GB News

بھائی کی جگہ کسی اور کو امتحان دینے دو، استاد نے استاد کو پیٹ ڈالا

Share Button

میرا بھائی امتحان پاس نہیں کرسکتا،ممتحن نے متبادل کو امتحان کیلئے کیوں نہیں چھوڑا، ہائی سکول چلاس کے مدرس عبادت اللہ نے تاکیہ ہائی سکول کے ٹیچر آصف الدین پر حملہ کردیا اور سرپھوڑ کر لہولہان کر دیا۔چلاس کے غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے انتہائی قابل اور فرض شناس مدرس آصف الدین جو کہ تاکیہ ہائی سکول میں پڑھارہا ہے اور آج کل قراقرم بورڈ کے تحت ہونے والے میٹرک کے سپلمینٹری امتحانات کیلئے قراقرم بورڈ کی طرف سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کے فرائض سرانجام دینے کیلئے نامزد کیا گیا ہے ۔ہائی سکول چلاس میں ہونے والے میٹرک کے سپلمنٹری امتحانات کے دوران جب پہلے روز ہائی سکول چلاس کے مدرس عبادت اللہ نے اپنے بھائی کی جگہ متبادل کو امتحان دینے کیلئے امتحانی ہال میں داخل کرانے کی کوشش کی تو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ نے متبادل آنے والے اُمیدوار کو پہچان لیا اور انہیں امتحانی ہال سے باہر کردیا، اس دوران مدرس عبادت اللہ اور ڈپٹی سپرنٹنڈٹ کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور دھمکی آمیز جملوں کا تبادلہ بھی ہوا، اگلے روز جب ممتحن آصف الدین امتحان لینے کیلئے چلاس ہائی سکول کے قریب پہنچا تو مدرس عبادت اللہ نے ممتحن پر محض اس وجہ سے حملہ کر دیا کہ ان کے بھائی کی جگہ امتحان دینے کیلئے آنے والے متبادل کو کیوں امتحان کیلئے نہیں چھوڑا گیا۔غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے ممتحن نے خون میں لت پت ہوکر پولیس کے پاس جانے کی کوششیں کیں تو معاشرے کے بے حس لوگوں نے روکا اور آصف الدین زار و قطار ڈپٹی ڈاریکٹر ایجوکیشن کے آفس پہنچ گیا اور اپنے اوپر ہونے والے حملے سے متعلق درخواست گزار دی، لیکن اب تک حملہ آور کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے ، باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ ایجوکیشن دیامر کے زمہ دار آصف الدین کو پریشرائز کرکے معاملے کو دبانا چاہتے ہیں۔دیامر پولیس بھی اب تک واقعے سے لاعلم دکھائی دے رہی ہے ۔حکومت اور زمہ دار حکام کو چاہیے کہ واقعے کا نوٹس لیں اور مظلوم ممتحن آصف الدین کو انصاف دلائیں۔ورنہ آج اُستاد کے ہاتھوں اُستاد پٹ گیا ہے تو کل ضرور طالب علم کے ہاتھوں استاد پٹے گا۔ڈپٹی ڈاریکٹر ایجوکیشن فقیر اللہ نے کہا کہ واقعے کی شفاف تحقیقات کررہے ہیں ،جلد متاثرہ ممتحن کو انصاف دلائیں گے۔ایس پی دیامر رائے اجمل نے کہا کہ واقعے کا نوٹس لیا ہے ملزم کو جلد گرفتار کریں گے۔

Facebook Comments
Share Button