحدوں پر لگائیں مگر اس کے دس مہینوں کی کاوشیں بے سود ثابت ہوئیں۔اگر پاک فوج کو مہارت کے آئینے میں دیکھا جائے تو سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ پاک فوج کی اس بے مثال پوزیشن کی وجہ شاندار ملٹری ٹریننگ کا نظام ہے۔ پاک فوج نے پاکستان کے اندر اور ملک سے باہر بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔ ان خدمات کا خاصہ رہا ہے کہ یہ انسانیت کی بہتری کی خواہش میں انجام دی گئیں۔ 1960 سے پاک فوج اقوام متحدہ کے ثقافتی، سیاسی استحکام کے پروگراموں، امن مشنوں اور زندگی کی آبادکاری کے پروگراموں میں شامل رہی ہے۔ پاک فوج کی ان خدمات کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اندرون ملک بھی آفات میں فوج سب سے آگے ہوتی ہے۔ اکتوبر 2005 کے زلزلے کے بعد پاک فوج نے شاندار خدمات انجام دیں۔ 2010 کا سیلاب ہو یا پھر 2013 میں آواران زلزلہ، پاک فوج کی خدمات مثالی ہیں۔ 2015 میں جب چترال، گلگت بلتستان، جنوبی پنجاب اور سندھ میں سیلاب نے تباہی مچائی تو بحالی کا کام پاک فوج نے کیا۔قومی خدمت کے جذبے سے سرشار ہماری مثالی فوج ہر مشکل گھڑی میں مصیبت کے ہر لمحے میں اپنے لوگوں کے ساتھ نظر آئی۔ الیکشن میں سکیورٹی کا مسئلہ ہو یا پھر محرم میں امن و امان کا مسئلہ ہو۔ پاک فوج اپنے فرائض جانشانی سے انجام دیتی ہے۔ کئی تہوار ایسے آتے ہیں کہ امن و امان مسئلہ بنا ہوتا ہے۔ اس مرحلے پر بھی پاک فوج کام آتی ہے۔ آرمی ہمیشہ سول حکومت کی مدد کرتی ہے۔ خواہ وہ مردم شماری کا مرحلہ ہو خواہ وہ واپڈا کے مسائل ہوں یا پھر پنجاب میں گھوسٹ سکولوں کی تلاش ہو۔ یہ خدمات جذبہ حب الوطنی کے تحت پاک فوج انجام دیتی ہے۔پاک فوج ملک کے اندر اور باہر ریلیف کے کاموں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ مل کر فوج وہاں بہت کام کر رہی ہے۔ وہاں تعلیم، صحت پرخاص توجہ دے کر اور روزگار کے نئے مواقع بنا کر غربت کو دور کیا جا رہا ہے۔ پاک چین اقتصادی راہداری یعنی سی پیک ایک بہت بڑا منصوبہ شروع کیا گیا ہے۔ کاشغر سے لے کر گوادر تک پاک فوج نے اس کی حفاظت کو یقینی بنایا ہوا ہے۔ اب بلوچستان ترقی کے راستے پر ہے۔ قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں پاک فوج نے تعلیم صحت اور انفراسٹرکچر کے میدان میں گراں قدر خدمات انجام دیں اس تناظر میں اگر پاک فوج نے گلگت بلتستان میں جہاں وہ پہلے ہی متعدد شعبوں میں تیزی سے پیشرفت کر رہی ہے یہاں تعلیم کے فروغ اور صحت عامہ کو بہتر بنانے کا عزم کیا ہے تو امید کی جا سکتی ہے کہ ان دونوں اہم شعبوں میں پائی جانے والی خامیوں کا تدارک ہو گا اور لوگوں کو تعلیم وصحت کے حوالے سے وہ سہولیات بھی دستیاب ہو سکیں گی جو انہیں پہلے حاصل نہیں ہو سکیں۔

Facebook Comments
Share Button