تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

جی بی کیلئے کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ

Share Button

تاریخ میں پہلی مرتبہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کیلئے آزاد کشمیر سے منظم اور موثر آواز بلند ہونے لگی، وزیراعظم آزاد جموں و کشمیر راجہ فاروق حیدر نے اے جے کے قانون ساز اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کا بااختیار نظام دینے کا مطالبہ کر دیا ہے ، گزشتہ روز کشمیر اسمبلی میں فاروق حیدر کی جانب سے ایک قرارداد پیش کی گئی ہے جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر کی طرز پر ایک حکومتی، انتظامی و پارلیمانی اور عدالتی سیٹ اپ دینے کیلئے بلاتاخیر تمام ضروری اقدامات کیے جائیں تا کہ طویل عرصے سے گلگت بلتستان کے عوام میں پائی جانے والی بے چینی کو ختم کیا جا سکے ، قرارداد میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کو تاحال وہ حقوق حاصل نہیں ہوتے جو ان کا پیدائشی ، انسانی و قانونی حق ہے ، گزشتہ ادوار میں بذریعہ آرڈر گلگت بلتستان کی حکومت اور عوام کو بااختیار بنانے کی سعی کی گئی لیکن ان اقدامات سے وہاں کے عوام مطمئن نہیں ہوئے، اس سلسلے میں اس وقت حکومت پاکستان سنجیدہ کوششیں کر رہی ہے قرارداد میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی طرف سے مزید کہا گیا ہے کہ میں اور اپنی جماعت مسلم لیگ ن کی طرف سے گلگت بلتستان کے بھائیوں اور بہنوں کو یقین دلاتا ہوں کہ ان کے جائز قانونی و آئینی حقوق کے تحفظ کیلئے نہ صرف آزاد کشمیر حکومت بلکہ اس ایوان کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتیں اور آزاد خطہ کے عوام گلگت بلتستان کے عوام کی حمایت جاری رکھیں گے ، فاروق حیدر کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کی سابق وزیراعظم چوہدری مجید، جماعت اسلامی کے سابق امیر رکن اسمبلی عبدالرشید ترابی، تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر عبدالماجد خان، مسلم کانفرنس کے رکن اسمبلی ملک نواز، جموں و کشمیر پیپلزپارٹی کے رکن اسمبلی سردار حسن ابراہیم نے حمایت کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام کو جمہوری اور آئینی حقوق دینے کا مطالبہ کر دیا، ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے آزاد کشمیر سے زیادہ قربانیاں دی ہیں ، آزاد کشمیر کی کوئی بھی سیاسی جماعت گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی مخالف نہیں، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے خود لڑ کر وہ خطہ آزاد کروایا تاریخی طور پر گلگت بلتستان ریاست جموں و کشمیر کا حصہ ہے، ہم وہاں آزاد کشمیر جیسے بااختیار سیٹ اپ کیلئے بھرپور آواز اٹھا رہے ہیں، ہم اس ایوان کے ذریعے جی بی کے عوام کو پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے حقوق کیلئے ساتھ کھڑے ہیں، سابق وزیراعظم چوہدری مجید نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو گلگت بلتستان کے حوالے سے جامع قرارداد ڈرافٹ کر کے وزیراعظم پاکستان کو بھجوائے ، انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی مکمل حمایت کرتے ہیں لیکن اس کو مستقل صوبہ بنانے کی کبھی حمایت نہیں کریں گے، جماعت اسلامی کے عبدالرشید ترابی نے کہا کہ گلگت بلتستان کے حقوق کے حوالے سے پیش کی گئی قرارداد پر ساری سیاسی جماعتوں کا اتفاق رائے ہے ، وہاں کے عوام کے گلے شکوے عدم روابط کی وجہ سے بڑھے ہیں ان کے اکثر شکوے جائز ہیں ، رکن اسمبلی عبدالماجد خان نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام کے حقوق کی کبھی بھی آزاد کشمیر کی سیاسی قیادت نے مخالفت نہیں کی ۔ واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ ہے کہ آزاد کشمیر کے حکومتی ایوانوں سے باقاعدہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی آوازیں بلند ہونے لگی ہیں، حالیہ قرارداد میں واضح طور پر گلگت بلتستان کو آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کا مطالبہ کیا، گلگت بلتستان کے عوام کا بھی یہی مطالبہ ہے کہ خطے کو عبوری آئینی صوبہ بنانے کی راہ میں کوئی ناقابل حل رکاوٹ موجود ہے تو آزاد کشمیر طرز کا حکومتی نظام دیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button