تازہ ترین

Marquee xml rss feed

بحرین کے دورے کے دوران پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ظفر محمود عباسی نے بحرین ڈیفنس فورسز کے کمانڈران چیف سے ملاقات کی-ساہیوال کے پر درد واقعے نے ننھی زینب کے والد کو بھی غمزدہ کر دیا ننھی زینب کے والد امین انصاری مقتول خلیل کے یتیم بچوں کے ساتھ وقت گزارنے ان کے گھر پہنچ گئے-کنٹرول لائن کے ساتھ جندروٹ سیکٹر میں بھارتی فوج کی شہری آبادی پر بلااشتعال فائرنگ ، ایک خاتون سمیت تین شہری زخمی ہو گئے، آئی ایس پی آر-قومی اسمبلی کے اجلاس کا وقت تبدیل، (کل) صبح 11 بجے کی بجائے شام ساڑھے چار بجے ہوگا-اسلام آباد ، گاڑیوں کی آن لائن رجسٹریشن کا نظام متعارف کرا دیا گیا-ٹیکس فائلرز کیلئے بینکوں سے رقوم نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس مکمل طور پر ختم، 1300 سی سی تک کی گاڑیاں نان فائلر بھی خرید سکے گا ، 1800 سی سی اور اس سے زائد کی گاڑیوں پر ٹیکس ... مزید-نعیم الحق نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر ضبط کرنے کی دھمکی دے دی شہباز شریف اور اس کے چمچوں کی اتنی جرات کہ وہ قومی اسمبلی میں وزیر اعظم پر ذاتی حملے کریں۔کیا وہ جیل میں ... مزید-وزیراعظم کا سانحہ ساہیول پر وزراء متضاد بیانات پر سخت برہمی کا اظہار آئندہ بغیر تیاری میڈیا پر بیان بازی نہ کی جائے انسانی زندگیوں کا معاملہ ہے کسی قسم کی معافی کی گنجائش ... مزید-وزیر خزانہ اسد عمر کی طرف سے قومی اسمبلی میں پیش کردہ ضمنی مالیاتی (دوسری ترمیم) بل 2019 کا مکمل متن-5 ارب روپے قرض حسنہ کیلئے مختص کرنا خوش آئند ہے، فنانس بل میں غریب آدمی کو صبر کا پیغام دیا گیا ہے امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق کی پارلیمنٹ ہائوس کے باہر میڈیا ... مزید

