تازہ ترین

Marquee xml rss feed

شیریں مزاری نے ایران میں سیاہ برقع کیوں پہنا؟ ایران میں خواتین کا سر کو ڈھانپ کر رکھنا سرکاری طور پر لازمی ہے، اس قانون کا اطلاق زوار، سیاح مسافر خواتین، غیر ملکی وفود ... مزید-وفاقی وزیر برائے تعلیم کا پاکستان نیوی کیڈٹ کالج اورماڑہ اور پی این ایس درمان جاہ کا دورہ-پاکستانی لڑکیوں سے کئی ممالک میں جس فروشی کروائے جانے کا انکشاف لڑکیوں کو نوکری کا لالچ دیکر مشرق وسطیٰ لے جا کر ان سے جسم فروشی کرائی جاتی ہے، اہل خانہ کی جانب سے دوبارہ ... مزید-جدید بسیں اب پاکستان میں ہی تیار کی جائیں گی، معاہدہ طے پا گیا چینی کمپنی پاکستان میں لگژری بسوں اور ٹرکوں کا پلانٹ تعمیر کرے گی، 5 ہزار نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے-وفاقی وزارتِ مذہبی امور نے ملک میں ایک ساتھ رمضان کے آغاز کے لیے صوبوں سے قانونی حمایت مانگ لی ملک بھر میں ایک ہی دن رمضان کے آغاز کے لیے وزارتِ مذہبی امور نے صوبائی اسمبلیوں ... مزید-جہانگیر ترین یا شاہ محمود قریشی، کس کے گروپ کا حصہ ہیں؟ وزیراعلی پنجاب نے بتا دیا میں صرف وزیراعظم عمران خان کی ٹیم کا حصہ ہوں، کسی گروپنگ سے کوئی تعلق نہیں: عثمان بزدار-اسلام آباد میں طوفانی بارش نے تباہی مچا دی جڑواں شہروں راولپنڈی، اسلام آباد میں جمعرات کی شب ہونے والی طوفانی بارش کے باعث درخت جڑوں سے اکھڑ گئے، متعدد گاڑیوں، میٹرو ... مزید-گورنر پنجاب چوہدری سرور کی جانب سے اراکین اسمبلی،وزراء اور راہنماؤں کے لیے دیے جانے والے اعشائیے میں جہانگیرترین کو مدعونہ کیا گیا 185میں سے صرف 125اراکین اسمبلی شریک ہوئے،پرویز ... مزید-بھارت کی جوہری ہتھیاروں میں جدیدیت اور اضافے سے خطے کا استحکام کو خطرات لاحق ہیں،ڈاکٹر شیریں مزاری جنوبی ایشیاء میں ہتھیاروں کی دوڑ سے بچنے کیلئے پاکستان کی جانب سے ... مزید-وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے ضلع کرم میں میڈیکل کالج کے قیام اور ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کی اپ گریڈیشن کا اعلان کردیا ضلع کرم میں صحت اور تعلیم کے اداروں کو ترجیحی بنیادوں ... مزید

GB News

گلگت بلتستان میں امن اور ترقی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں ،کارکنوں اور جمہوری نظام کے تسلسل کی وجہ سے ہے ، وزیر اعلیٰ

