تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی:انجینئرنگ فیکلٹی کوعمارت پر دو ہفتوں کے اندر کام شروع کرانے کی مہلت

Share Button

اسلام آباد ( پ ر) ہائرایجوکیشن کمیشن نے قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کوانجینئرنگ فیکلٹی عمارت پر دو ہفتوں کے اندر کام شروع کرانے کی مہلت دی ہے۔ مقررہ مدت کے اندر کام شروع نہ ہونے کی صورت میں انجینئرنگ فیکلٹی کا منصوبہ ختم کردیا جائیگا۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کے پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ ڈویژن نے کے آئی یوانتظامیہ کو حتمی نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ 80کروڑ روپے لاگت کا یہ منصوبہ منظورہوئے 3سال سے زائد عرصہ گذرچکا ہے اور تاحال یونیورسٹی مختص اراضی پر تنازعہ کے باعث کام شروع نہ کراسکی ہے ۔ اب مزید اس منصوبے کے اجراء میں توسیع ممکن نہیں۔ لہذا یونیورسٹی انتظامیہ فی الفور دو ہفتوں کے اندر اس منصوبے پر کام شروع کرائے ، بصورت دیگر منصوبے کے کیلئے مختص فنڈ واپس لئے جائیں گے۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے واضح وارننگ ملنے کے بعد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے پلاننگ اینڈ ڈولمپنٹ کمیٹی کا اجلاس طلب کرلیا ہے اور قوی امکان ہے کہ یہ منصوبہ کسی دوسرے ضلع میں منتقل کیا جائے تاکہ گلگت بلتستان کروڑوں روپے لاگت کے اس عظیم تعلیمی منصوبے سے محروم نہ ہو۔ اس منصوبے کیلئے چھلمس داس میں مختص اراضی کا مسئلہ حل ہونے میں مسلسل تاخیر اس منصوبے کی ناکامی کا باعث بن گیا ہے۔ لہذا مزید چھلمس داس کے تنازعہ میں پڑنے کے بجائے اس منصوبے کو ضلع دیامر ، ضلع غذر یا ضلع سکرد و منتقل کیا جاسکتاہے۔ ان اضلاع کے عوام کی جانب سے اس منصوبے کیلئے بلا معاوضہ اراضی فراہم کرنے کی پہلے ہی پیشکش کرچکے ہیں۔ ہائرایجوکیشن کمیشن کی جانب سے حتمی وارننگ ملنے کے بعد وائس چانسلر نے بھی یہ منصوبہ کسی دوسرے اضلاع میں منتقل کرنے کا عندیہ دیاہے تاہم اس کی منتقلی کے حتمی فیصلے کیلئے پلاننگ اینڈ ڈولمپنٹ کمیٹی سے منظوری لی جائیگی۔ واضح رہے کہ 80کروڑ روپے کی لاگت سے انجینئرنگ فیکلٹی کی منظوری مارچ 2015میں ہوئی ہے۔ اس وقت سے تاحال چھلمس داس کے مقام پر KIUکے نام پر الاٹ شدہ 1692کنال اراضی پر یونیورسٹی کو قبضہ نہیں دیا جارہا۔ اس تنازعے کے حل کیلئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عطاء اللہ شاہ نے ہر سطح پر کوششیں کی۔ مفاہمتی کمیٹیاں بنائی گئیں۔ عمائدین اور عوامی سطح پر خود ملاقاتیں کی۔ صوبائی حکومت کے علاوہ صدر پاکستان تک اس مسئلے کے حل کی اپیلیں کی گئیں۔ لیکن تاحال مسئلے کا حل نہ نکلنے کے باعث یہ منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کے امکانات واضح ہوگئے ہیں۔ تاہم وائس چانسلر کی اب بھی کوشش ہے کہ اس منصوبے کو ختم ہونے سے گلگت کے بجائے کسی دوسرے اضلاع میں منتقل کیا جائے ، جہاں آسانی سے اراضی دستیاب ہو۔ اس کا فیصلہ بہت جلد ہوگا۔

Facebook Comments
Share Button