GB News

کھیلوں کی سرگرمیوں کے فروغ کی ضرورت

Share Button

گوپس خلتی جیل کے مقام پر منعقدہ مختلف کھیلوں کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فورس کمانڈر گلگت بلتستان میجر جنرل احسان محمود خان نے کہا ہے کہ ضلع غذر شہیدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے جس پر پورے پاکستان کو فخر ہے ‘ضلع غذر کے لوگوں نے ہر شعبہ ہائے زندگی میں اپنا لوہا منوایا ہے اس سرزمین نے سکالرز اور دانشوروں کو جنم دیا ہے ‘ ضلع غذر کی ایک عظیم تاریخ ہے ۔علاقے میں کھیلوں کے فروغ کیلئے پاک فوج اپنا بھر پور کردار ادا کرتی رہے گی ضلع کے ہر گائوں میں سٹیڈیم ہونے چاہیں اس حوالے سے صوبائی حکومت اقدامات کرے ہم ہر قسم کا تعاون فراہم کریں گے انہوں نے کہا کہ علاقے کی تعمیرو ترقی اور عوام کی فلاع بہبود کیلئے پاک فوج ہمہ وقت کوشاں ہے۔ گلگت بلتستان میں سیاحت کے فروغ کیلئے بھی پاک فوج حکومت کی ہر ممکن مدد کررہی ہے اور ہماری کوشش ہوتی ہے کہ علاقے میں زیادہ سے زیادہ سیاح آئیں فورس کمانڈر نے کہا کہ عوام مطمئن رہیں اور اپنے آپ کو محفوظ سمجھیں کیونکہ آپ کی بہادر افواج اپنے عوام کے ساتھ ہے۔پاک فوج کی جانب سے کھیلوں کی تقریب کا انعقاد نوجوانوں میں مثبت و صحت مندانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے کی جانب اہم قدم ہے۔ایک ایسے دور میں جب کھیلوں کے میدان ویران ہوچکے اور نئی نسل انٹر نیٹ کے سحر میں گم ہے کھیلوں کا انعقاد اہم پیشرفت ہے۔افسوسناک امر یہ ہے کہ اب علاقائی سطح کے علاوہ تعلیمی اداروں میں بھی کھیلوں کی سرگرمیاں تقریبا ماند پڑ چکی ہیں جس سے یوتھ کے پاس اپنے وقت کے ضیاع کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں اس لئے حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کھیلوں کے میدان آباد کرے اور تمام مطلوبہ سہولیات بہم پہنچائے۔ فورس کمانڈر کا کہنا ہے کہ ضلع کے ہر گائوں میں سٹیڈیم ہونے چاہیں تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہر ضلع میں ہی سٹیڈیم بنا دیے جائیں تو صورتحال میں نمایاں تبدیلی آ سکتی ہے۔ صحت مند معاشرے کیلئے کھیلوں کا فروغ انتہائی لازمی ہے جہاں کھیلوں کے میدان آباد ہوتے ہیں وہاں نوجوان معاشرتی برائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔کھیلوں کی سرگرمیوں میں کمیونٹی سمیت دیگر سرکاری اداروں کو بھی آگے آنا چاہیے ان پر لازم ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی بھرپورحوصلہ افزائی کریں۔کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں اور وہ امن محبت اور بھائی چارے میں اپنا اہم کردار اداکرتے ہیں۔کھیل کسی بھی قوم کے لئے لازم ہیں۔کوئی بھی کھیل مختلف قومیتوں کو اکھٹا کرتا ہے۔ کھیلوں کے فروغ سے نوجوان نسل کو غلط راستے پر جانے سے بھی روکا جا سکتا ہے۔ نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ مثبت سرگرمیوں خصوصاً کھیلوں کے ذریعے اپنے آپ کو مصروف کر کے ایک اچھے انسان کی خصوصیات اپنے اندر پیدا کریں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی کیلئے اپنا کردار ادا کریں۔کھیلوں کے ذریعے نوجوان دہشت گردی و منشیات فروشی کو شکست دے سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ملک میں نہ مطلوبہ اکیڈمیاں ہیں اور نہ کوچنگ اور ٹریننگ کی مناسب سہولتیں۔ حکام کو کھیلوں کودوبارہ زندہ کرنے کیلئے سنجیدگی سے سوچنا اور اقدامات کرنا ہوں گے۔ لگتا یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو سہولتیں فراہم کرنا مختلف حکومتوں کی ترجیحات میں شامل نہیں۔موجود ٹیلنٹ کو اجاگر کرنے کے لئے کوچنگ کی بنیادی سہولیات کی فراہمی بہت ضروری ہے۔اس وقت ملک پر ایک کھلاڑی حکمران ہے جس کی موجودگی میں یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کھیلوں کے فروغ کیلئے ٹاسک فورس قائم کرتے ہوئے کہا تھا کہ کھیلوں کے تمام ادھورے منصوبے جلد مکمل کئے جائیں گے۔ وزیراعظم نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین احسان مانی کو ملک میں کھیلوں کی بحالی کیلئے قائم کی گئی ٹاسک فورس کا چئیرمین مقرر کیا۔ٹاسک فورس نے تمام اسپورٹس فیڈریشنز کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے علاوہ ملک میں کھیلوں کی ترقی کیلئے سفارشات مرتب کرنا تھیں جب کہ ٹاسک فورس فیڈریشنز کو ملنے والے فنڈز اور ان کے استعمال کے طریقہ کار کا بھی جائزہ لینا تھا مگر ابھی تک کوئی پیشرفت سامنے نہیں آئی۔نوجوانوں کیلئے مثبت کھیل کی سرگرمیاں بہت زیادہ ضروری ہیں۔ بہترین کھلاڑی بنانے کے لیے بہترین ماحول بھی بنانے کی ضرورت ہے۔ اس لیے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے کھیلوں کی سرگرمیاں، لوکل اور انٹرنیشنل دونوں پر بھرپور توجہ دی جائے۔ جس طرح ناچنا گانا پروموٹ ہو رہا ہے اسی طرح اگر کھیل اور کھیل کے معیار سے کرپشن کو نکال دیا جائے تو اچھے کھلاڑیوں کی نشوونما ہوسکتی ہے۔ کھیل کود کی سرگرمیاں، سیاست سے بالاتر ہوں اور سیاسی لوگوں کو ان سے دور ہی رکھا جائے، اور جو بڑے بڑے کھلاڑی ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بٹھا دیے گئے ہیں۔ان کی صلاحیتوں کو کام میں لاتے ہوئے ان کے ذمے نئے کھلاڑیوں کی تربیت کی ذمے داری ڈالی جائے۔ اجڑے ہوئے کھیل کے میدانوں کو آباد کیا جائے، طالب علم کھلاڑیوں کی مکمل ذمے داری لی جائے تاکہ کھیل کے ساتھ ساتھ علم کی بھی کمی نہ ہو۔ اسمارٹ فون کی اس دنیا میں انسانوں کو بھی اسمارٹ فون کی طرح کارآمد بنایا جائے۔ ہمیں اپنی بھرپور صلاحیتیں اور وسائل اپنی نوجوان نسل کے لیے صرف کرنے چاہئیں نہ کہ ان کو ایسے معاشرے کا حصہ بنادیں جہاں کرپشن، گندگی و غلاظت ہو جہاں کی ہوائیں گندگی سے بھری ہوئی ہوں۔تازہ ہوا کے جھونکے زندگی کی نوید لے کر آتے ہیں اور زندگی کسے اچھی نہیں لگتی، زندگی کو پنپنے دیجیے، کھیلوں کی سرگرمیوں کو پوری توانائیوں کے ساتھ زندہ کیجیے،دہشت گردی کو جڑ سے نکال پھینکیے، ہمارے بچے ہمارا مستقبل ہیں انہیں آباد کیجیے۔کھیلوں کی سرگرمیاں انسانی زندگی کی ترقی اور قیام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور صحت مند معاشرے کی تعمیر میں مدد کرتی ہیں۔ کھیلوں سے نہ صرف لوگوں میں مقابلے کا رجحان پیدا ہوتا ہے بلکہ دبائو کے ماحول سے نکلنے میں بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔چونکہ نوجوان اور طلباء اپنی تعلیمی سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں جس وجہ سے وہ ذہنی دبائو کا شکار ہو جاتے ہیں۔اس لیے ان کی توجہ ایک جیسی روزمرہ روٹین سے ہٹا کراورذہنی طور پر تھکا دینے والے امور سے وقتی طور پر ان کی ذہنی و جسمانی فٹنس کو برقرار رکھنے کے لئے کھیلوں کا انعقاد کرایا جانا چاہیے ۔ اس تناظر میں ضروری ہے کہ جس طرح دیگر امور پر توجہ مبذول کی جاتی ہے اسی طرح کھیلوں پر بھی توجہ دی جانی چاہیے۔ہم عرض کر چکے ہیں کہ بدقسمتی سے آجکل کے نوجوان کی توجہ کھیلو ںسے ہٹ گئی ہے اور کھیل کے میدان ویران ہوگئے ہیں جسکی ایک بڑی وجہ اسمارٹ فونز اور ویڈیو گیمز ہیں اپنے ارد گرد جہاں نظر دوڑ ا ئیں نوجوانوں کی انگلیاں اسمارٹ فون پر چلتی نظر آتی ہیں اسمارٹ فونز پر ان گیمز کا حصول بہت آسان ہوگیا ہے۔ یہ طرز زندگی ہمارے میدانوں کو غیر آباد کر کے گیم زون کو آباد کررہا ہے جس کے مضر اثرات صحت پر مرتب ہورہے ہیں کم عمری میں شوگر ،دل کے امراض جنم لے رہے ہں ایک جگہ بیٹھے رہنے سے نوجوان نسل میں موٹا پا پھیل رہا ہے۔ اس کے علاوہ ویڈیو گیمز ایڈکشن بھی ہورہی ہے پاکستان میں ویڈیوگیمز کھیلنے کی شرح میں اضافے کی ایک وجہ کھیلوں کے میدان نہ ہونا بھی ہے۔اس سلسلے میں ہم یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ گلگت بلتستان جو انتہائی ٹیلنٹ یافتہ نوجوانوں کا حامل علاقہ ہے ان نوجوانوں کے ٹیلنٹ کو بروئے کار لا کر انہیں ملکی ترقی’فلاح و بہبود اور ملک کا نام روشن کرنے کیلئے تیار کیا جا سکتا ہے لہذا حکام کو چاہیے کہ سپورٹس فنڈ میں اضافہ کر کے کھیلوں کی وزارت کو فعال کیا جائے۔

Facebook Comments
Share Button