تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

جوڈیشل ایکٹویزم کا مقصد لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دینا تھا، ثاقب نثار

Share Button

سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ مجھے اپنی ٹیم میں چار لوگوں پر فخر ہے، جنہوں نے صحت کے شعبے میں اصلاحات کیلئے میری مدد کی،میں کسی کو وضاحت دینے کیلئے نہیں آیا میں نے سارے کام نیک نیتی سے کیے ہیں جوڈیشیل ایکٹیویزم کا مقصد لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دینا تھا، قائد اعظم کی پاکستان کے ساتھ محبت تھی کہ اپنی بیماری کو چھپایا ورنہ پاکستان شاید نہ بنتا۔ منگل کو لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا بھائی ڈاکٹرساجد نثار، عامر زمان، ڈاکٹر ایاز اور امجد میری شروع کی ٹیم میں شامل تھے اور بعد میں بتدریج میرا قافلہ بڑھتا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کا میں احسان نہیں دے سکتا، انہوں نے ہر موقع پر میری مدد کی۔ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے محکمہ صحت میں پاکستان کے ہر خطے میں کام کیا اور آخری وقت تک میں نے کوشش کی کہ اس میں بہتری لائی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر مسیحا ہیں اور ان کی وجہ سے ایک اسٹیٹ ویلفیئر اسٹیٹ ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا میں کسی کو وضاحت دینے کیلئے نہیں آیا میں نے سارے کام نیک نیتی سے کیے ہیں جوڈیشیل ایکٹیویزم کا مقصد لوگوں کو زندہ رہنے کا حق دینا تھا۔سابق چیف جسٹس نے بتایا کہ کوئٹہ کے سب سے بڑے اسپتال میں عملہ اور مشینری نہیں تھی اور جب میں وہاں گیا تو ایک ہزار سے زائد لوگ ہڑتال کر کے بیٹھے تھے میں نے ایک بار کہا تو انہوں نے ہڑتال ختم کردی یہ تھی محبت۔انہوں نے کہا اس ملک سے محبت کریں، محبت جنوں کی کیفیت پیدا کرتی ہے آپ کسی کام کیلئے جب جنون پیدا کر لیتے ہیں تو سسٹم ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ثاقب نثار نے تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ قائد اعظم کی پاکستان کے ساتھ محبت تھی کہ اپنی بیماری کو چھپایا ورنہ پاکستان شاید نہ بنتا۔

Facebook Comments
Share Button