تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

جب تک ہم ایک نہیں ہونگے تب تک ہم حقوق نہیں لے سکتے ، میجر (ر) محمد امین

Share Button

گلگت( ثاقب عمر سے ) پارلیمانی سیکرٹری برائے بجلی وپانی میجر (ر) محمد امین نے کہا ہے کہ آئینی حقوق کے نام پر 2009 پی پی پی نے لولی پاپ دیا 2018میں مسلم لیگ (ن) نے لولی پاپ دیا اب ایک مرتبہ پھر لو لی پاپ دینے کی کوشش ہو رہی ہے ہم ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت صوبہ چا ہتے ہیں اور جب تک ہم ایک نہیں ہونگے تب تک ہم حقوق نہیں لے سکتے ہیں ۔ انہوں نے کے پی این سے گفتگو کر تے ہو ئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے سرتاج عزیز کی سفارشات کو ایک طرف رکھ کر ایک آرڈر لایا اور اب اسی آرڈر میں ترمیم کر کے دوبارہ دیا جا رہا ہے یہ گلگت بلتستان کے ستر سالہ محرومیوں کا صلہ نہیں ہے ۔حقوق مانگنے سے نہیں ملتے ہیں حقوق چھیننے پڑتے ہیں اور جب تک سیاچن سے شتیال تک ہم ایک ہوکر اپنے حقوق کے لئے کام نہیں کرینگے تب تک ہمیں کسی بھی قسم کے حقوق ملنے والے نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھکاریوں والا کشکول توڑنا ہوگا اور جو دے اس کا بھی بھلا جو نا دے اس کا بھی بھلا کے نعرے سے نکل کر عملی سطح پر حقوق کے لئے کام کرنا ہو گا ۔ اس وقت ہماری اوقات بھکاریوں سے کم نہیں ہے اور ہم جو دے اس کا بھی بھلا اور جو نا دے اس کا بھی بھلا والے راستے پر چل رہے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی غلطی ہے اب کشکول کو توڑ کر حقوق کو چھیننے کے لئے حکومت کی کابینہ کو بھی ایک ہو نا ہوگا تمام سیاسی جماعتوں کو ایک ہو نا ہوگا اور اپنے حقوق کے لئے احتجاج کر نا ہو گا اور جب تک ہم چھیننے کے قابل نہیں ہو نگے کوئی بھی ہمیں بھیک نہیں دے گا اور جو حق ہمارا قانونی و آئینی ہے اس کے لیئے عوام کو اب متحد ہو نا ہو گا تب جا کر ہم کا میاب ہو سکتے ہیں وگرنہ وہی بھکاریوں کی زندگی ہماری آنے والی نسل بھی گذارے گی اور 2050تک ہمیں حقوق نہیں مل سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ گورنر گلگت بلتستان بہترین کام کر رہے ہیں اور صوبا ئی حکومت کے ساتھ مل کر اچھا کام کرے گا اور ابھی تک گورنر گلگت بلتستان نے بہترین کام کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے بھی گلگت بلتستان کے عوام کو آئینی حقوق کے نام پر دھوکہ دیا اور کمیٹیوں پہ کمیٹیاں بنا ئی لیکن آخر کار نتیجہ ایک اور آرڈر کا سامنے آیا جو کہ لولی پاپ ہے اسے ہم مسترد کرتے ہیں اور یہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے عوام کے ستر سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا ئے اور ملک کے قومی اداروں میں نمائندگی کے ساتھ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے تحت حق دیا جا ئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم خود تقسیم ہیں کو ئی صوبے کا نعرہ لگا رہا ہے توکو ئی کشمیر طرز کا سیٹ اپ کہ رہا ہے کو ئی اپنی سیاسی دکان چمکا رہا ہے اب وقت آیا ہے ہمیں اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر گلگت بلتستان کے عوام کے لئے کام کرنا ہوگا اور گلگت بلتستان کی ستر سالہ محرمیوں کے ازالے کے لئے سڑکوں پر نکلنا ہو گا اور ایک قوم بننا ہو گا تب ہی ہم حقوق حاصل کر سکتے ہیں ورنہ ٹکٹروں میں تقسیم ہو ئے تو ہمیں کچھ نہیں ملے گا لڑائو اور حکومت کرو کی پالیسی عرصہ دراز سے چل رہی ہے اب بھی ہم ایک قوم نہیں بنے تو ہمارے گلے میں وہی بھکاریوں والا کشکول ہوگا اور ہم بھیک مانگتے رہینگے ۔

Facebook Comments
Share Button