تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

آئی پی پیز اورقومی دولت کی تباہی

Share Button

چیف جسٹس نے آئی پی پیز کو زائد ادائیگیوں سے متعلق کیس میں ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے ہمارے گلے کا پھندہ بنے ہوئے ہیں، پتا نہیں اس وقت کون لوگ تھے جنہوں نے معاہدے کیے، عوام کے کروڑوں روپے دے دیے گئے، چاہے وہ بجلی بنائیں یا نہ بنائیں، دنیا بھر میں اس طرح کے معاہدے منسوخ کیے جارہے ہیں،ہم یہ معاملہ نیب کو بھجوادیتے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے سیکرٹری پاور سے کہا کہ رپورٹ کے مطابق ہر آئی پی پی کو 159 ملین زائد ادائیگی کی گئی، آپ کپیسٹی پے منٹ کرتے رہے ہیں ۔جسٹس فیصل عرب نے استفسار کیا کہ حکومت کے پاس بجلی کا شارٹ فال تھا آپ نے سپلائی نہیں کی؟ یہ لوگ ڈارلنگز تھے، اربوں کھربوں کا سرکلر ڈیٹ بن گیا، لوگوں کو بجلی نہیں ملی اور آئی پی پی کو پیسے ملتے رہے، نہ تمام لوگوں کو بجلی ملی نہ صنعتوں کو۔بلاشبہ آئی پی پیز ہماری معیشت کو دیمک کی ماندد چمٹے ہوئے ہیں اربوں روپوں کی ادائیگیوں کے باوجود بجلی کی قلت موجود رہتی ہے کیونکہ بجلی پیدا کیے بغیر بھی انہیں ادائیگیاں کرنا پڑتی ہیں۔1990ء کی دہائی کے وسط سے تمام حکومتوں کا اہم مسئلہ توانائی کے شعبے کے گردشی قرضے رہے ہیں۔ لیکن کوئی بھی گردشی قرضوں کے اِس نازک اور خطرناک معاملے کو کھوجنے کی جرات نہیں کرتاکیونکہ اس سے آئی پی پیز کے بیرونی اور مقامی مالکان کی لوٹ مار سامنے آجاتی ۔ان ملٹی نیشنل اور مقامی کمپنیوں کے منافع کی اصل شرح کا کچھ پتا نہیں۔
یہ سیاسی اور ریاستی اشرافیہ آپس میں جتنا بھی لڑتی رہے، عام لوگوں کی قیمت پر ہوشربا منافع کمانے والی اِن کمپنیوں سے لیے گئے کمیشن اور مراعات کو منظر عام پر نہیں آنے دیتے۔ مشہور زمانہ سوئس بینک کیس ایک مثال ہے جس میں 65 ملین ڈالر کمیشن کی رقم کو اس سرزمین کے سب سے بدعنوان شخص کے اکاؤنٹ میں منتقل کیاگیا تھا۔ یہ رقم دو دہائیوں سے زیادہ عرصے بعد بھی واپس نہیں لائی جا سکی۔ موصوف بعد ازاں تمام مقدمات سے بری قرار پائے۔ایک اندازے کے مطابق 2015ء تک اِن آئی پی پیز کا مجموعی منافع اس رقم کے پانچ گنا سے تجاوز کر چکا تھا جس سے 1995ء میں انہوں نے یہ پلانٹ لگائے تھے۔ یعنی اگر توانائی کے شعبے کو ریاستی کنٹرول میں لے کر اس نجی لوٹ مار کو روکا جاتا اور نئے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی جاتی تو 2015ء تک بجلی کی پیداوار ان آئی پی پیز کی پیداوار سے پانچ گنا زیادہ ہوتی۔ عین ممکن ہے ان آئی پی پیز کے منافع اس سے بھی کہیں زیادہ ہوں۔ گیس کے شعبے میں بھی اسی طرح کے غیرملکی اورمقامی نجی سرمایہ کار ہیں جن سے ایس ایس جی پی ایل اورایس این جی پی ایل گیس خریدتے ہیں۔ اس نام نہاد نئے پاکستان کی حکومت بھی ان سرمایہ داروں کے اثاثوں کو ہاتھ تک نہیں لگا سکے گی۔
یہ اس نظام میں مقدس گائے کا درجہ رکھتے ہیں۔ ماضی کی ہر حکومت کی طرح غریبوں پر بالواسطہ ٹیکس لگا لگا کر خسارے پورے کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مہنگائی کے ایک نئے طوفان کی آمد ہوتی ہے۔اس بحران زدہ سرمایہ داری کی حدود میں یہی ہوسکتا ہے۔ان گردشی قرضوں کا خاتمہ اور عوام کی بجلی اور گیس تک مستقل اور سستی رسائی صرف اسی صورت میں ممکن ہے جب توانائی کے تمام پیداواری اثاثوں کو ریاستی ملکیت اور جمہوری کنٹرول میں لیا جائے۔ لیکن ایسے تاریخی اقدامات کے لئے سماج میں ایک گہری انقلابی تبدیلی درکار ہے جس کے تحت تمام تر پیداوار کا مقصد نجی منافع خوری کی بجائے اجتماعی ضروریات کی تکمیل بنایا جائے۔ای سی سی کو بتایا گیا کہ اس سے پہلے 582 ارب روپے کے گردشی قرضے بینکوں سے قرض لے کر ادا کیا گئے ہیں اور وہ رقم بینکوں کو ادا کرنا ہے۔اس طرح مجموعی طور پر گیارہ کھرب 88 ارب روپے مالیت کے گردشی قرضے قابلِ ادائیگی ہیں۔