تازہ ترین

Marquee xml rss feed

حکومت اور تحریک لبیک پاکستان میں بیک ڈور رابطے تحریک لبیک کے 322 رہنماؤں اور کارکنان کو رہا کر دیا گیا-سپریم کورٹ کا علیمہ خان کو 29.4 ملین روپے جمع کروانے کا حکم-چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کا تھر کا دورہ چیف جسٹس کے دورے کے دوران کئی اہم انکشافات سامنے آ گئے-خواجہ سعد رفیق ریلوے خسارہ کیس کی سماعت کے لیے سپریم کورٹ میں پیشی سابق وزیر ریلوے کو نیب اور پولیس کی تحویل میں عدالت میں لایا گیا-سپریم کورٹ نے پاکپتن اراضی کیس میں جے آئی ٹی تشکیل دے دی تین رکنی جے آئی ٹی کے سربراہ خالد داد لک ہوں گے جب کہ تحقیقاتی ٹیم میں آئی ایس آئی اور آئی بی کا ایک ایک رکن بھی شامل ... مزید-لاہور میں پنجاب اسمبلی کی خالی نشست پی پی 168 پر ضمنی انتخاب‘نون لیگ اور تحریک انصاف میں مقابلہ پولنگ کا آغاز صبح 8 بجے سے 5 بجے تک جاری رہے گی-نواز شریف کے خلاف العزیزیہ ریفرنس کی سماعت‘فیصلہ محفوظ کیے جانے کا امکان نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر عباسی جواب الجواب دے رہے ہیں‘حسن، حسین کی پیش دستاویزات کو انڈورس ... مزید-صدر مملکت عارف علوی کی عمرہ کی ادائیگی صدر مملکت کے لیے خانہ کعبہ کا دروازہ بھی کھولا گیا-گوگل پر احمق (Idiot) لکھیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تصاویردیکھیں کمپنی نے کانگریس کی کمیٹی کے سامنے پیش ہوکر مبینہ الزام کو مسترد کردیا-آئندہ چوبیس گھنٹوں کے دوران ملک کے شمالی علاقوں میں موسم شدید سرد اور خشک رہے گا، محکمہ موسمیات

GB News

گلگت بلتستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح انتہائی پریشان کن صورتحال اختیار کرگئی

