تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

وزیراعظم کا دورہ ترکی

Share Button

وزیرِ اعظم عمران خان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ترکی کے صدر طیب رجب اردگان سے ملاقات ہوئی ۔ یہ عمران خان کا ترکی کا پہلا سرکاری دورہ تھا۔اس سے قبل وزیرِ اعظم عمران خان سعودی عرب اور متحدہ امارات کے دورے کر چکے ہیں جہاں ان کا اہم مقصد پاکستانی معیشت کی بحالی کے لیے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دینا اور دوست ممالک سے امداد حاصل کرنا تھا۔ وزیراعظم ترکی سے امداد کے علاوہ کچھ اور بھی چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ترکی پاکستان میں سرمایہ کرے اور پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا قحط اب ختم ہو جس نے پاکستانی معیشت کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے ترکی بزنس کمیونٹی کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آئیں اور پاکستان میں کنسٹرکشن، سے لے کر سیاحت، اور قدرتی وسائل کی دریافت تک کے پراجیکٹس میں حصہ لیں۔انہوں نے ترک تاجروں کو یہ بھی تسلی دی کہ حکومت غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولیات دے رہی ہے اور اس سلسلے میں سرخ فیتے یا ریڈ ٹیپ ازم کو بالکل ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔دونوں ممالک میں تجارت کے فروغ کیلئے روایتی میمورینڈم آف انڈرسٹینڈنگ یا یادداشت کے دستاویز پر تو دستخط ہوں گے ہی لیکن ترکی کی زیادہ دلچسپی اس بات میں ہے کہ پاکستان امریکہ میں خود ساختہ جلا وطنی کی زندگی گزارنے والی فتح اللہ گولن کی تحریک اور تنظیم کے خلاف کیا کچھ کر رہا ہے۔پاکستان پہلے ہی گولن تحریک کے تحت پاکستان میں چلنے والے سکول ترکی کی معارف فائونڈیشن کے سپرد کر چکا ہے۔ترکی نے2016 کے ناکام انقلاب کے بعد، جس میں 250 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے، معارف فائونڈیشن کے قیام کا مقصد ان تمام سکولوں کا انتظام سنبھالنا تھا جو ملک کے اندر اور باہر گولن نیٹ ورک چلا رہا تھا۔ ترکی کا الزام ہے کہ انقلاب کے پیچھے گولن نیٹ ورک کا ہاتھ تھا۔گذشتہ ماہ پاکستان کے سپریم کورٹ نے گولن کے نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد گروپ قرار دینے کی ایک درخواست تسلیم کی تھی۔سپریم کورٹ کے جج نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ اگر کسی تنظیم کو اس کا اپنا ملک ہی دہشت گرد قرار دیتا ہے تو پاکستان بھی اسے اس طرح ہی تسلیم کرے گا۔اس طرح ترکی کے بعد پاکستان دوسرا ملک ہے جس نے گولن نیٹ ورک کو ایک دہشت گرد نیٹ ورک تسلیم کیا ہے اور ترکی اپنے دوست ملک کے اس فیصلے کو خوش آمدید کہتا ہے۔تجارت سے لے کر فوجی تربیت اور فوجی معاہدوں تک دونوں ممالک ایک دوسرے پر انحصار کرتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button