تازہ ترین

GB News

پاکستان صنفی مساوات کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بدترین ملک قرار

Share Button

عالمی اقتصادی فورم کی سالانہ فہرست میں پاکستان صنفی مساوارت کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بدترین ملک قرار پایا ہے۔

عالمی اقتصادی فورم (ڈبلیو ای ایف) کی عالمی سطح پر صنفی تفاوت کے حوالے سے پیش کی گئی رواں سال کی رپورٹ کے مطابق 4 مسلم ممالک مصر، سعودی عرب، یمن اور پاکستان، دنیا کے وہ چار بدترین ممالک ہیں جہاں انتظامی عہدوں پر خواتین کی تعداد سب سے کم ہے۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مجموعی طور پر صنفی مساوات کی شرح 55 فیصد ہے جب کہ اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش اور سری لنکا بہتر کارکردگی دکھانے والے ممالک ہیں جن میں یہ تناسب 72 اور 68 فیصد ہے۔

جنیوا میں موجود ادارے کی سالانہ رپورٹ میں 149 ممالک کے 4 شعبوں، تعلیم، صحت، اقتصادی مواقع اور سیاسی اختیار کا جائزہ لیا گیا۔

پاکستان اقتصادی شراکت داری اور مواقعوں کے لحاظ سے 146، صحت میں 145 جب کہ سیاسی اختیارات کے لحاظ سے 97 ویں درجے پر فائز ہے۔

آبادی کے لحاظ سے پاکستان میں ایک اعشاریہ 93 فیصد سالانہ کے اعتبار سے اضافہ ہورہا ہے۔

خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک میں مساوی تنخواہ اور تعلیم کے حصول کے حوالے سے خاصی بہتری دیکھنے میں آئی ہے تاہم فہرست کے نچلے درجے میں موجود ممالک کی تیزی سے بہتر ہونے کی صلاحیت کے اعتبار سے پاکستان میں اس بہتری کی رفتار غیر تسلی بخش ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق تعلیم، صحت اور سیاسی نمائندگی میں خواتین اس سال پیچھے دکھائی دی گئیں۔

دوسری جانب عالمی سطح پر اس وقت بھی مرد و خواتین کی تنخواہوں میں اب بھی تقریباً 51 فیصد کا فرق موجود ہے جب کہ صنفی فرق جو 32 فیصد ہے اسے بھی ختم کرنا باقی ہے۔

ڈبلیو ای ایف کے مشاہدے میں یہ بات بھی آئی کہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، اور ریاضی کے شعبہ جات میں ملازمتوں کے بڑھتے مواقعوں کے باوجود خواتین کی نمائندگی میں کمی ہے بالخصوص مصنوعی ذہانت کے شعبہ میں خواتین کی تعداد انتہائی کم یعنی کل ملازمین کا محض 22 فیصد ہے۔

رپورٹ کے مطابق دنیا کے 149 ممالک میں سے صرف 17 میں خواتین ریاست کی سربراہ ہیں جب کہ 18 فیصد خواتین وزراء کے عہدوں پر کام کررہی ہیں اور عالمی سطح پر پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی 24 فیصد ہے۔

اسی طرح جن ممالک کے اعدا د و شمار میسر ہیں، ان میں 34 فیصد انتظامی عہدوں پر خواتین فائز ہیں جب کہ بدترین کارکردگی دکھانے والے 4 ممالک پاکستان، سعودی عرب، یمن اور مصر میں یہ شرح محض 7 فیصد ہے۔

عالمی سطح پر خطے میں صنفی مساوات کے لحاظ سے جنوبی ایشیا دوسرے کم ترین درجے پر موجود ہے جس کے بعد مشرق وسطیٰ، شمالی افریقا اور سب سہارا افریقا کا خطہ ہے۔

یہ بات بھی خوش آئند ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں جنوبی ایشیا میں دنیا کے دیگر خطوں کے مقابلے صنفی عدم مساوات پر قابو پانے کی کارکردگی سب سے تیز ہے جس کے 7 ممالک میں سے 4 نے گزشتہ برس کے مقابلے میں اپنی درجہ بندی بہتر بنائی جبکہ دیگر 3 ممالک کے درجے میں کمی واقع ہوئی۔

Facebook Comments
Share Button