Share Button

غذر(رپورٹ،یعقوب طائی سے) گلگت بلتستان میں دل کے امراض کی بڑھتی ہوئی شرح انتہائی پریشان کن صورتحال اختیار کرگئی ہے ملک کے بڑے ہسپتال آغاخان یونیورسٹی ہسپتال کراچی کے کارڈیک سینٹر سے تصدیق ہوا ہے کہ ملک بھر میں دل کے امراض بڑھ گئے ہیں تاہم گلگت بلتستان کے مریضوں کی تعداد ملک کے کسی بھی شہر سے زیادہ ہے دل کے امراض سے متعلق ڈاکٹروں کے مطابق گلگت بلتستان میں دل کے امراض میں اضافے کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں تاہم سب سے بڑی وجہ اس خطے میںلوگوں میں پائی جانے والی ذہنی امراض جن میں ڈپریشن سرفہرست ہے شامل ہے ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں ڈپریشن کی بیماری سب سے زیادہ ہے جو ہارٹ اٹیک کی بنیادی وجہ بن رہی ہے جبکہ اس علاقے میں غیر معیاری خوراک کا استعمال بھی دل کی امراض کے باعث بن رہا ہے ماہرین کے مطابق موٹا گوشت اور کھانوں میں تیل کا زیادہ استعمال اور غیر معیاری مصالحہ جات کا کثرت سے استعمال بھی دل کی بیماریوں کی وجہ بن رہا ہے دوسری جانب گلگت بلتستان میں بیماری سے متعلق تشخیص کی سہولت نہ ہونا بھی لمحہء فکریہ ہے جس کی وجہ سے مریضوں کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ان کے دل میں موجود کتنے وال بند ہیں؟ماہرین کے مطابق گلگت بلتستان میں ذہنی امراض کی شرح ذہنی امراض پر قابو پاکر بھی کم کیا جاسکتا ہے جس کے لئے لوگوں کو نفسیاتی ڈاکٹروں سے رجوع کرنے کا عادی بنایا جائے جبکہ بڑے گوشت کے استعمال کی کمی اور سبزیوں کے استعمال کو زیادہ عام کرنے کی ضرورت ہے غیر معیاری خوردنی تیل اور مصالحہ جات پر قابو پانے اور روزانہ دو سے تین کلومیٹر تک پیدل چلنے کی بھی اشدضرورت ہے۔گلگت بلتستان میں ہارٹ اٹیک کے مریضوں کی بڑی تعداد ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے باعث موت کے منہ میں چلی جاتی ہے اس حوالے سے انتہائی دل دبلانے دینی والی حقیقت سامنے آئی ہے کہ گلگت بلتستان میں ہارٹ اٹیک کے بعد مریض کو بچانے والی انجکشن جسے میڈیکل کی زبان میں SK کہا جاتا ہے سوائے چند طبی مراکز کے کہیں موجود نہیں دل کے امراض سے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ابتدائی اٹیک کے بعد مریض کو SK انجکشن میسر آئے تو اس کی جان بچ سکتی ہے تاہم میڈیکل سٹور مالکان اور مختلف طبی مراکز اس اہم انجکشن کو صرف مہینگی ہونے کے بہانے رکھنے سے اجتناب کرتے ہیں ماہرین کے مطابق ایس کے انجکشن پانچ ہزار روپے میں فروخت کی جاتی ہے جس سے کسی بھی مریض کی انتہائی قیمتی جان کو بچایا جاسکتا ہے اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ یہ انجکشن گلگت بلتستان کے چند ایک ہسپتالوں کے علاوہ کسی میڈیکل سٹور میں موجود نہیں اگر ڈرگ کنٹرول اتھارٹی تمام سٹور مالکان کو اس اہم انجیکشن کو اپنے پاس رکھنے پر مجبور کرے تو علاقے میں ہارٹ اٹیک سے بے موت مرنے والے کئی مریضوں کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ ماہرین نے دل کے امراض کی ایک بڑی وجہ غیر معیاری خوردنی تیل بھی قرار دیا ہے جبکہ تیل میں فرائی کی گئی خوراک اور تیل میں تلی ہوئی چیزیں بھی دل کی امراض کی بنیادی وجہ بن رہی ہیں ماہرین کے مطابق غیر معیاری خوردنی تیل کے استعمال کو روکنے کی ضرورت ہے اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ گلگت بلتستان میں گھریلولے استعمال کا تیل اور گھی وغیرہ انتہائی غیر معیاری اور مضر صحت فروخت ہورہے ہیں خطے میں استعمال ہونے والے مختلف برانڈ کے تیل اور گھی جن پر پنجاب فوڈ اتھارٹی کی جانب سے مکمل پابندی عائد ہے مگریہ اشیاء گلگت بلتستان پہنچاکر لوگوں کے جان و مال سے کھیلا جاتا ہے کئی برانڈز کے تیل اور گھی سوات کے راستے گلگت بلتستان پہنچائے جاتے ہیں جن کے بارے میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کو بھی اتہ پتہ نہیں نامی گرامی برانڈز کے خوردنی آئیل کمپنیاں مختلف جعلی سرٹیفکیٹ شو کرکے اپنے پراڈکٹ فروخت کرتی ہیں علاقے میں چیک اینڈ بیلنس اور بالخصوص فوڈ لیبارٹری کی عدم موجودگی سے غیر معیاری اشیاء پر کنٹرول کرنے میں دقت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے علاقے میں دل کے امراض کی شرح مزید بڑھ رہی ہے۔

Facebook Comments
Share Button