تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

طالبان سے مذاکرات میں امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا: زلمے

Share Button

کابل: امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد نے طالبان اور امریکا کے درمیان ہونے والے حالیہ مذاکرات سے متعلق افغان صدر اشرف غنی کو تفصیلات سے آگاہ کیا اور بتایا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان  امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں زلمے خلیل زاد کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے افغان قیادت کو طالبان اور امریکا کے درمیان حالیہ مذاکرات کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ طالبان امریکا مذاکرات میں افغانستان میں سیاسی نظام کی تبدیلی پر بات نہیں کی گئی۔

افغان صدارتی محل سے جاری بیان میں مزید دعویٰ کیا گیا کہ زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ مذاکرات میں افغانستان میں عبوری حکومت کے قیام سے متعلق بھی کوئی بات نہیں کی گئی جب کہ طالبان سے جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کیے جس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔

افغان صدارتی محل کی جانب سے جاری بیان کے مطابق زلمے خلیل زاد نے کہا کہ مذاکرات میں طالبان رہنماؤں نے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا مطالبہ دہرایا تاہم اس موقع پر امریکی فوج کے انخلا کا کوئی معاہدہ طے نہیں پایا۔

افغان میڈیا نے دعویٰ کیا کہ طالبان اور امریکا کے درمیان باقی رہ جانے والے معاملات پر زلمے خیل زاد طالبان قیادت سے دوبارہ ملاقات کریں گے۔

جنگ بندی معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہوگیا، زلمے خلیل زاد

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مصالحتی عمل زلمےخلیل زاد نے امریکی اخبار کو انٹرویو میں بتایا کہ امریکا اور طالبان کے درمیان جنگ بندی معاہدے کےمسودے پراتفاق ہوگیا۔

خلیل زاد نے مزید بتایا کہ معاہدے پر عمل درآمد سے پہلے فریم ورک مسودے کے بنیادی اصولوں کو طے کرلیا گیا ہے، طالبان نے افغانستان کو عالمی اور انفرادی دہشتگردوں کی آماجگاہ نہ بننےکاوعدہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں کافی اعتماد حاصل ہوا اور اب تفصیلات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

دریں اثناء افغان میڈیا سے گفتگو میں امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے کہا کہ ‘پہلی باریہ کہہ سکتاہوں کہ مذاکرات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، مکمل کامیابی تک پہنچنے کے لیے ابھی بہت سارا کام ہونا باقی ہے، یہ موقع ہےجس سے افغانوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے۔

زلمےخلیل زاد نے کہا کہ افغانوں کوسیاسی اختلافات بھلا کراس موقع سے جلد فائدہ اٹھانا چاہیے، طالبان پر افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کرنے پر زور دیا ہے، افغان مسائل کا حل اب افغانوں کے ہاتھ میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم مل کر جنگ بندی کے لیے کام کر رہے ہیں، طالبان سے عبوری حکومت سے متعلق کوئی بات نہیں کی، افغان عوام کی خاطر افغانستان میں جلد سے جلد امن چاہتے ہیں، افغانستان کو غیریقینی کی صورتحال میں نہیں چھوڑ سکتے۔

دوسری جانب امریکی سفارتخانے کی جانب سے اب تک افغان صدارتی محل کے بیان پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا، زلمے خلیل زاد کی جانب سے امریکا طالبان مذاکرات کے بعد اسے نمایاں کامیابی قرار دیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ قطر کے شہر دوحہ میں امریکا اور افغان طالبان کے درمیان مسلسل 6 روز تک مذاکرات جاری رہے اور 27 جنوری کو سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق فریقین نے 18 ماہ کے اندر افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء پر اتفاق کیا۔

امریکا اور طالبان مذاکرات میں جنگ بندی کا شيڈول آئندہ چند روز میں طے کرنے پر بھی اتفاق ہوا اور مذاکرات میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ طالبان جنگ بندی کے بعد افغان حکومت سے براہ راست بات کریں گے۔

Facebook Comments
Share Button