تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

پاکستانی عوام سی پیک کو مکمل کرنا چاہتے ہیں، پروپیگنڈا بلاجواز ہے، چین

Share Button

چین اور چینی ذرائع ابلاغ نے سی پیک کے بارے میں امریکی اخبار نیویارک ٹائم کی رپورٹ مسترد کردی ہے اور کہا ہے کہ سی پیک کا دونوں ممالک کے دفاعی تعاون سے کوئی تعلق نہیں ہے چین کے ایک بااثر اخبار گلوبل ٹائمز نے اپنی حالیہ اشاعت میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ چین اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعلقات معمول کا عمل ہے جسے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے(بی آر آئی) یا سی پیک کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیے۔اخبار نیویارک ٹائم کے اس دعوے پر ردعمل کا اظہار کررہا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ چین بی آر آئی کی آڑ میں اپنے فوجی اثرات وسیع کررہا ہے۔اخبار نے چین پاکستان تعلقات کی گہرائی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ تعلقات سی پیک اور بی آر آئی سے بالاتر ہیں۔اپنے مضمون میں گلوبل ٹائمز نے اس بات پر زور دیا ہے کہ پاکستان کا چین کے ساتھ فوجی رابطہ سٹریٹیجک شراکت داری کا حصہ ہے ۔جسے سی پیک یا بی آر آئی کے ساتھ محدود نہیں کیا جاسکتا دفاعی تعاون کے حوالے اور فوجی پہلو سے کسی قسم کے فنڈز مخصوص نہیں کیے گئے اور نہ ہی سی پیک کے تحت اس سلسلے میں کوئی طویل المیعاد منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ہم جوکوئی دفاعی تعاون آج کل دیکھتے ہیں اس کی ایک تاریخ ہے اور اسے سی پیک اور بی آر آئی سے الگ کرکے دیکھنا چاہیے دریں اثناء گزشتہ روز اپنی معمول کی پریس کانفرنس کے دوران وزارت خارجہ کی ترجمان ہواچن ینگ نے بھی نیویارک ٹائمز کی رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے جھوٹ قرار دیا۔دریں اثناء چینی سفارتخانے کے ڈپٹی چیف آف مشن لی جیان ژائو نے بھی سی پیک پر نیویارک ٹائمز کی تنقید کو مسترد کردیا اور کہا کہ یہ مغربی ممالک ہیں جنہوں نے پاکستان کو قرضوں کے جال میں پھنسا دیا ہے۔جبکہ چین پاکستان کو قرضوں کے جال سے نکالنے کے لیے یقین دہانی کرا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پر 95ارب ڈالر کے بین الاقوامی قرضوں میں سے چین کا صرف چھ ارب ڈالر کا قرضہ ہے۔انہوں نے ان اعدادوشمار کو بھی مسترد کردیا کہ چین کا قرضہ 23ارب ڈالر ہے ۔

Facebook Comments
Share Button