تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

وزراء کی تنقید کے بعد وزیر اعلیٰ ہائوس گلگت میں غیر معمولی اجلاس

Share Button

بعض وزراء کی جانب سے حکومت مخالف بیانا ت کے بعد وزیر اعلیٰ ہائوس میں سرگرمیاں بڑھ گئیں، ذرائع کے مطابق جمعرات کے روز سی ایم ہائوس میں وزیر اعلیٰ کی اپنے رفقاء کے ساتھ اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیرا علیٰ کے قریب ترین سمجھے جانے والے رفقاء کی شریک تھے، ذرائع کے مطابق گلگت میں اس وقت اجلاسوں کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے، کابینہ میں بغاوت کے پیش نظر وزیراعلیٰ کی جانب سے ”دفاعی”حکمت عملی پر غور کیاجارہاہے۔کہا جارہا ہے کہ کابینہ میں ون مین شوکی گونج اب نجی محفلوں سے جلسوں اور اجلاسوں تک پہنچاشروع ہوئی ہے، اس کی ایک جھلک گزشتہ روز دیامر میں صوبائی وزیر ثوبیہ مقدم کی سخت تقریر میں نظر آئی انہوں نے کہا تھا کہ گزشتہ تین سال کے دوران صوبائی حکومت کی کارکردگی صفر رہی، وزیراعلیٰ دعوے بہت کرتے رہے عملا کوئی کام نہیں کیا ہم شرمندہ ہیں، ثوبیہ کی تقریر کے بعد وزیراعلیٰ نے اظہار وجوہ کا نوٹس بجھوادیا ہے ،ذرائع کے مطابق صوبائی وزیر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ،نوٹس کا جواب بھی تیار کررکھا ہے۔ادھر جعفراللہ خان کو بھی نوٹس کی افواہوں کے بعد صورتحال گھمبیر ہوتی جارہی ہے ،انہی صورتحال سے نمٹنے کیلئے گلگت کے حکومتی ایوانوں میں اس وقت اجلاسوں کا سلسلہ زور پکڑگیا ہے۔ایک حکومتی اہلکار نے کے پی این کو بتایا کہ صوبائی حکومت میں ون مین شو کی وجہ سے کئی وزراء حکومتی امور سے لاتعلق ہوکررہ گئے ہیں اور ممکن ہے کہ ثوبیہ مقدم اور جعفراللہ خان جیسی اور بھی سخت تقاریر سننے کو ملیں۔، اس کی ایک مثال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنڈا پور کمیٹی میں صوبائی حکومت کی جانب سے جو سفارشات پیش کی گئی ہیں اس کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کابینہ سے مشاورت تک نہیں کی، سفارشات کیچن کابینہ کے دوتین وزیر اور غیر منتخب مشیروں کی مشاورت سے تیار کی گئی تھیں۔اس دعوے کی تصدیق کیلئے کے پی این نے گزشتہ روز حکومت کے ایک اہم وزیر سے سفارشات کے حوالے سے استفسار کیاتو وہ لاعلم نکلے انہوںنے یہ اعتراف بھی کیا کہ وزیر اعلیٰ نے کابینہ کے ارکان سے اس حوالے سے کوئی مشاورت نہیں کی،چونکہ یہ اہم ترین معاملہ ہے کابینہ حتی کہ اسمبلی ممبران سے بھی مشاورت ہونی چاہیے تھی لیکن نہیں ہوئی

Facebook Comments
Share Button