Share Button

اسلام آباد (پ ر) وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ وکلا برادری نے ہمیشہ سے جمہوریت کے محافظ کا کردار ادا کیا ہے ،ملک میں چلنے والی جمہوریت بحالہ اور آمریت کے خلاف وکلا کی جدو جہد کی ایک تاریخ ہے ،انہوں نے کہا کہ اسلام آباد بار ملک کا ایسا گلدستہ ہے جہاں ملک کے ہر حصے کے وکلا ہیں ہم اس گلدستے سے امید کرتے ہیں کہ ہمیشہ کی طرح ملک میں قانون کی حکمرانی اور انصاف کے نظام کے قیام کے لئے اپنا کردار ادا کرے گا ۔اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وکلا ملک کا زمہ دار طبقہ ہے وہ دیکھیں کہ ملک کا کون سا ادارہ قانون میں رہ کر کام کر رہا ہے اور کون سا ادارہ قانوں و آئین سے ہٹ کر،وزیر اعلی نے مزید کہا کہ آج اگر گلگت بلتستان میں امن اور ترقی ہے تو اس میں کردار تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماوں ،کارکنوں اور جمہوری نظام کے تسلسل کا ہے ،کچھ عرصہ قبل تک گلگت بلتستان فرقہ واریت کا ناسور اس لئے تھا کہ سیاسی نظام کمزور تھا ،گلگت بلتستان میں نفرتوں اور فرقہ وارانہ تقسیم سے علاقے کا نقصان ہوا آج امن ہے تو گلگت بلتستان ہر شعبے میں ترقی کر رہا ہے ،ہماری حکومت سے قبل گلگت میں پانچ برسوں میں 550افراد دہشت گردی کا شکار ہوئے ہماری حکومت آنے کے بعد ایک دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہوا ہے ،اس امن کے لئے گلگت بلتستان کے سیاسی کارکنوں ،جماعتوں اور عوام کا کردار ہے ،آج کہا جاتا ہے کہ مسلم لیگ ن صرف سڑکیں بناتی ہے اور سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں آتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک شاہراہ قراقرم کے بننے سے گلگت بلتستان کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا ، سکردو روڑ بن رہا ہے ،پاکستان کے سوئیزر لینڈ نلتر ایکسپریس بن رہی ہے استور ویلی روڑ ،گلگت چترال چکدرہ شاہراہ سی پیک کا حصہ ہے ان شاہرائوں کے بننے سے جہاں عام آدمی کی زندگی میں انقلاب آئے گا وہاں گلگت بلتستان معاشی طور بھی خوشحال ہوگا آج الحمد اللہ گلگت بلتستان کے طول عرض میں شاہراوں کا جال بچھا دیا گیا اسی وجہ سے سالانہ بیس لاکھ سیاح گلگت بلتستان کا رخ کرتے ہیں ،عام عوام کو سڑک ،تعلیم اور صحت کے ساتھ زندگی کی بنیادی سہولیات سے غرض ہے الحمد اللہ ہم نے ساڑھے تین برسوں میں ہر شعبے میں کام کیا ہے جس کا ہمارے سیاسی مخالفین بھی اقرار کرتے ہیں ،آج گلگت بلتستان کی شناخت ،ترقی اور سیاحوں کی آمد ہے تو اس کے لئے بہت محنت ہوئی ہے ،عالمی سطح پر سیاحت کے لئے موزوں ملکوں کی فہرست میں پاکستان کا نام آیا ہے تو اس کے پیچھے گلگت بلتستان کا قدرتی حسن کارفرما ہے ۔جہاں تک آئینی شناخت کا مسئلہ ہے تو گلگت بلتستان کے عوام اپنی منزل پاکستان کو سمجھتے ہیں اور گلگت بلتستان میں علیحدیگی کی نہیں پاکستان کے آئین میں شامل ہونے کی تحریک ہے ہمیں امید ہے کہ وکلا برادری ہماری اس جدو جہد میں ہمارے ساتھ تعاون کرے گی انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان پاکستان کا وہ خوش قسمت خطہ ہے جہاں دیگر قدرتی وسائل کے ساتھ ساتھ ستر ہزار سے ایک لاکھ میگاواٹ بجلی کی پیداوار ممکن ہے ،ملک میں بجلی کے بحران کا خاتمہ گلگت بلتستان سے بجلی پیدا کر کے نہ صرف ختم کی جا سکتا ہے بلکہ ہم باہر بجلی کی سپلائی دے سکتے ہیں لیکن بدقسمتی سے گلگت بلتستان نیشنل گرڈ کے ساتھ منسلک نہیں اور نہ ہی ریجنل گرڈ بنا ہے جس وجہ سے ہم ایک ضلع سے دوسرے ضلع کو بجلی فراہم نہیں کر سکتے ہیں یہ ہیں وہ مسائل جو ہم نے حل کرنے ہیں لیکن ان تمام کاموں اور ترقی کیلئے جس چیز کا ہونا ضروری ہے وہ سیاسی تسلسل ہے ،جب تک جمہوری تسلسل نہیں ہوگا ہم ترقی کے زینے پر قدم نہیں رکھ سکتے ،آج الحمد للہ گلگت بلتستان ترقی جی جانب بڑھ رہا ہے اور انشا اللہ ترقی کا یہ سفر جاری رہے گا ،تقریب میںڈپٹی سپیکر گلگت بلتستان اسمبلی جعفر اللہ خان ،چیر مین سٹینڈنگ کمیٹی اشرف صدا ،چیر مین پپلک اکاوٹس کمیٹی سید افضل ،ممبر گلگت بلتستان کونسل ارمان شاہ بھی شریک تھے ،تقریب سے بار کونسل کے صدر چوہدری خانزادہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بار کونسل اسلام آباد گلگت بلتستان کے عوام کے لئے ہمہ وقت قانونی محازوں پر ہر قسم کے تعاون کیلئے تیار ہے۔ تقریب کے آخر میں بار کونسل کے نائب صدر نے وزیر اعلی کو شیلڈ پیش کی۔

Facebook Comments
Share Button