تازہ ترین

Marquee xml rss feed

GB News

تعلیمی میدان میں تعاون کی یقین دہانی

Share Button

وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی سے ملاقات میںگلگت بلتستان کے آئینی معاملات اور عوام کے جذبات سے صدر پاکستان کوآگاہ کیا ،صدر پاکستان نے خطے کی اہمیت اور وہاں کے عوام کی حب الوطنی کو سراہتے ہوئے ایوان صدر کی طرف سے تمام تر حمایت اور اعانت کا یقین دلایا ،وزیر اعلی نے قراقرم یونیورسٹی کے چند اہم منصوبوں اور اس کی ضروریات سے صدر کو باور کرایا،جن میں خواتین کیمپس کے قیام ،انجنیئرنگ کالج ،الیکٹریکل اور مکینکل شعبہ جات کے قیام۔دیامر ،غذر اور ہنزہ کیمپس کو باقاعدہ ڈھانچے اور ضروریات سے آراستہ کرنے ،تکنیکی تعلیم کیلئے اینڈو منٹ فنڈ کے قیام ،پروفیشنل ڈویلپمنٹ کے شعبے کو مضبوط کرنا،اور دیامر میں خواتین کے تعلیم کی ترویج کیلئے مخصوص اینڈومنٹ فنڈ کے قیام کے حوالے سے صدر پاکستان سے درخواست کی جس پر صدر پاکستان نے قراقرم یونیورسٹی کوپاکستان کی بہترین جامعات کی صف میں لاکھڑا کرنے کے لئے اپنی بھر پور حمایت اور تعاون کی یقین دھانی کرائی اور کہا کہ اس حوالے سے میں ذاتی طور پر نگرانی کروں گا۔صدرمملکت کی جانب سے تعلیی شعبے میں اقدامات کے ضمن میں تعاون کی یقین دہانی سے امید کی جا سکتی ہے کہ اس شعبے میں حوصلہ افزاء پیشرفت دکھائی دے گی۔ہم جانتے ہیں کہ پیشہ وارانہ تعلیم میں سرمایہ کاری کسی بھی معاشرے کو معاشی، سماجی اور دوسرے مسائل سے نکال کر ترقی کی سنہری شاہراہ پر گامزن کر سکتی ہے ہمارا تعلیمی نظام صرف اسی صورت میں اعلیٰ تعلیمی نظام بن سکتا ہے جب ہم پیشہ وارانہ اور مہارت یافتگی کی حامل تعلیم و تربیت پر توجہ دیں گے۔ بصورت دیگر ہمارے ہر قسم کے تعلیمی پروگرام تباہ ہو کر رہ جائیں گے۔پاکستان میں تعلیم کو فوری طور پر پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل افراد پیدا کرنے پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے انسانی وسائل کو بہتر طریقہ سے بروئے کار لائیں۔ دنیا میں کئی ممالک نے اپنی آبادی کے بیشتر حصہ کو اعلیٰ تکنیکی صلاحیتوں سے آراستہ کر کے ترقی کی منازل طے کی ہیں۔ ہماری تعلیم کو انڈسٹری کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی تعلیم کے ذریعے پیشہ وارانہ مہارت یافتہ افرادی قوت کو پروان چڑھانا چاہیے جو ہماری صنعتوں اور کارخانوں کو بہتر طریقہ سے چلا سکے۔ ہمارے اہل دانش صحافیوں کا اولین فرض ہے کہ وہ ہمارے تعلیمی نظام میں بہتر اور تبدیلی لانے کے لیے اہم تعلیمی مسائل کے متعلق اپنی مثبت تجاویز پیش کریں۔ اس اعلیٰ مقصد کو حاصل کرنے کیلئے ہمیں اپنے پالیسی میکرز میں احساس منصوبہ بندی پیدا کرنا ہو گا۔اعلیٰ اور پیشہ وارانہ تعلیم کسی بھی قوم کی خشتِ اولین کی حیثیت رکھتی ہے مگر ہمارے ہاں تعلیم کی بنیادیں مضبوطی سے استوار نہ ہو سکیں اور یوں ہم معاشی اور سماجی ترقی حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ ہمارے ہاں بیشتر مسائل کی جڑ تعلیم کا اصل بنیادوں پر استوار نہ ہونا ہے۔ تعلیم کے حوالہ سے ہم ابھی تک پالیسی سازی کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ وجہ یہ ہے کہ تعلیمی پالیسیوں کا تسلسل نہیں ہے۔ اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ علم کو بطور علم فروغ دیتے ہوئے تعلیمی نظام کو تحقیق کی مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔ ہم تعلیمی نظام کے حوالہ سے بھی مقلد بن چکے ہیں اور جدت کو فروغ نہیں دے رہے۔ ہم ایک علم کش معاشرہ کی حیثیت اختیار چکے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اپنے نظام تعلیم کو عملی نہیں بناتے تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ہم نے ڈاکٹر اور انجینئر بنانے کی طرف توجہ دی مگر عمرانیاتی علوم کی طرف بہت کم توجہ دی۔ ہمیں اپنے اداروں کے مابین اشتراک پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ عمرانیاتی علوم کی جانب عدم توجہ سے تطہیرکا عمل ختم ہو چکا ہے اور تعلیم کی مقصدیت ختم ہو چکی ہے۔ پیشہ وارانہ تعلیم کسی بھی معاشرے کے تعلیمی اور معاشی استحکام کی ضامن ہوتی ہے لیکن ہمارے ہاں فنی تعلیم پر توجہ عمومی تعلیم سے کہیں کم ہے، جس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں فنی تعلیم کی شرح صرف چارسے چھ فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 66 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ہم شاید نہیں جانتے کہ جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی عمومی تعلیم کا حصہ بناکر اس پر توجہ دی وہاں معاشی ترقی کی رفتار زیادہ ہے۔ ہمارے ہاں بھی ارباب اقتدار و اختیار اس امر کا اعتراف تو کرتے ہیں کہ ہمارا مستقبل پیشہ وارانہ تعلیم سے جڑا ہے اور نوجوان نسل کو فنی علوم سے آراستہ کرکے نہ صرف بے روزگاری کے مسئلے پر قابو پایا جاسکتا ہے بلکہ ملک کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر بھی گامزن کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے فروغ کیلئے قابل ذکر پیش رفت نہیں کر پائے۔ دنیا میں انہی قوموں نے تیزی سے ترقی کی منازل طے کی ہیں جنہوں نے اپنی نوجوان نسل کو عہدِ حاضر کی ضروریات سے ہم آہنگ کرتے ہوئے جدید علوم سے آراستہ کیا۔پاکستان کی بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ انہیں جدید علوم، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق مختلف فنون و شعبہ جات میں تربیت دے کر تیز رفتار ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جاسکتا ہے۔یہ حقیقت محتاج بیاں نہیں ہے کہ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی ادب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے جسے حاصل کرنے سے انسان ایک قابل قدر شہری بن جاتا ہے جبکہ فنی تربیت انسان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اسے باعزت روزگار کمانے کے قابل بناتی ہے تاکہ وہ معاشی طور پر خوشحال زندگی بسر کر سکے۔اس شعبہ پر توجہ دینے سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھ سکتے ہیں بلکہ اس کے فروغ سے ہم بیش قیمت زرِمبادلہ بھی حاصل کر سکتے ہیں۔ہماری آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے جس میں 63فیصد تعداد نوجوانوں کی ہے جو کسی بھی ملک کے لیے خو ش آئند امر ہے لیکن تعلیم اور ہنر مندی سے محروم یہ نوجوان ملکی معیشت کا سہارا بننے کے بجائے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی وجہ سے بوجھ ثابت ہورہے ہیں۔ یونیورسٹی سے فارغ ہونے والے طلبا بھی ڈگری ہونے کے باوجود عملی تربیت اور ہنر نہ ہونے کی وجہ سے بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر ان کے نصاب میں کوئی ایک بھی فنی کورس شامل ہوتا تو انہیں مایوسی کا سامنا ہرگز نہ کرنا پڑتا۔ روزگار کے اعداد وشمار سے متعلق ادارے کے مطابق تیس پیشے کامیاب تصور کیے جاتے ہیں جن میں سے نصف کے لیے یونیورسٹی ڈگری کی بجائے عملی تربیت ضروری تصور کی جاتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا کے جن ممالک نے فنی تعلیم کو اپنی بنیادی تعلیم کا حصہ بنایا وہاں معاشی ترقی کی رفتار بہت زیادہ ہے۔ جرمنی78فیصد ، کوریا ، ہنگری اور فن لینڈ سو فیصد فنی تعلیم کو لازمی قرار دے چکے ہیں۔ چین اور جاپان بھی فنی تعلیم کو لازم قرار دے کر اقوام عالم میں نمایاں مقام حاصل کرچکے ہیں۔اس کے برعکس تیس فیصد شرح خواندگی کے ملک میں صرف چھ فیصد نوجوان فنی تعلیم پر دسترس رکھتے ہیں۔ہمارے ہاں پیشہ وارانہ تعلیم کے لیے فنڈز نہ ہونے کے برابر ہیں۔پیشہ وارانہ تعلیم کے شعبے کے فروغ اور آگہی کیلئے ایک طویل المدت اور جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ جدید دور کے تقاضوں اورمارکیٹ کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تیزی سے ہنرمند افرادی قوت تیار کرنے کیلئے ٹھوس و جامع اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ اس ضمن میں مختلف شعبوں کے ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دی جائے جو نجی و سرکاری اداروں کے تعاون سے فنی تعلیم و تربیت کے فروغ کیلئے عملی قدم اٹھائے۔

Facebook Comments
Share Button