تازہ ترین

Marquee xml rss feed

وزیراعلی پنجاب نے تقرر و تبادلوں پر پابندی لگا دی-حکومت کا شرعی قوانین کے تحت احتجاجی مظاہروں کیخلاف مسودہ تیار حکومت نے احتجاجی مظاہرے ’’شریعت اور قانون کی نظرمیں“ کے عنوان سے مسودہ تیارکیا ہے، مسودے کو اگلے ایک ... مزید-دھماکے میں پاکستانی قونصل خانے کا تمام عملہ محفوظ رہا، ڈاکٹر فیصل دھماکا آئی ای ڈی نصب کرکے کیا گیا، قونصل خانے کی سکیورٹی بڑھانے کیلئےافغان حکام سے رابطے میں ہیں۔ ترجمان ... مزید-جلال آباد میں پاکستان سفارت خانے کے باہر دھماکا دھماکے میں ایک سکیورٹی اہلکار سمیت 3 افراد زخمی ہوگئے، دھماکا پاکستانی سفارتخانے کی چیک پوسٹ کے 200 میٹر فاصلے پر ہوا۔ ... مزید-گلوکارہ ماہم سہیل کے گانے سجن یار کی پری سکریننگ کی تقریب کا انعقاد-پاک ہیروز ہاکی کلب کی 55 ویں سالگرہ پر ٹورنامنٹ کا انعقاد-صفائی مہم کے دوران 47 ہزار ٹن کچرا نالوں سے نکالا گیا ہے‘ وفاقی وزیر برائے بحری امور علی زیدی-مودی کے دورہ فرانس پر”انڈیا دہشتگرد“ کے نعرے لگ گئے جب کوئی دورہ فرانس پرتھا، ترجمان پاک فوج کا دلچسپ ٹویٹ، سینکڑوں کشمیری، پاکستانی اورسکھ کیمونٹی کے لوگوں کا ایفل ... مزید-حالیہ پولیو کیسز رپورٹ ہونے کے بعد بلوچستان میں خصوصی پولیو مہم شروع کی جا رہی ہے، راشد رزاق-آئی جی پولیس نے راولپنڈی میں شہری سے فراڈ کے واقعہ کا نو ٹس لے لیا

