تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دبا کا شکار رہے ہیں،چیف جسٹس

Share Button

اسلام آباد(آئی این پی) چیف جسٹس آ ف پاکستان جسٹس ثا قب نثار نے کہا ہے کہ گزشتہ 60 برسوں میں بڑھتی ہوئی آبادی کنٹرول کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی،وسائل محدود اور ضرورت لامحدود ہیں،آبادی کی وجہ سے ہمارے وسائل مسلسل دبا کا شکار رہے ہیں، آبادی ایسے ہی بڑھتی رہی تو 30سال بعد پاکستان کی آبادی45کروڑ ہوگی، بڑھتی ہوئی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلیے سپریم کورٹ نے جو حصہ ڈالنا تھا وہ ڈال دیا ہے اب ہمیں آبادی پر قابو پانے کے لیے آگاہی پھیلانی ہے اور اس حوالے سے عملی کام کرنے کا وقت ہے کیونکہ پاکستان کی بقا کیلئے ہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے،بدھ کو چیف جسٹس ثاقب نثار نے سمپوزیم میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے اپنی جوانی میں کچھ وقت ملا استادد امن کی صحبت میں وقت گزار پایا، ملک میں وسائل محدود اور ضروریات لامحدود ہیں، ملک میں آبادی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ 60سال میں ہم نے آبادی کے کنٹرول پر توجہ نہیں دی، لاہور جسے شہر تعمیرات سے بڑھ گئے، تعمیرات کی بھر مار سے سبزہ زاروں میں کمی ہوئی، پاکستان میں پانی کے نظام پر توجہ نہیں دی گئی، تیزی سے بڑھتی آبادی پر توجہ کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم تحقیقات کرائیں 40سال سے ڈیم کیوں نہیں بنا، آنے والے دنوں میں پانی کا مسئلہ مزید شدت اختیار کرجائے گا، پانی زندگی ہے آج پاکستان میں کوئی واٹر منیجمنٹ نہیں ہے۔ہر سال 7لاکھ بیلین گیلن پانی ہم زمین سے نکالتے ہیں، تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کیلئے بہت ضروری ہے۔زندگی قدرت کی طرف سے عظیم اور تحفہ ہے۔ وہ قومیں جنہوں نے علم حاصل کیا اور اپنی بہتری کیلئے اپنے علم کو استعمال کیا وہ آج ترقی کی منزل طے کرچکی ہیں۔ جن قوموں نے ترقی نہیں کی اس کی بنیادی وجہ تعلیم کی کمی ہے ۔علم کے ذریعے سے زندگی کو بہت اچھے ذریعے سے گزار جاسکتا ہے۔ 30سال کے بعد پاکستان کی آبادی اسی روشنی سے بڑھتی رہی تو 45کروڑ ہوجائے گی۔ ہم نے آبادی کو کنٹرول کرنا ہے کیونکہ یہ پاکستان کی بقاء کیلئے ضروری ہے۔ ہم نے اس معاملے پر ٹاسک فورس قائم کی ہے، ہم نے لوگوں میں آگاہی پھیلانی ہے، عملدرآمد کا وقت آگیا ہے، قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، ہمیشہ تسلیم کیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، وقت آگیا ہے کہ قانون میں اصلاحات لائی جائیں، سول جج روزانہ 60 مقدمات کی سماعت کرتا ہے، موجودہ صورتحال کا پیش نظر ججز کی تعداد بڑھانا ہوگی، عدالتی نظام میں بہت بہتری کی ضرورت ہے، زمین سے نکالے گئے پانی کا تین چوتھائی ضائع ہوجاتا ہے ، تعلیم ، بہتر گورننس ، انصاف کی فراہمی ترقی کا اہم جزو ہے، آج پاکستان میں پیدا ہونے والا ہر بچہ مقروض ہے، ہم اپنے بچوں کو مقروض چھوڑ کر جارہے ہیں، مدینہ کی ریاست بنانے کیلئے شانہ بشانہ چلنے کیلئے تیار ہیں، ریاست مدینہ کا خواب پورا کرنے کیلئے ساتھ دیں گے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اتنا وقت گزر گیا، ہم نے قوانین کو اپ ڈیٹ نہیں کیا، سول جج 6 گھنٹے میں روزانہ 60 مقدمات کی سماعت کرتا ہے، موجودہ صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ججز کی تعداد بڑھانا ہو گی۔انہوں نے کہا کہ ہمیشہ تسلیم کیا ہے کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہے، اگر آئین کے بعد کوئی ادارہ سپریم ہے تو پارلیمنٹ ہے، اب وقت آ گیا ہے کہ جو ہمارا اصل کام ہے اس پر توجہ دی جائے۔

Facebook Comments
Share Button