GB News

پانچ سو بیڈ کا ہسپتال:خوش آئند پیشرفت

Share Button

سیکرٹری صحت سعید اللہ خان نیاز ی نے کہا ہے کہ سکردو میں پانچ سو بیڈ پر مشتمل ڈویژنل ہسپتال بنایا جارہا ہے جس سے بلتستان میں صحت کے مسائل حل ہونگے ہسپتال کی فزیبلٹی رپورٹ تیار کر لی گئی ہے پانچ سوکنال اراضی پر تعمیر ہونے والا ہسپتال جدید سہولتوں سے آراستہ ہوگا کارڈیک یونٹ ،سمیت تمام شعبہ جات ہسپتال کا حصہ ہوںگے بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر ڈویژنل ہسپتال کا قیام ناگزیر ہو گیا ہے بڑے ہسپتال کے قیام کے بعد لوگوں کو صحت سے متعلق درپیش مشکلات دور ہو جائیں گی ہسپتال کا باقاعدہ ماسٹر پلان بنے گا اس کا ایک بلاک اگلے سال تیار کیا جائیگا کمشنر آفس میں پریس بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ڈاکٹرز کے مطالبات منظور کئے جارہے ہیں اب وہ ہڑتال پر نہیں جائیں گے۔محکمانہ ترقیوں کا اختیار چیف سیکرٹری کے پاس ہے جوں ہی نوٹیفکیشن ہوگا 100سے زائد ڈاکٹرز مستقل ہوں گے 200ڈاکٹروں کی نئی آسامیاں پیدا کرنے کی سفارشات بھیجی گئی ہیں 200نئے ڈاکٹرز آنے کے بعد سسٹم میں 700ڈاکٹرز ہوں گے 2013میں صر ف151ڈاکٹرز یہاں کام کر رہے تھے ۔گلگت بلتستان کے ہسپتال اس وقت قتل گاہ بنے ہوئے ہیں ڈاکٹرز پرچی پر ہسپتال کے اندر موجود دوائیاں نہیں لکھتے بلکہ عام مارکیٹ میں موجود ادویات لکھ دیتے ہیں مریض مجبوراً بازار سے مہنگی ادویات خرید رہے ہیں ہمارے سٹورز ادویات سے بھرے پڑے ہیں مگر ڈاکٹرز باہر کی ادویات کو ترجیح دیتے ہیںڈاکٹرز کو اخلاقی طورپر بھی ایسا نہیں کرنا چاہئے ڈاکٹرز مریضوں کو کلینکس میں لے جانے کے بجائے ہسپتال کے اندر بہتر سہولتیں فراہم کریں۔گلگت بلتستان میں ملک کے دوسرے حصوں کی بہ نسبت صحت کی سہولیات ناکافی ہیں اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں کے ہسپتالوں میں تمام مطلوبہ سہولیات بہم پہنچائی جائیں اس تناظر میں سکردو میں پانچ سو بیڈز پر مشتمل ہسپتال کا قیام خوش کن ہے جس سے مریضوں کی پریشانیوں کا تدارک ہو گا۔سرکار کی جانب سے سہولیات کے ساتھ ساتھ ڈاکٹرز کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مریضوں کی مشکلات کے خاتمے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔یہ یاد رکھنا چاہیے کہ جو شخص جس مقام کا حامل ہوتا ہے اسی نسبت سے اس کی ذمہ داریاں بھی ہوتی ہیں ، اس لئے ڈاکٹر اور معالج حضرات کو اپنی ذمہ داریوں پر بھی توجہ دینی چاہئے ، ڈاکٹر کا بنیادی فریضہ یہ ہے کہ وہ اس پیشہ میں خدمت کے پہلو کو مقدم رکھے ، یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ وہ مریضوں کا مفت علاج کریں اور اپنے گھر سے دوائیں لاکر کھلادیں ، لیکن یہ ضرور ہے کہ اس پیشہ کو محض تجارت اور بزنس نہ بنایا جائے اور اجرت کے ساتھ ساتھ اجر کے پہلو کو بھی ملحوظ رکھا جائے سرکاری ہسپتالوں میں اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کیے جائیں،اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ تعلیم اور علاج نے ایک زبردست کاروبار کی صورت اختیار کرلی ہے اور معاشی کشش کی وجہ سے بہت سے ہوٹل،ہاسپٹلز میں تبدیل ہوگئے ہیں ، ڈاکٹرز کی فیس مریض کیلئے ناقابل برداشت بوجھ بن گئی ہے ، پھر فیس کے سلسلے میں بھی ایک نئی روایت یہ قائم ہورہی ہے کہ مریض جتنی بار مشورے کے لئے جائے ہر بار فیس ادا کرے۔اس طرح بعض اوقات ہر ہفتہ ڈاکٹرز فیس وصول کرلیتے ہیں ، پھر آمدنی کے بالواسطہ ذرائع بھی پیدا کرلئے گئے ہیں ، دوائیں لکھی جاتی ہیں اور مخصوص و متعین دوکانوں سے دوا خرید کرنے کو کہا جاتا ہے تاکہ ان سے کمیشن مل سکے ، مریض پر بوجھ ڈالنے اور اپنی جیب بھرنے کیلئے ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو دوائیں پہلے لکھی گئی تھیں ابھی وہ ختم بھی نہیں ہوتیں کہ دوا تبدیل کردی جاتی ہے اور اسی فارمولہ کی دوسری دوا،جس کا نام کمپنی بدل جانے کی وجہ سے بدلا ہوا ہوتا ہے ، لکھ دی جاتی ہے ، بیچارے مریض کو ڈاکٹر صاحب کی اس ہوشیاری کی خبر بھی نہیں ہوتی۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جتنی دوا مطلوب ہے اس سے زیادہ لکھ دی گئی اور چند دنوں میں نسخہ بدل دیا گیا اور زائد دوائیں بیکار ہوگئیں ، یہ بھی ہوتا ہے کہ نقلی دوائیں یا ایسی دوائیں جن کی مدت ختم ہوچکی ہے ، دی جاتی ہیں اور معیاری دوائوں کی قیمت وصول کی جاتی ہے۔