اقتصادی رابطہ کمیٹی نے گردشی قرضوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور ان گردشی قرض بڑھنے کی وجوہات پر غور کیا تھا۔کمیٹی میں قرضوں کی مالیت بڑھنے کی پانچ سے چھ وجوہات کا تعین کیا گیا ۔ توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں کا مسئلہ بہت پرانا ہے۔اس قبل گزشتہ حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد 500 ارب روپے سے زائد کی گردشی قرضوں کو پبلک ہولڈنگ کمپنی کے اکاؤنٹس میں ظاہر کر کے بینکوں سے اْس کے عوض قرض لیا تھا جس پر حکومت سود ادا کر رہی ہے۔توانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں سے مراد یہ ہے کہ جتنی مالیت کی بجلی پیدا کر کے فروخت ہو رہی ہے اتنی مالیت کی وصولی نہیں ہو رہی۔
پاکستان میں بجلی کی چوری، بجلی کی ترسیل کا پرانا اور بوسیدہ نظام اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ناقص کارکردگی یہ وہ وجوہات جن کی وجہ سے بجلی پیدا کرنے لاگت پوری نہیں ہو رہی ہے۔پاکستان میں زیادہ تر بجلی نجی شعبے کے پاور پلانٹس پیدا کر رہے ہیں جسے حکومت خریدتی اور آئیسکو، لیسکو اور کے الیکٹرک سمیت مختلف ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کے ذریعے صارفین کو فراہم کرتی ہے۔جب یہ کمپنیاں صارفین سے بل وصول نہیں کر پاتیں تو حکومت کے لیے پاور پلانٹس کو رقم ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے اور سرکلر ڈیٹ یا گردشی قرضا بڑھتا جاتا ہے۔پاور پلانٹس کو رقم نہیں ملتی تو پھر وہ پی ایس او سمیت دیگر فرنس آئل درامد کرنے والی کمپنیوں کو ادائیگی نہیں کر پاتیں اور پھر آئل کمپنیوں کے پاس رقم نہیں ہوتی وہ بیرون ممالک سے تیل نہیں خرید پاتیں۔اس طرح یہ قرضہ ایک سے دوسری اور دوسرے سے تیسرے فریق میں گھومتا رہتا ہے۔بجلی کی لاگت اور بجلی کے بلوں سے ہونے والی آمدن کم ہو تو پھر وہ فرق کوئی نہ کوئی تو پورا کرے گا۔ایسے میں حکومت اکثر اوقات سرکاری خزانہ سے یہ رقم پاور پلانٹس کو ادا کرنے کے لیے کمرشل بینکوں سے قرض لیتی ہے۔گردشی قرضوں کا تعلق بجلی کے شعبے میں زرنقد کی دستیابی سے ہے جس کا انحصار تقسیم کا رکمپنیوں کی کارکردگی نیپرا کے نرخوں میں متعلقہ فیصلوں اور حکومت کی سبسڈی سے متعلق پالیسیوں پر ہے۔بجلی کی پیداوار کے لیے جو زر نقد درکار ہوتی ہے وہ صارفین سے وصول کی جاتی ہے لیکن صارفین سے نیپرا کے متعین کردہ نرخوں کے مطابق ہی وصولی کی جاسکتی ہے۔ نیپرا گیارہ تقسیم کارکمپنیوں میں سے ہر ایک کے لیے اس کمپنی کی صورتحال کے مطابق ایک مختلف نرخ متعین کرتاہے۔ حکومت ان مقرر کردہ نرخوں کو دوطریقوں سے تبدیل کرتی ہے۔اول یہ کہ تقسیم کارکمپنیوں کو پالیسی دی جاتی ہے کہ ان گیارہ نرخوں میں سب سے کم کایکساں طورپر پورے ملک میں اطلاق کیا جائے۔ مثال کے طورپر حکومتی ملکیت میں موجود تمام تقسیم کارکمپنیوں کے لیے متعین کردہ نرخوں کی اوسط بارہ روپے فی یونٹ ہے اور کسی کمپنی کے لیے دس روپے فی یونٹ مقرر کیے گئے ہیں۔ جوکہ باقی تمام کمپنیوں سے کم ہیں حکومت دو روپے فی یونٹ کوسبسڈی کے طورپر ادا کرے گی۔دوم یہ کہ اپنے معاشرتی و معاشی اہداف کے حصول کے لیے وفاقی حکومت بعض صارفین کے لیے بجلی کے نرخ کو مزید کم کر دیتی ہے۔حکومت کا بجٹ میں سبسڈی مختص کرنا اور تقسیم کار کمپنیوں کا وصولیوں کی شرح میں اضافہ اور لائن لاسز میں کمی لانا یہ سب عوامل ہیں جو زرنقد کی دستیابی پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ان سے حاصل شدہ رقم اس قدر ہونی چاہئے کہ بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم کی لاگت پوری کی جا سکے۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے محض اپنی لوٹ مار پر توجہ مرکوز رکھی سستی بجلی کی بجائے تیل و گیس سے مہنگی بجلی کی پیداوار پر توجہ دی گئی حالانکہ اگر ہائیڈرو پاور کے لیے ڈیم بنائے جاتے تو نہ صرف پانی کی کمی پورا ہوتی بلکہ ارزاں نرخوں پر وافر بجلی بھی مہیا ہوتی۔

Facebook Comments
Share Button