GB News

محکمہ پولیس کے عوامی شکایات سیل

Share Button

انسپکٹر جنرل پولیس گلگت بلتستان ثناء اللہ عباسی کی سربراہی میں پولیس ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والی اہم میٹنگ میں انہیں عوامی شکایات سیل کے طریقہ کار پر بریفنگ دی گئی ۔آئی جی پی ثناء اللہ عباسی کو بتایا گیا کہ جنوری 2019 میں ایف آئی آر درج نہ کرنے، بیگناہ کو گرفتار کرنے اور غلط ایف آئی آر کے اندراج وغیرہ کے کل آٹھ شکایات موصول ہوئیں جن میں سے چار شکایات کا ازالہ کیا گیا تین پر کارروائی جاری ہے جبکہ ایک شکایت جھوٹی ثابت ہوئی۔یہ کہا گیا کہ گلگت بلتستان کے تمام اضلاع میں دس ڈسٹرکٹ کمپلیئن آفیسران تعینات ہونگے۔کمپلیئن سیلوں میں 98 کے قریب سٹاف ہوگا۔انکوائری آفیسران کیلئے سہولیات بھی میسر ہونگیں۔اگر کوئی شکایت بائی ہینڈ، ای میل،فون یا پاکستان سٹیزن پورٹل کے ذریعے موصول ہوتی ہے تو آٹھ گھنٹے میں شکایت کنندہ انکوائری آفیسر سے رابطہ کرے گا جہاں اسے شکایت کے ازالے کا وقت سے آگاہ کیا جائے گا اور شکایت کے حل ہونے اور نہ ہونے سے متعلق بھی بتایا جائے گا۔ڈی آئی جیز اور تمام اضلاع کے ایس پیز کے ٹیلیفون نمبروں اور ایمیل پر’ آئی جی پی کمپلیئن سیل ، ڈی آئی جی کمپلیئن سیل اور ڈسٹرکٹ کمپلیئن میں شکایات کا اندراج کرایا جاسکتا ہے ۔اگر کوئی شکایت کنندہ رینج شکایات سیل یا ڈسٹرکٹ شکایات سیل کی کاروائی سے مطمئن نہ ہو تو آئی جی پی شکایات سیل کاروائی کرے گا۔عوامی شکایات سیلز کے ذریعے لوگوں کی مشکلات و پریشانیوں کا ازالہ بنیادی طور پر محکمہ پولیس کی ذمہ داری ہے لیکن دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ پولیس کی سطح پر ایسے اقدامات محض کاغذی کارروائیوں سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتے اور لوگ بدستور پریشانیوں کا سامنا کرتے رہتے ہیں’ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ اگر پولیس اس طرح شکایات کا ازالہ شروع کر دے تو وہ اس کا اپنا”کاروبار” بند ہو جائے گا۔اور یہ کہ پولیس سے بہتری کی توقع محض بااثر افراد اورطاقتور شخصیات ہی کر سکتی ہیں عام آدمی یہ تصور بھی نہیں کر سکتا کہ پولیس اس کی شنوائی یا اشک شوئی میں کوئی کردار ادا کرے۔عوامی شکایات سیل’کھلی کچہریاں’شکایات کیلئے ٹیلی فون نمبرز کا اجراء اورمخصوص دنوں میں شکایات کے ازالے کیلئے حکام کی جانب سے وقت مقرر کرنے جیسے اقدامات ہر دور میں کیے جاتے ہیں اگر یہ نیک نیتی اور خلوص پر مبنی ہوں تو لوگوں کو پولیس سے شکایات ہی نہ ہوں حالانکہ یہ پولیس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شخص کو انصاف کی فراہمی میں معاونت کرے مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ تمام تر کوششوں کے باوجود پولیس کو عوام دوست نہیں بنایا جا سکا اور لوگوں میں ہنوز پولیس کا خوف موجود ہے وہ پولیس سے مدد کی بجائے کنی کترا کر گزر جانے ہی میں عافیت محسوس کرتے ہیں۔اکثرلوگ اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کو سہہ جاتے ہیں لیکن پولیس کا در نہیں کھٹکھٹاتے۔وطن عزیز کی تاریخ گواہ ہے کہ ہر صوبائی اوروفاقی حکومت کا سربراہ اس امر کی یقین دہانی کرانا نہیں بھولتا کہ عوام کو ہر صورت امن و سکون کا ماحول اور فضا مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے یہ اعلیٰ ترین حکمران شخصیات اس امر پر بھی زور دیتی رہی ہیں کہ پولیس عوام کی نگاہ میں اپنا امیج بحال کرنے پر پوری توجہ دے حکمران کل کے ہوں یا آج کے ،اْنہیں اس امر کا ہمیشہ احساس رہا ہے کہ عوام اب بھی عدم تحفظ کا شکار ہیں پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہٰی نے ایک بار پولیس کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ عوام چوری کے کسی واقعہ کی ایف آئی آر بھی خوف کی وجہ سے درج کرانے تھانے نہیں جاتے یہ امر خوش آئند ہے کہ آئی جی گلگت بلتستان محکمہ پولیس کی اصلاح کیلئے بہت سی موثر کوششیں کر رہے ہیں۔ماضی میں بعض حلقوں میں ایک تصور یہ بھی پایا جاتا تھا کہ پولیس میں بدعنوانی ، بے ضابطگی اور رشوت ستانی کی بڑی وجہ پولیس ملازمین کی تنخواہوں کاکم ہونا ہے۔