تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

محمد بن سلمان نے خاشقجی کے قتل کے وقت 11 میسجز کیے: سی آئی اے کا دعویٰ

Share Button

امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے صحافی جمال خاشقجی کے وقت اپنے مشیر اور صحافی کے قتل میں ملوث اسکواڈ کے سربراہ کو 11 میسجز کیے۔

سعودی صحافی جمال خاشقجی کو دو اکتوبر کو ترکی کے شہر استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا تھا۔

ترک حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات ترکی میں کرانے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن سعودی حکومت کا مؤقف ہے کہ چونکہ واقعہ سعودی قونصلیٹ میں ہوا ہے اس لیے اس کی تحقیقات بھی سعودی عرب میں ہوں گی۔

جمال خاشقجی کے قتل میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے مبینہ طور پر ملوث ہونے کا شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے تاہم سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر اس الزام کی سختی سے تردید کر چکے ہیں۔

شہزادہ محمد بن سلمان ان دنوں ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں ہونے والے جی ٹوئنٹی اجلاس میں شریک ہیں جہاں فرانسیسی صدر اور برطانوی وزیراعظم نے ان کے سامنے جمال خاشقجی کا معاملہ اٹھایا اور اس کی شفاف تحقیقات پر زور دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی جی ٹوئنٹی اجلاس میں شریک ہیں تاہم انہوں نے اس حوالے سے کسی قسم کی گفتگو سے گریز کیا ہے۔

ایسے میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ دو اکتوبر کو جمال خاشقجی کی گمشدگی اور قتل کے وقت شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے مشیر سعود القحطانی کو چند گھنٹوں کے دوران 11 میسجر کیے تھے۔

امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق سی آئی اے کا خیال ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 15 رکنی اسکواڈ کی سربراہی سعود القحطانی کر رہے تھے اور وہ براہ راست محمد بن سلمان سے رابطے میں تھے۔

سی آئی اے کی جانب سے یہ نہیں بتایا گیا کہ محمد بن سلمان اور سعود القحطانی کی جانب سے ان میسجر میں کیا کہا گیا۔

یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ محمد بن سلمان نے اگست 2017 میں سعود القحطانی سے گفتگو میں کسی شخص کو سعودی عرب لانے یا پھر دوسرے ملک میں ہی ٹھکانے لگانے سے متعلق بات کی تھی۔

سی آئی اے کا خیال ہے کہ یہ گفتگو جمال خاشقجی سے متعلق ہی کی گئی تھی۔

قحطانی کو اس کے بعد عہدے سے برطرف کر دیا گیا تھا لیکن کہا جاتا ہے کہ سعود القحطانی سعودی عرب میں بہت اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور خیال ہے کہ انہوں نے جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کی سربراہی محمد بن سلمان کی اجازت سے ہی تھی۔

Facebook Comments
Share Button