تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

صحت عامہ اور عوام کے مسائل

Share Button

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے بغیر پروٹوکول کے اچانک بسین ہسپتال اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گلگت کا دورہ کیا۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے بسین ہسپتال میں ڈاکٹرز اور سٹاف کی عدم حاضری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سیکرٹری صحت کو ہدایت کی کہ غیر حاضر سٹاف کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے بسین ہسپتال کے سٹاف کی حاضری یقینی بنانے کے احکامات دیئے۔وزیر اعلیٰ نے کہاکہ بسین ہسپتال میں سٹاف کی کمی کے حوالے سے مسئلے کو حل کیا جائے گا۔ آپریشن تھیٹر کو فعال کرنے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستا ن حافظ حفیظ الرحمن نے بسین ہسپتال کی تزائن و آرائش کا کام جلد مکمل کرنے کے بھی احکامات دیئے۔وزیر اعلیٰ نے دورے کے موقع پر مختلف وارڈز کا معائنہ کیا مریضوں کی عیادت کی اور مسائل دریافت کئے۔مختلف وارڈز میں مریضوں کیلئے کئے جانے والے ہیٹنگ سسٹم کے بارے میں بھی تفصیلی بریفنگ لی۔ بڑے وارڈز میں ہیٹنگ کیلئے دو ہیٹرز نصب کرنے کی ہدایت کی اور محکمہ صحت کی جانب سے وضع کردہ اوقات کار کے مطابق ہیٹنگ سسٹم کو یقینی بنانے کے احکامات دیئے۔انکوبیٹر مشینوں کی تعداد میں اضافے اورڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال میں جلد از جلد جدید ایکسرے مشین نصب کرنے کے احکامات دیئے۔لوگوں کو صحت کی سہولیات کی بہتر فراہمی کے لیے وزیراعلی کے دورے خوش کن ہیںعلاج معالجے کی معیاری سہولتوں تک رسائی عوام کا حق ہے مگر حقیقت میں ان کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں ہوتی۔ نہ ہی بالغ نظر اور سنجیدہ طبقہ ایسے دعوئوں پر یقین رکھتا ہے۔ سچی بات تو یہ ہے کہ صحت عامہ کے لئے مفلس و قلاش لوگوں کو طبی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کوئی جامع پروگرام مرتب کیا گیا نہ ہی کسی ایسے منصوبے پر غور کرنے کا کوئی سراغ ملتا ہے البتہ اس حوالے سے دعوئوں کی ایک طویل فہرست ضرور ملتی ہے جو عوام کے دلوں کو بہلانے کے لئے اربابِ اقتدار کی طرف سے اکثر سننے میں آتے ہیں۔بے جامنصوبوں پر کسی بھی مصلحت کے تحت اربوں کھربوں روپے صرف کئے جاتے ہیں مگر بعض دیگر اہم ترین قومی مفاد کے شعبوں سمیت طبی شعبے کو جس بری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے اس کی مثال کسی مہذب، جمہوری ملک میں مشکل سے ملے گی۔ عوام کو ہسپتالوں سے مفت ادویات کی فراہمی خواب ہے۔ جہاں تک مجبور و بے بس عوام کے امراض کی تشخیص کا تعلق ہے تو اس اہم ترین کام کے لئے ہسپتالوں کی مشینیں بیکار ہو چکی ہوتی ہیں۔ جن میں سی ٹی سکین، ایم آر آئی، ایکسرے، ایکو بی پی مانیٹر، ڈائیلاسز یونٹ سمیت اسی نوع کی دیگر مشینیں شامل ہیں۔جس ملک میں عوام کو علاج معالجے کی سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دینے کی بجائے حکمران قومی خزانے کو اپنے مخصوص مفادات کے تحت ایسے کاموں پر ضائع کرنے کی روش پر گامزن ہو جن کاموں کی تکمیل میں فلاح عامہ کا کوئی راز بھی مضمر نہ ہو۔ پھر اس قسم کے منصوبوں کو ملکی تعمیروترقی سے تعبیر کرنا خودنمائی کے سوا اور کوئی نام نہیں دیا جا سکتا۔ ایسے حالات ہوں تو پھر بے بس، مجبور اور لاچار غریب لوگوں کا بیماری سے چھٹکارا پانے کے لئے خودکشی کر لینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ۔ کاش سرکاری ہسپتالوں میں علاج معالجے کی سہولتوںکی فراہمی سمیت ریاست کی طرف سے ادویات کا حصول ممکن ہوتاحقائق اس حقیقت کے غماز ہیں کہ سرکاری ہسپتالوں میں عوام کو طبی سہولتوں کے فقدان کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جمہوری اداروں تک بوجہ رسائی حاصل کرنے والے ڈیڑھ دو ہزار افراد سمیت ایوان اقتدار کے مکینوں کو ملکی سرکاری ہسپتالوں کی حالت بدلنے یا وہاں سے ملک بھر کے عوام کو طبی سہولتوں کی پوری طرح فراہمی کے معاملات سے کوئی دلچسپی نہیں کیونکہ انہوں نے تو اپنے اور اپنے خاندان کے مریضوں کا علاج معالجہ ان سرکاری ہسپتالوں سے کرانا ہوتا ہے نہ وہ خود کو عوام میں شامل سمجھتے ہیں۔ یہ طبقہ تو سر درد سے لیکر اپنی دیگر بیماریوں کا علاج سمندر پار ممالک کے اعلیٰ درجے کے ہسپتالوں میں سے کرانے کو ترجیح دیتے ہیں اسی لئے تو آئے دن اس قسم کی خبریں علاج معالجے کی سہولتوں اور ادویات سے محروم عوام کو سستے میں ملتی ہیں کہ بزعم خود فلاں عوامی رہنما اور ایوان اقتدار کا فلاں مکین اپنے معمول کے طبی معائنے کیلئے امریکہ یا یورپ کے کسی ملک میں سدھار گیا۔ ماہرین معیشت پاکستان میں انسانی ترقی کے حوالے سے اپنی عرق ریزی کے نتیجے میں اس بات پر متفق ہیں کہ چالیس فیصد پاکستانیوں کو پیٹ بھر کھانا نصیب نہیں ہوتا اورجہاں تک صحت اور تعلیم کی بنیادی سہولتوں کا تعلق ہے’ وہ سبھی امراء کے طبقے ہی کیلئے مخصوص ہیں۔ یہ لوگ اشرافیہ سے عبارت ہیں۔ یہی طبقہ ملکی اور قومی وسائل کا رخ کسی نہ کسی طرح اپنی بجائے کسی دوسری طرف نہیں ہونے دیتا۔ ایسے کوئی بھی غیر متوقع یا متوقع منصوبہ ان کروڑوں لوگوں کی زندگیوں میں انقلاب لا کر انہیں صحت اور تعلیم کے شعبے میں سہولتوں کی فراہمی کی ضمانت دے سکتاہے نہ ہی عوام کو خوشحالی سے ہمکنار کرنے کا موجب بن سکتا ہے۔طب شعبے کی حالت اس حد تک کربناک ہے کہ کسی سرکاری ہسپتال میں تمام بیماریوں کے شعبے نہیں نہ ہی ان سے متعلق معالج ہیں۔ یہی وجہ ہے مختلف بیماریوں میں مبتلا متوسط اور نچلے درجے سے تعلق رکھنے والے عوام نجی ہسپتالوں سے منسلک معالجوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جس کیلئے خاندانوں کو اپنے مریض کی جان بچانے کیلئے اپنی جمع پونجی سمیت جائیداد تک کو فروخت کرنا پڑتا ہے۔ یہ کسی ایک خاندان کی داستان نہیں بلکہ کروڑوں خاندانوں کی کہانی ہے۔ سرکاری اسپتالوں کی جو حالت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے عوام چاہے کتنے غریب کیوں نہ ہوں وہ سرکاری اسپتالوں سے زیادہ پرائیویٹ اسپتال میں جانا پسند کرتے ہیں اس کی وجہ سرکاری اسپتالوں کی حالت زار عملہ کی غفلت ولا پرواہی اور گندگی ہے کیونکہ کوئی بھی انسان اپنے عزیز کی جان سے ہا تھ دھو نا نہیں چاہتا اس لیے بیشک پرائیویٹ ہسپتال والے ان کے برسوں کی جمع پونجی ایک جھٹکے سے خرچ کروا دیں لیکن تر جیح پرائیویٹ ہسپتال کو ہی دی جاتی ہے جو لوگ پرائیویٹ اسپتال کا خرچ برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ انتہائی کسمپسری کی حالت میں سرکاری اسپتال کی طرف رخ کرتے ہیں مریض اگر غلطی سے اسپتال کا رخ کرتا ہے تو اللہ پر بھروسہ کر کے داخل ہوتا ہے ڈاکٹر اور عملہ سے مایوس ہی ہوتا ہے کچھ سرکاری اسپتالوں کی حالت تو اتنی خراب ہے کہ نام سنتے ہی دل برا ہو جاتا ہے۔ اسپتالوں کے آگے گندگی اور غلاظت کے ڈھیر لگے ہوتے ہیں ، حالانکہ عوام الناس کو صحت کی بہتر بنیادی سہولتیں صاف ستھرا ماحول اور مستعد عملہ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ۔یہاں پر یہ بات دلچسپی کا باعث ہے کہ جہاں صحت کی صورتحال دن بدن خراب ہو رہی ہے وہیں پر میڈیکل کالجز، میڈیکل یونیورسٹیوں، ہسپتالوں، ڈاکٹروں اور نرسوں کی تعداد میں روز افزوں اضافہ ہو رہا ہے۔ ٹیکنالوجی میں آنیوالی ترقی اور مختلف ایپس کی وجہ سے اب تشخیص اور علاج کے طریقہ کار میں بہتری آئی ہے لیکن ٹیکنالوجی کی یہ ترقی صرف پرائیویٹ ہسپتالوں تک محدود ہے جہاں سے ملک کا امیر طبقہ ہی اپنا علاج کروا سکتا ہے۔ہیلتھ کیئر کے بحران پر مکمل طور پر اس وقت تک قابو نہیں پایا جاسکتا جب تک اس کیلئے جامع منصوبہ بندی کے علاوہ فنڈز کی مسلسل فراہمی کو ممکن نہ بنایا جائے ۔لہذا ضروری ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں نہ صرف ڈاکٹرز کواپنی ذمہ داریوں کا پابند بنایا جائے بلکہ تمام سہولیات بھی بہم پہنچائی جائیں۔

Facebook Comments
Share Button