گزشتہ پندرہ برسوں کا ریکارڈ گواہ ہے کہ منتخب اور غیر منتخب حکومتوں کے ہر دور میں پولیس ملازمین کی تنخواہوں اورمراعات میں ایک تسلسل اور باقاعدگی کے ساتھ اضافہ ہوتا رہا ہے۔ محکمہ پولیس کے اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات میں اضافے پر کسی شہری کو کوئی اعتراض نہیں لیکن عام شہری اس کا مثبت ردعمل پولیس کے رویوں میں بھی دیکھنا چاہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسا کرنے میں حق بجانب ہے۔ اس کا مشاہدہ اسے یہی بتا تا ہے کہ سہولیات اورمراعات میں بیش بہا اضافے کے باوجودمحکمہ پولیس میںآج بھی رشوت ستانی کی گرم بازاری ہے۔عالم یہ ہے کہ تھانوں اور چوکیوں میں متعینہ محررکسی شے یا شہری کی گمشدگی کی اطلاعی درخواست بھی بلافیس وصول نہیں کرتے۔حکام یہ تو کہتے ہیں کہ وہ پولیس کلچر تبدیل کرناچاہتے ہیں مگر ایسا ہوتا نہیں چنانچہ پولیس عوام کے لیے آج بھی خوف کی علامت ہے۔مختلف وفاقی اور صوبائی سربراہان حکومت پولیس کا قبلہ درست کرنے کیلئے آہنی اقدامات کرنے کے عزم کا اعادہ کرتے رہتے ہیں۔ایک غیر جانبدار مبصر یہ رائے قائم کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ شاید محکمہ پولیس ایک ناقابل تسخیر جن ہے جسے کوئی طاقتور ترین حکمران بھی نظم کی بوتل میں بند کرنے کی قدرت نہیں رکھتا۔اربابِ حکومت بھی کئی بار محکمہ پولیس کی کارکردگی کو عوام دوست بنانے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ان کی نیک خواہشات کے باوجود عالم یہ ہے کہ آج بھی یہ شکوہ موجود ہے کہ عوام اور پولیس کے مابین اعتمادکا رشتہ ختم ہو چکاہے سوال یہ پیداہوتاہے کہ اس رشتے کو بحال کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ وہ کونسی قوت ہے جو عوام کے ہاں پائے جانے والے اس تاثر اور احساس کو زائل کرے کہ پولیس عوام دوست ادارہ نہیں ہے۔یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ محکمہ پولیس ہویادیگر سرکاری محکمے ان کے قیام کی بنیادی غرض و غایت کیا ہے؟ کیا یہ درست نہیں کہ تمام ریاستی اداروں اور محکموں کے قیام کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت اور رہنمائی کرنا ہے؟ کیا محکمہ پولیس سمیت دیگر ریاستی ادارے اور محکمے اپنے اس فطری کردار کو کماحقہ ادا کررہے ہیں؟ اس سوال کا جواب یقیناً اثبات میں نہیں ہے۔ آخر وہ دور کب آئے گا جب ایک مظلوم تھانے کی عمارت میں داخل ہوتے ہوئے اپنی جان، مال اور آبرو کو محفوظ تصور کرے گا؟ کیایہ سچ نہیں کہ سادہ لوح معصوم شہری جونہی کسی تھانے کی حدودمیں قدم رکھتاہے، اندر کا خوف اسے بے چین کیے رکھتا ہے۔ہونا تویہ چاہئے کہ پولیس کو ہر شہری اپنی جان ،مال اور آبرو کا محافظ جانے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ مقام افسوس ہے کہ وطن عزیز کی بااختیار اورمقتدر ترین شخصیات بھی محکمہ پولیس کا قبلہ درست کرنے میں ناکام رہیں۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ اوپر سے نیچے تک محکمہ پولیس کے اہلکار وافسران ایک بے جا قسم کے احساس برتری میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے محکمے کی بالادستی کا سکہ جمانے اور لوہا منوانے کے لیے ہرغیر انسانی،غیر اخلاقی اور غیر قانونی حرکت کے ارتکاب کو اپنا استحقاق گردانتے ہیں۔محکمہ پولیس کی اعلیٰ بیوروکریسی کو اس صورت حالات کی اصلاح کیلئے اپنے تئیں مساعی بروئے کار لاناچاہئیں۔ محکمہ میں موجود اعلیٰ افسران مقابلے کے اعلیٰ امتحانات کو پاس کرنے کے بعد اس محکمے میں خدمات کیلئے منتخب کئے جاتے ہیں۔ بلاشبہ پولیس بیوروکریسی معاشرے اور مملکت کے ذہین ترین افراد پر مشتمل ہے لیکن عام آدمی کیلئے یہ بات آج بھی ناقابل فہم ہے کہ اپنی تمام تر قابلیتوں، اہلیتوں اور ذہانتوں کے باوجود وہ اپنے ماتحتوں کے درشت اور نامناسب غیر اخلاقی رویوں کی اصلاح کرنے سے کیونکر قاصر رہے ہیں۔ اگر گلگت بلتستان میں شکایت سیلز کے ذریعے شکایات کے ازالے کی روایات پروان چڑھتی ہے تو یہ یقینا بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

Facebook Comments
Share Button