تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

چلاس،مریض کی موت پر لواحقین کی ہسپتال میں توڑ پھوڑ

Share Button

گزشتہ شب ڈاکٹروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے چلاس ہسپتال لایا جانے والا ہارٹ پیشنٹ کی موت پر لواحقین نے سراپا احتجاج ہوکر ہسپتال ایمرجنسی وارڈ میں توڑ پھوڑ کردی تو اگلے روز چلاس ہسپتال کے تمام ڈاکٹروں نے او پی ڈیز کا بائیکارٹ کرکے ہڑتال کی جس کی وجہ سے سینکڑوں مریض سخت سردی میں کئی گھنٹوں تک چلاس ہسپتال میں رلتے رہے اور مسیحاوں کو فریادیں اور منتیں کرتے رہے ہے لیکن کسی بھی ڈاکٹر نے ان کی ایک نہ سنی اور کئی گھنٹے تک ہڑتال جاری رکھی،ہڑتال کے دوران چلاس ہسپتال لائے جانے والے دو کمسن بچے بھی جاں بحق ہوگئے،اورمریضوں کے ساتھ آنے والوں نے بھی احتجاج ریکارڈ کرایا۔چلاس ہسپتال کے ڈاکٹروں نے ہڑتال کرتے ہوئے کہا کہ ان کو حکومت سیکورٹی فراہم کرے چلاس ہسپتال میں ڈاکٹر غیر محفوظ ہیں۔ڈاکٹروں کا کہنہ تھا کہ موت کو روکنا ان کی بس کی بات نہیں ہے ہسپتال میں جو بھی مرتا ہے زمہ دار ڈاکٹروں کو قرار دیاجاتا ہے یہ کسی صورت درست بات نہیں۔ڈاکٹروں نے کہا کہ گزشتہ شب ہارٹ پیشنٹ کی موت ڈاکٹروں کی غفلت کی وجہ سے نہیں بلکہ لواحقین کی لاپرواہی کی وجہ سے واقع ہوئی ہے،ڈاکٹر نے ہارٹ پیشنٹ کو تین روز قبل ڈاون کنٹری ریفر کیا تھا لیکن لواحقین نے تاخیر کی۔ڈاکٹروں نے کہا کہ جاں بحق شخص کے لواحقین نے ہسپتال میں توڑ پھوڑ کی ہے اور ایک ڈاکٹر کو ہراساں بھی کیا ہے،انتظامیہ ایکشن لے اور ڈاکٹروں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ہسپتال کے احاطے میں جی بی سکاوٹ کی چوکی قائم کی جائے۔ایم ایس چلاس ہسپتال ڈاکٹر قاسم نے کہا کہ عوام ہسپتال انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔انہوں نے کہا کی چلاس ہسپتال میں چھ ماہ کا ایک بچہ جاں بحق ہوا ہے،جبکہ عینی شاہد عباد اللہ شاہ کا کہنہ ہے ہسپتال میں ڈاکٹروں کی ہڑتال کے دوران دو بچے جاں بحق ہوئے تھے۔ضلعی انتظامیہ کے زمہ داروں نے ہڑتال پر بیٹھے ڈاکٹروں اور احتجاج کرنے والے مریضوں کے رشتہ داروں سے کامیاب مذکرات کیئے ،جس پر ڈاکٹروں نے ہڑتال ختم کی اور مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے

Facebook Comments
Share Button