GB News

حکومت گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری واپس لے، سینیٹ اپوزیشن

Share Button

سینیٹ میں اپوزیشن ارکان نے حکومت سے گیس اور بجلی کی قیمتوں میں اضافہ فوری طور پر واپس لینے کا مطالبہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف جانے کے شوق میں بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی ہیں یہ غریب سے کس چیز کا بدلہ لینا چاہتے ہیں تاریخ میں اتنی مہنگائی نہیں ہوئی جتنی اس حکومت نے کی، وقت سے پہلے بات کرلیتے ہیں اور پھر کام نہیں کرسکتے، آج تک جتنے قرضے لئے گئے ہیں یہ کہاں استعمال ہورہے ہیں ہمیں یہ بتایا جائے،کشکول کا رواج مارشل دور میں رکھا گیا، دوسروں کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہئے، تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ سی پیک کے منصوبے مہنگے ہیں اور ان میں کرپشن ہوئی ہے لیکن اب جو مشترکہ اعلامیہ آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ بجلی کے منصوبے سب سے بہتر اور سستے لگے ہیں اور ان میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی ہے، قرضے داخلہ اور خارجہ کی پالیسیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں، کن شرائط پر قرضے لئے جارہے ہیں، ان خیالات کا اظہار جمعرات کو سینیٹ میں سینیٹر جاوید عباسی ، میر حاصل خان بزنجو ، عثمان خان کاکڑ اور سردار اعظم خان موسی خیل نے کیا ۔سینیٹر اعظم خان موسیٰ خیل نے کہا کہ وزیراعظم اعلان کرچکے ہیں کہ کشکول توڑیں گے اور کسی ملک سے قرضہ نہیں لیں گے، وزیراعظم نے کہا کہ قرضے نہیں لیں گے خودکشی کرلیں گے انہوں نے اپنے اعلان کی نفی کی ہے۔ اس ایوان کی عزت کی پامالی ہورہی ہے۔ وزراء ٹائم پر نہیں آتے یہ شہنشاہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایوب دور میں قرضے لینے کی روایت ڈالی گئی کشکول کا رواج مارشل دور میں رکھا گیا۔ ہم نے پہلے دن سے ہی کہا ہے کہ یہ حکومت دھاندلی زدہ ہے ہم اسے نہیں مانتے۔ یہ عوام کے ووٹوں سے نہیں آئے۔ اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے گوادر کو قصبہ کہا ،گوادر قصبہ نہیں اس دنیا کا جنت کا ٹکڑا ہے۔ وسائل ہمارے ہیں لیکن ہم ان سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاہور سے چین کے لئے ایک بس روانہ ہوئی یہ بس اسلام آباد سے روانہ ہونی چاہئے تھی۔ انہوں نے کہا کہ آج تک جتنے قرضے لئے گئے ہیں یہ کہاں استعمال ہورہے ہیں ہمیں یہ بتایا جائے۔ ہم ناانصافیوں کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی جنگ میں فریق نہیں بننا چاہئے۔ آئندہ پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر معاہدے کئے جائیں۔ سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ وزیراعظم نے سعودی عرب کے دو دورے کئے ہیں الیکشن جیتنے کے بعد وزیراعظم نے کہا کہ پہلے حکمران مانگنے کے لئے جایا کرتے تھے حکمران مانگنے جاتا ہے تو لوگوں کے سر جھک جاتے ہیں۔ مجھے یقین تھا کہ وزیراعظم اپنی بات پر قائم رہیں گے۔ جاوید عباسی نے کہا کہ وزیر اعظم کے سعودی عرب کے پہلے دورے میں سعودیہ عرب نے کیا شرائط رکھی تھیں وہ ایوان کو بتائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف حکومت میں چین کے صدر نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کیا جب نواز شریف چین گئے تو 46ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو بڑھا کر 56ارب ڈالر تک کردیا گیا ہم قرضہ مانگنے نہیں گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف والے کہتے تھے کہ سی پیک کے منصوبے مہنگے ہیں اور ان میں کرپشن ہوئی ہے لیکن اب جو مشترکہ اعلامیہ آیا ہے اس میں کہا گیا ہے کہ یہ بجلی کے منصوبے سب سے بہتر اور سستے لگے ہیں اور ان میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی ہے۔

Facebook Comments
Share Button