GB News

عدالتی فیصلہ نامنظور، نظر ثانی اپیل کریں گے، وزیر اعلیٰ

Share Button

وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاہے کہ جی بی حکومت سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے پرنظرثانی کی اپیل دائر کرے گی، سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی صورت عوام کیلئے قابل قبول نہیں، سپریم کورٹ کے فیصلے نے وہ تمام حقوق ہم سے چھین لئے جو سابقہ حکومت نے تفویص کئے تھے، جسٹس ثاقب نثار نے دو سال اس ملک کو تباہ کیا اب جاتے ہوئے گلگت بلتستان کے حقوق کو تباہ کرگیا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کا سوموار کو سپیکر جی بی اسمبلی اور صوبائی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ایسا مسودہ سپریم کورٹ کو دیا ہے جس میں صوبائی خود مختاری کو ختم کیا گیا ہے ،اس فیصلہ کے بعد گلگت بلتستان میں بد امنی کا خدشہ پیدا ہوا ہے،سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی صورت گلگت بلتستان کی حکومت اورعوام کو قبول نہیں ہے،صوبائی حکومت اس معاملے پر اب خاموش نہیں رہے گی بلکہ گلگت بلتستان کے عوام کے امنگوں کے عین مطابق قانونی جنگ لڑیں گی اور ہر محاز پر سیاسی جدوجہد کو تیز کرئے گی۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت عدالتی فیصلہ اور وفاقی حکومت کے غیر سنجیدہ روئیے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گی اورفیصلے پر نظر ثانی کی درخواست دیں گی۔وزیر اعلیٰ نے وفاقی حکومت سے کہا کہ ابھی بھی وقت ہے کہ حکومت سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالت میں جمع کردہ آرڈر کے ڈرافٹ کو صدر کے پاس منظوری کیلئے پیش کرنے سے قبل صوبائی حکومت کے ساتھ مل بیٹھے اور ہماری تجاویز کو اس میں شامل کرے۔وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ بنیادی حقوق کی فراہمی کا معاملہ سیاسی طور پر حل کیا جاسکتا ہے اور حقوق سیاسی حکومتیں ہی دیتی ہیں مگر کچھ ناسمجھ افراد نے اس معاملے کو عدالت میں لیکر گیا۔ہمارا مطالبہ تھا کہ سابق حکومت نے ہمیں تمام حقوق دئے ہیں حکومت اب ان حقوق کو آرڈر کے بجائے ایکٹ کے زریعے تحفظ دے مگر عدالت نے ایسا کرنے کے بجائے ہمیں دئے گئے حقوق واپس لے لئے۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے ابتداء میں ہم سے اس معاملے پر کافی مشاورت کی اور وفاقی وزیر قانون نے آرڈر کو ایکٹ کی شکل میں منظوری کیلئے جی بی اسمبلی اور کونسل کا مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز دی تھی اور ہم سے آخری اجلاس میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ ہم سے بھرپورمشاورت کے بعد تجاویز سپریم کورٹ میں جمع کرایاجائے گا جس پر صوبائی وزیرقانون نے اپنی تجاویز حکومت کو پیش کی تھی لیکن حکومت نے ان سفارشات کو نظر اندازکیا گیاجس پر ہم نے عدالت کو بھی آگاہ کیا اور تحریری طور پر وہ سفارشات عدالت میں بھی جمع کرادی لیکن اس کے باوجود جو فیصلہ آیا وہ مایوس کن ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے آخری وقت پر بدنیتی کا مظاہرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عدالتی کیس میں ہماری حکومت فریق نہیں تھیحالانکہ حکومتی جماعت واحد جماعت ہے جس میں تمام علاقوں اور مسلکوں کی یکساں نمائندگی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سابقہ حکومت میں آئینی حقوق کی فراہمی کیلئے سرتاج عزیز کی سربراہمی میں کمیٹی قائم کی۔ کمیٹی نے جی بی کو عبوری صوبہ بنانے کی سفارش کی لیکن نامساعد حالات کے باعث صوبہ بنانے کی سفارش پر عملدرآمد نہ ہوسکا۔ تاہم سابق حکومت نے جی بی کو وہ تمام اختیارات دیے جو باقی صوبوں کو حاصل ہیں۔اس موقع پر صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ کا کہنا تھا کہ سابق حکومت نے جی بی آرڈر 2018 میں عدالتی ریفارمز میں ججز کی عمر 65 سال مقرر کی تھی جو اب عدالتی فیصلے اور نئی آردڑ کے زریعے 70 برس کردی گئی ہے۔ جی بی آرڈر 2018 میں کنٹریکٹ پر آنے والے ججز کو پنشن اور مراعات نہ دینے کا کہا تھا۔ اب آرڈر 2019 میں انہیں دوبارہ وہ تمام مراعات دینے کا کہا ہے۔2018 کے آرڈر میں جی بی کے شہریوں کو پاکستانی شہری قرار دیا گیا جو اب ختم کیا ہے۔ 2018میں کونسل کے اختیارات ختم کردیا تھا اب 2019 آرڈر میں اس کے اختیارات بحال کردیا ہے۔آرڈر 2018 میں سول سرونٹ سروسز میں جی بی کی نمائندگی کی شرح کو بڑھایا گیا تھا اب اس کو کم کردیاہے۔پریس کانفرنس کے دوران سپیکر فدا ناشا د نے کہا کہ گلگت بلتستان ریفارمز آرڈر 2019میں لکھا گیا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت گلگت بلتستان کو عبوری صوبہ بنانے کی خواہشمند تھیں لیکن قومی اسمبلی اور سینٹ میں اکثریت نہیں ہے اس لئے آئین میں ترمیم نہیں کر سکتی ہے اس حوالے سے میرا سوال ہے کہ اگر تحریک انصاف گلگت بلتستان سے مخلص تھی تو ترمیم قومی اسمبلی میں پیش کرتی تاکہ گلگت بلتستان کے عوام کو دوست اور دشمن جماعتوں کا علم ہو جاتا۔

Facebook Comments
Share Button