GB News

نیا بلدیاتی نظام

Share Button

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ نئے بلدیاتی نظام میں ترقیاتی فنڈز نچلی سطح پر منتقل کیے جائیں گے’موجودہ حکومت اپنی آمد کے بعد سے ہی نئے بلدیاتی نظام کے نفاذ کیلئے کوشاں ہے تاکہ نچلی سطح تک حقیقی معنوں میں سہولتیں بہم پہنچائی جاسکیں۔نئے نظام کے تحت پولیس اور ضلعی انتظامیہ میئر کے ماتحت ہوگی اور ضلع کے مالی اختیارات بھی میئر کے پاس ہوں گے، ضلع کے پولیس اور انتظامی سربراہ کی کارکردگی رپورٹ لکھنے کا اختیار میئر کو ہوگا۔مقامی حکومتوں کے نئے مجوزہ نظام کے تحت پولیس، عدالتی محکموں، صحت و تعلیم کے شعبوں کے اختیارات بھی ضلعی حکومتوں کے پاس ہوں گے’صوبائی وزیراعلیٰ اور وزراء نئے مقامی حکومتوں کے نظام میں مداخلت نہیں کرسکیں گے اور ضلعی حکومتیں مالی طور پر خودمختار ہوں گی۔نئے نظام میں ایک تجویز ناظم و نائب ناظم کے نام کو برقرار رکھنے کی بھی ہے۔ سندھ اور بلوچستان کیلئے نئے مقامی حکومتوں کے نظام پر مشاورت ابھی نہیں کی گئی، نیا نظام قومی وصوبائی اسمبلیوں سے منظور کرائے جانے کی تجویز تو ہے مگر صدارتی آرڈیننس کا آپشن بھی زیرغور ہے۔یہ امر بجا طور پر درست ہے کہ شہریوں کے بنیادی مسائل، صحت وصفائی، تعلیم اور چند دیگر امور بنیادی طور پر بلدیاتی اداروں کی ذمہ داری ہیں۔ نچلی سطح کے یہ منتخب ادارے اختیارات کی مرکزیت کے مقابلہ میں دنیا بھر میں عوام دوست ادارے سمجھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں اگر بلدیاتی نظام اپنا حقیقی کردار ادا نہیں کر سکا تو اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں سیاست میں گلی محلوں کے مسائل برادری ازم وغیرہ کے گرد گھومتی ہے۔ اس پر ستم یہ ہوتا رہا کہ صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ارکان کو ترقیاتی فنڈز کا اجراء کیا جاتا رہا۔ قانونی اور اخلاقی طور پر یہ درست نہیں تھا۔ مقامی اداروں کے پر کاٹنے کے سلسلے کا آغاز 1985ء کی غیر جماعتی اسمبلیوں کے دور میں ہوا۔ اس سے اگلے ادوار میں ہم نے کبھی تعمیر وطن پروگرام، کبھی پیپلز ورکس پروگرام اور کبھی بلدیاتی ادارے بنتے ٹوٹتے دیکھے لیکن ترقیاتی فنڈزکے حوالے سے ارکان اسمبلی کی گرفت نہ ٹوٹنے پائی۔ بلدیاتی اداروں کی بڑی حامی ومحافظ نون لیگ نے توپہلے دو ادوار میںبلدیاتی الیکشن ہی نہ کروائے۔بالاآخر 2013ء میں شروع ہونے والے دوراقتدار میں عدالتی فیصلے کے نتیجے میں بلدیاتی انتخابات ہوئے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات کے نتیجہ میںجو ادارے معرض وجود میں آئے وہ کس قدر فعال اور باوسائل تھے اس کیلئے تینوں صوبوں میں ہوئی قانون سازی کا بغور جائزہ حقیقت حال کو عیاں کر دیتا ہے۔نئے بلدیاتی ایکٹ میں چوبیس محکموں کو ضلعی بندوبست میں دینے کی تجویز ہے۔ بلدیاتی اداروں کی اہمیت وافادیت اورضرورت پر دو آراء ہرگز نہیں۔ لیکن کیا اسمبلیوں پر قابض اشرافیہ فعال بلدیاتی نظام قائم ہونے دے گی؟تاہم چونکہ نئی حکومت نے ارکان اسمبلی وزراء اور مشیروں کے صوابدیدی اختیارات اور فنڈز ختم کر دیئے ہیں لہذا ممکن ہے بلدیاتی ادارے اپنی روح کے مطابق تعمیر ہو سکیں۔اگر حکومت بلدیاتی اداروں کو ان کی روح کے مطابق منظم وفعال کرنے کی خواہشمند ہے تو پھر اس کیلئے صوبوں میں قانون سازی کروائے مگر اس سے قبل ارکان پارلیمان کے ترقیاتی فنڈز کے اجراء پر مستقل پابندی کا قانون بنائے تاکہ مستقبل میں کوئی دوسری حکومت اس نظام کو کمزور یا غیرفعال نہ کرنے پائے۔ یہاں یہ امر بھی مدنظر رکھنا ہوگا کہ نیا نظام اسی صورت مستحکم اور طویل المدتی ثابت ہوگا جب اسے قانونی تحفظ، وسائل کی فراہمی اور شہریوں کے عام طبقات کی بھرپور نمائندگی حاصل ہو۔ جنرل پرویز مشرف والے بلدیاتی نظام یا موجودہ نظام والا معاملہ نہ ہو کہ نچلی سطح تک کے عہدوں پر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خاندان یا ارکان اسمبلیوں کے پیارے قابض ہو جائیں۔ بلدیاتی اداروں کو فنڈز کے اجراء میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے،آبادی اور ضلع کا رقبہ ہر دوکو فنڈز کے اجراء میں مساوی اہمیت دی جائے، ارکان اسمبلی اور بیوروکریسی کی بالادستی کو آڑے نہ آنے دیا جائے۔اس سے دو فائدے ہوں گے شہریوں کا معیار بہتر ہوگااور یہ کہ بلدیاتی ادارے اگلے درجہ کے منتخب اداروں کیلئے نرسری کا کام دیں گے۔ البتہ بلدیاتی نظام سیاسی بنیادوں پر ہو تاکہ برادری ازم اور فرقہ وارانہ جذبات کا کاروبار کرنیوالے بھی ان اداروں پر قابض نہ ہو سکیں۔ موجودہ صورتحال میں حکومت کو اپنی مرضی کا بلدیاتی نظام لانے میں پنجاب اور سندھ میں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پنجاب میں بلدیاتی ادارے نون لیگ کے حامیوں کے پاس ہیں، اندرون سندھ پیپلزپارٹی اور کراچی وحیدر آباد میں ایم کیو ایم کا پلہ بھاری ہے۔ اصولی طور پر تو عوام کے مسائل کے حل اور تعمیر وترقی کے معاملے میں تمام سیاسی جماعتوں کو متحد ہو کر ایسی قانون سازی کرنی چاہئے کہ شہری اپنی گلی بنوانے یا دوسرے ترقیاتی کاموں کیلئے ارکان اسمبلی کے دروازوں پر چکر لگانے کی بجائے اپنے مقامی اداروں سے رجوع کریں۔ بدقسمتی سے ایسا مشکل نظر آتا ہے ۔ ممکن ہے حزب اختلاف کی جماعتیں بلدیاتی سیاست میں اپنی طاقت کو ہونیوالے چیلنج کیخلاف مزاحمت کریں ۔اس کیلئے ضروری ہے کہ تمام جماعتوں کو اس کے نفاذ سے قبل اعتماد میں لینے کی سعی کی جائے کیونکہ ملک کی بقا وسلامتی کیلئے ضروری ہے کہ اتفاق رائے سے تمام امور انجام دیے جائیں۔

Facebook Comments
Share Button