تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

سی پیک میں چھ ارب ڈالر قرضہ دیا، واپسی بیس سال میںہوگی، چین

Share Button

پاکستان میں چین کے سفارتخانے نے سی پیک کے تحت پاکستان پر 40 ارب ڈالر کے واجب الادا قرض کا حجم ہونے کی خبروں کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس کی تردید کردی اور کہاکہ 40 ارب ڈالر کے اعداد غلط اور گمراہ کن ہیں ، وضاحت میں کہاگیا کہ سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کا اہم اور بڑا منصوبہ ہے ، تمام سی پیک منصوبوں کی بنیاد دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے پر ہے اور یہ متعلقہ قوانین اور قواعدو ضوابط کے مطابق ہیں ، اب تک 22 ابتدائی منصوبے یا تو مکمل کر لیے ہیں یا پھر زیر تعمیر ہیں اور ان پر کل 18.9 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی گئی ہے ، مواصلات کے منصوبوں کے لئے چین نے پانچ ارب 87کروڑ50 لاکھ ڈالرکا قرض صرف 2 فیصد شرح سود پر دیا جس کی ادائیگی 20 سے 25 سال میں ہو گی ، قرض کی ضمانت حکومت پاکستان نے دی ، ادائیگی کا عمل 2021 سے شروع ہوگا، سی پیک کے تمام منصوبے سرمایہ کاری کے ذریعے شروع کئے گئے ہیں،سرمایہ کار کمپنیاں منصوبوں میں اپنے منافع اور نقصان اور قرضوں کی واپس ادائیگی کے معاملے کی خود ذمہ دار ہیں،سی پیک کی حمایت پر پاکستان عوام کے شکرگذار ہیں ، ہم سی پیک کے آگے بڑھانے کے لئے پاکستانی دوستوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دینے کے خواہش مند ہیں، سی پیک پاکستان برادری کے مشترکہ مستقبل کی تعمیر سازی میں انتہائی اہم کردار ادا کرے گا ۔ ہفتہ کو پاکستان میں چینی سفارتخانے کے ترجمان نے پاکستان پر 40 ارب ڈالر قرض ہونے کی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کردی اور وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ 40 ارب ڈالر کے اعدادوشمار غلط اور گمراہ کن ہیں ، سی پیک چین اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون کا اہم اور بڑا منصوبہ ہے ، تمام سی پیک منصوبوں کی بنیاد دونوں ممالک کے درمیان اتفاق رائے پر ہے اور یہ متعلقہ قوانین اور قواعدو ضوابط کے مطابق ہیں۔ سفارتخانے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چینی کمپنی اور ان کے شراکت داروں نے پاکستان میں توانائی کے شعبوں میں 12.8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے ان میں سے چینی کمپنیوں نے 3 ارب ڈالراپنی طرف سے فراہم کیے جب کہ بقیہ 9.8 ارب کمرشل بینکوں سے 5 فیصد شرح سود پر لیے گئے ۔ ان کی ادائیگی کا عمل 12 سے 18 سال کے دوران ہے ۔ سی پیک کے تمام منصوبے فطرتی طور پر سرمایہ کاری کے ہیں اور یہ خالصتا ان کمپنیوں کا آزادانہ کاروبار ہے ۔ یہ کمپنیاں اپنے منافع اور نقصان اور قرضوں کی واپس ادائیگی کے معاملے کی خود ذمہ دار ہیں ۔ پاکستانی حکومت نے سی پیک کے تحت ان قرضوں کی واپس ادائیگی نہیں کرنی۔ یہ کاروباری تعاون دونوں اطراف سے بین الاقوامی کاروباری سرگرمیوں کے تحت تسلیم شدہ ہے ۔ چینی سفارتخانے کے بیان میں مزید کہا گیا کہ چینی حکومت گوادر میں ایکسپریس وے ، ایسٹ بے کے لئے بلاسود قرضہ فراہم کیا ہے اور اس میں مختلف منصوبوں کے لئے گرانٹ بھی دی ہے ۔ پاکستانی حکومت کو ایم ایل ون کی اپ گریڈیشن کی فزیبلٹی سٹڈی کے لئے فنڈنگ بھی فراہم کی گئی ہے اس لئے پاکستان صرف 6.017 ارب ڈالر واپس ادا کرے گا ۔ کیٹگری اے کے تحت 5.874 جب کہ کیٹگری تھری کے تحت 0.143 ارب ڈالر اور اس کا سود چین کو ادا کرے گا ۔ بیان میں کہا گیا کہ چین اور پاکستان اس بات پر بات چیت کررہے ہیں کہ کس طرح نئے منصوبوں میں چینی گرانٹ کو استعمال کیا جائے جیسا کہ نیو گوادر انٹرنیشنل ائیر پورٹ ، گوادر پیشہ وارانہ تربیتی مرکز اور دوستی ہسپتال و دیگر ،جب بھی مزید تفصیل آئیں گی تو وہ بھی میڈیا کو فراہم کی جائیں گی ۔

Facebook Comments
Share Button