امراض کے ٹیسٹ کا معاملہ تو سب سے سوا ہے ، بے مقصد ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں ، مریض نے اگر کسی دوسرے ڈاکٹر سے ٹیسٹ کرایا ہو تو چاہے وہ رپورٹ دن ، دو دن پہلے ہی کی کیوں نہ ہو لیکن نیا ڈاکٹر پھر سے پورے ٹیسٹ کراتا ہے اور یہ بھی ضروری قرار دیا جاتا ہے کہ ڈاکٹر نے جس پیتھالوجسٹ کا مشورہ دیا ہے اسی کے یہاں ٹیسٹ کرایا جائے۔ان اقدامات میں مخلصانہ جستجو و تحقیق کا جذبہ شاذ و نادر ہی ہوتا ہے ، اکثر اس کا مقصد زیادہ سے زیادہ کمانا اور اپنی جیب بھرنا ہوتا ہے ، ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک ڈاکٹر دوسرے ڈاکٹر یا کسی خاص ہاسپٹل کو مریض ریفر کرتا ہے۔یہ تمام صورتیں اگر مریض کی بھلائی کے جذبہ سے ہوں تب ان کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن افسوس کہ ان سب کا مقصد کمیشن کھانا ہوتاہے ، دوائوں پر کمیشن ، ٹیسٹ پر کمیشن ، مریض کے بھیجنے پر کمیشن اور جہاں جہاں ممکن ہو وہاں سے کمیشن کاحصول ، ان کمیشنوں اوران کی بڑھتی ہوئی شرحوں نے مریض کی کمر توڑ دی ہے اور غریب لوگوں کے لئے ہاسپٹل جانے کا تصور بھی ایک بوجھ ہوتا ہے۔حکومت کی طرف سے اس بات پر پابندی ہے کہ سرکاری ہاسپٹلوں میں کام کرنے والے ڈاکٹر الگ سے اپنے نرسنگ ہوم چلائیں لیکن جسے خدا کا خوف نہ ہو اس کے قدم کون تھام سکتا ہے ؟چنانچہ عام طورپر سرکاری ڈاکٹرز بھی فرضی ناموں سے نرسنگ ہوم چلاتے ہیں،جو مریض سرکاری ہاسپٹل میں آتا ہے،اسے بے توجہی سے دیکھتے ہیں اور صراحتاً یا اشارتاً انہیں نرسنگ ہوم میں آنے کی دعوت دی جاتی ہے یا عملی طورپر انہیں اس پر مجبور کردیا جاتاہے تاکہ ان سے زیادہ سے زیادہ پیسے ہتھیائے جاسکیں اس عمل میں جھوٹ بھی ہے اور دھوکہ بھی اور بعض دفعہ پریکٹس نہ کرنے کا الاؤنس بھی دیا جاتا ہے، لہٰذا اب اس کے باوجود پیسے لے کر پرائیوٹ پریکٹس حرام طریقہ پر مال حاصل کرنے کی مجرمانہ کوشش بھی ہے ۔اسی طرح ایک نئی صورتِ حال یہ ہے کہ جن امراض کا علاج دوائوں کے ذریعہ ممکن ہے ، ان میں بھی آپریشن کا مشورہ دیا جاتا ہے تاکہ علاج گراں بار ہو اور مریض کی یہ گرانی معالج کیلئے ارزانی کا باعث ہے،خاص کر ولادت کے کیس میں کثرت سے اس طرح کی بات پیش آتی ہے اور آپریشن کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ زچگی کرائی جاتی ہے اور حکومت بھی اس کی حوصلہ افزائی کرتی ہے کیونکہ یہ بالواسطہ فیملی پلاننگ کو بروئے کار لانا ہے۔اسی طرح مریض کی موت کے باوجود اسے مصنوعی آلہ تنفس پر رکھا جاتا ہے تاکہ بل بڑھتا رہے ، یہ کس درجہ ناشائستہ طریقہ ہے۔ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں کہ آپریشن کی میز پر پیٹ چیرنے کے بعد ڈاکٹر کی طرف سے نیا مطالبہ سامنے آتا ہے اور مریض اوراس کے متعلقین اس کے سامنے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہوتے ہیں ڈاکٹر کے لئے صرف اس کی تنخواہ اور پرائیویٹ علاج کی صورت میں اس کی فیس ، نیز مریض کو اس نے جو دوائیں دی ہیں ، ان کی معروف اور مروجہ قیمت ہی جائز ہے۔معالج کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس نے اپنے فن کو باضابطہ طورپر پڑھا ہو ، محض چند سنی سنائی باتو ں پر علاج شروع کردینا درست نہیں ۔ڈاکٹرز کو چاہیے کہ وہ اس پیشہ کو محض تجارت کے طورپر اختیار نہ کریں بلکہ اس میں خدمت کے پہلو کو بھی ملحوظ رکھیں ۔مریض سے ایک ہی بار فیس وصول کریں’مریض کی مالی حالت کو بھی پیش نظر رکھا جائے اور سرکاری ہسپتالوں میں آنے والوں اپنے پرائیویٹ ہسپتالوں میں آنے کی دعوت نہ دی جائے۔

Facebook Comments
Share Button