تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ضروری مرمت 26 سے 30 اکتوبر تک روزان� بجلی کی �را�می معطل ر�ے گی،کیسکو-احتساب عدالت نے جعلی �ائوسنگ سوسائٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے والے ملزم کی پلی بارگین کی درخواست منظور کر لی ملزم 10 سال کے لئے سرکاری ع�دے اور مراعات کیلئے نا ا�ل قرار، ... مزید-بادشا�ی مسجد کی بحالی و تزئین نو کا �یصل�،وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی جامع پلان جلد تیار کرنے کی �دایت، کمیٹی تشکیل اوقا� کی اراضی واگزار کرانے کیلئے آپریشن اورداتا دربار ... مزید-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی محمد نواز شری� کو علاج معالجے کی ب�ترین س�ولتیں �را�م کرنے کی �دایت-وزیراعلیٰ عثمان بزدار کی زیرصدارت پنجاب کابین� کا اجلاس، پنجاب ای سٹیمپ رولز 2016 میں ترامیم کی منظوری کسی کو عوام کے معمولات زندگی میں خلل ڈالنے کی �رگز اجازت ن�یں دی ... مزید-وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدارسے و�اقی وزیر قانون بیرسٹر �روغ نسیم کی ملاقات عمومی صورتحال اور وکلاء کی �لاح و ب�بود کیلئے کئے جانے والے اقدامات پر تبادل� خیال-ناردرن نے بلوچستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر پ�لی پوزیشن حاصل کرلی-’’وائس آ� الحمرا ‘‘ کا �ائنل آج منعقد �وگا،ملک میں گائیکی کا مستقبل شاندار �ے،اط�ر علی خان-صدرمملکت ڈاکٹر عار� علوی کی ش�نشا� جاپان نارو �یٹوکی تاج پوشی کی تقریب میں شرکت صدر مملکت اور خاتون اول نے ش�نشا� جاپان کو مبارک باد اورش�نشا� جاپان کی طر� سے دیئے گئے ... مزید-حکو مت صوبے میں کاروباری ا�راد کی حوصل� ا�زائی ،سرمای� کاری کے �روغ کیلئے مختل� اقدامات اٹھا ر�ی �ے،اکبر ایوب خان وزیر مواصلات کے پی کے

GB News

دفاعی میدان میں ایک اور پیشرفت

Share Button

پاک فضائیہ نے جے ایف 17 تھنڈر ملٹی رول لڑاکا طیارے سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔جس سے طیارے کو اب دن اور رات میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت حاصل ہوگئی ہے۔یہ تجربہ ملکی دفاع میں ایک عظیم سنگ میل کی حیثیت کا حامل ہے جو قابل فخر پاکستانی سائنسدانوں اور انجینئرز کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، جنہوں نے جے ایف 17 تھنڈر کو ملکی سطح پر تیار کردہ جدید میزائل سے لیس کیا ہے۔رواں سال جنوری میں پاکستان نے دفاعی صلاحیت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے زمین سے زمین پر مار کرنے والے بیلسٹک میزائل نصر کا کامیاب تجربہ کیا تھا۔نصر میزائل کم فاصلے پر ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یہ میزائل بھرپور دفاعی صلاحیت سے لیس ہے اور دشمن کے بیلسٹک میزائل اور دیگر ایئر ڈیفنس سسٹم کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔پاکستان اب تک شاہین، غوری اور غوری دوم نامی میزائل بنا چکا ہے جن میں سے آخرالذکر کی پہنچ ڈھائی ہزار کلومیٹر ہے۔پاکستان کے پاس بھی قریب اور درمیانے فاصلے پر مار کرنے والے کئی میزائل ہیں جن میں سے حطف سوم چھ سو سے آٹھ سو کلومیٹر مار کرتا ہے جبکہ چینی ساخت کا ایم گیارہ تین سو کلومیٹر سے کچھ کم۔ یہ دونوں میزائل پاکستانی فوج کے استعمال میں ہیں اور ان کی مدد سے بھارتی زیر انتظام کشمیر کے علاوہ راجستھان اور پنجاب کی ریاستوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔دونوں ملکوں کے قریب مار میزائلوں میں بڑا فرق یہ ہے کہ بھارتی پرتھوی میں مائع ایندھن استعمال ہوتا ہے جو نسبتاً فرسودہ تکنیک ہے۔ پاکستان کے حطف اور ایم گیارہ میں ٹھوس ایندھن استعمال ہوتا ہے جس کی وجہ سے انہیں مقابلتاً کم وقت میں پرواز کے لئے تیار کیا جا سکتا ہے۔ دو ہزار ایک کے آخر میں جب دونوں طرف فوجی کشیدگی بڑھی تو روائتی ہتھیاروں کے ساتھ بیلیسٹک میزائلوں کا رخ بھی ایک دوسرے کی طرف کر دیا گیا جس کی وجہ سے دونوں ملک ایٹمی جنگ کے دہانے پر آ کھڑے ہوئے۔پاکستان کو جس موذی دْشمن کا سامنا ہے اسکے وسائل آبادی اور اسلحہ کے ذخائر پاکستان سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ وہ جنگی جنون اور اسلحہ جمع کرنے کے خبط میںمبتلا رہتا ہے۔ اس کے لئے پاکستان کا وجود نا قابل برداشت ہے۔ وہ اسلحہ کے انبار لگانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی سازشوں کے جال بھی بنتا رہتا ہے۔ پاکستان میں فرقہ واریت ، بلوچستان میں علیحدگی پسندی اور دہشتگردی میں بھی بھارت ملوث ہے۔ اس کا دفاعی بجٹ پاکستان کے مجموعی بجٹ کے برابر ہے۔ پاکستان بھارت کے مقابلے اپنا دفاع اسلحہ کے معیار ارو افواج کی تربیت بہترین خطوط پر استوار کر کے ہی مضبوط بنا سکتا ہے۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بھارت کے مقابلے میں کہیں زیادہ معیار ی اور محفوظ ہے جو پاکستان کے دفاع کی بہت بڑی ڈھال ہے۔ پاک فوج کی عالمی مقابلوں میں پوزیشن نمایاں رہی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج نے جو تجربات حاصل کئے ان سے واقعی کندن بن کر نکلی اور ایسی مہارت اور تجربہ کسی اور فوج کے پاس نہیں ہے۔ پاک فضائیہ اور پاک نیوی بھی مضبوط دفاع کی حامل ہیں۔ نیوی کے لئے چین سے چار جنگی بحر ی جہاز خریدے جا رہے ہیں۔ گوادر بندر گاہ کے آپریشنل ہونے سے پاک نیوی کی دفاعی ذمہ داریوں میں اضافہ ہوا ہے۔ نیوی یقینا پاک وطن کے سمندروں کے دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ناقابل تسخیر دفاع کے لئے قوم کا اپنی افواج کے شانہ بشانہ ہونا ضروری ہے۔ قوم جفا کش ،مشاق اور پاکستان سے محبت کے جذبات سے سرشار پاک فوج کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہے۔دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں پاکستانی فوج کا گیارہواں نمبر ہے۔ آئندہ دہائی میں پاکستان دنیا کی تیسری بڑی ایٹمی قوت بن جائے گا۔ دفاعی سازو سامان کی تعداد اور پیداوار پر مبنی اس رپورٹ میں جنگی تربیت اور مہارتوں کو پیش نظر نہیں رکھا گیا۔ اس درجہ بندی میں بھارت کا پانچواں نمبر ہے جس پر بھارتی میڈیا خوب خوب اچھل رہا ہے، حالانکہ اس میں اس بات کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ہے کہ کس ملک نے کتنی جنگیں کس سطح کی لڑی ہیں اور اس کی کامیابی کا تناسب کیا ہے۔ پاکستان کی دفاعی صلاحیت کے حوالے سے پہلے بھی عالمی ذرائع ابلاغ میں خبریں نشر ہوتی رہی ہیں۔ خصوصاً پاکستان کی میزائل ٹیکنالوجی جو جدید ترین ہونے کے ساتھ ساتھ دومار اور ایٹمی صلاحیت کی حامل بھی ہے، اس سے دنیا کے طاقت ور ممالک پاکستان کو ایک قریب ترین طاقتور مدمقابل کے طور پر جاننے لگتے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں بھارت کی غیرمعمولی عسکری تیاریوں اور اسرائیل و امریکا سے عسکری معاہدوں کی وجہ سے خطے کے تمام ممالک اپنے آپ کو ایک خطرے میں محسوس کرتے ہیں لیکن پاکستان کی دفاعی اور عسکری صلاحیت کا اعتراف جب عالمی سطح پر کیا جاتا ہے تو بھارت کی دھاک کمزور پڑتی دکھائی دیتی ہے۔گزشتہ تیس سالوں میں پاکستان نے دو بڑی عالمی طاقتوں امریکا اور سوویت یونین کی مہم جوئیوں کو بھی بڑی مہارت کے ساتھ ہینڈل کیا اور اس خطے میں قدم جمانے کے ان کے خوابوں کو بری طرح ناکام بنادیا۔ یہ ایک طویل جنگی مہارت اور تجربہ ہے جو پاکستانی فوج اور اس کے خفیہ اداروں کے پاس ہے۔ یہ روس اور امریکا سمیت کسی بڑی طاقت کے پاس نہیں ہے۔ 90ء کی دہائی میں سوویت یونین اور 2000ء کے بعد امریکا اور نیٹو ممالک افغانستان پر حملہ آور ہوئے، دونوں مرتبہ کی جنگ دس دس سالوں سے زائد تک چلی۔ بالاآخر حملہ آور ناکام ہوئے اور خطہ چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اب پاک چائنا اقتصادی راہداری کا منصوبہ چائنا کو تو یقینا غیرمعمولی تقویت دینے کا باعث ہے۔ پاکستان بھی اس منصوبے سے معاشی حوالے سے اتنا آگے نکل جائے گا کہ دنیا حیران ہوجائے گی۔ پاک چائنا دوستی ایک ایسی زنجیر ہے جو ایشیاء کو بحر عرب سے لے کر بحرالکاہل تک بیچ میں لکیر کی طرح تقسیم کرتی ہے۔ اس راہداری کے بننے کے بعد ایشیاء کا جنوب اس کے شمال سے رابطہ کرنے میں اسی کا محتاج ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کو اس منصوبے پر بہت ہی دْکھ ہے، وہ امریکا کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو ہر حال میں ناکام بنانا چاہتا ہے لیکن اس کی بدقسمتی یہ ہے کہ اس معاہدے کا ایک فریق چائنا ہے، ایک پاکستان۔ دونوں ممالک کمزور نہیں، بلکہ بڑی عالمی طاقتوں کی فہرست میں شامل ہیں۔ا گر بھارت زیادہ آگے بڑھنے کی کوشش کرے گا تو اس کی عزت خاک میں مل جائے گی۔وطنِ عزیز کی جوہری قوت پاکستان کا ایک عظیم اثاثہ اور سرمایہ ہے۔ پاکستان کے کروڑوں عوام نے اس کے لیے گزشتہ پونے پانچ عشروں میں بے مثال مالی ایثار کا مظاہرہ کیا ہے۔ دفاعِ وطن کے لئے ناگزیر ہے کہ جوہری قوت پر مزید رقم خرچ کی جائے۔ آنے والے دور کی جنگ محض ٹینکوں کی جنگ نہیں۔ محض کئی گنا بہتر ٹینکو ں کے ذریعے میدانِ جنگ میں پیش قدمی اور فتح حاصل کرنے کا تصور جدید دور میں مسترد کیا جا چکا ہے۔اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان فضائی بالادستی، میزائل ٹیکنالوجی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی میں بھارت سے کہیں آگے ہے ۔ خلائی مواصلاتی جاسوسی ٹیکنالوجی میں مہارت کے منصوبوں کو بھی آگے بڑھایا جارہا ہے۔ عوامی شہری حلقوں کا کہنا ہے مستقبل میں وطنِ عزیز کے استحکام دفاع کی ترجیحات میں بحری بیڑے کی تیاری، جوہری اہلیت میں اضافہ، خلائی مواصلاتی جاسوسی ٹیکنالوجی کا فروغ، ریڈار نظام کی ترقی، میزائل ٹیکنالوجی میں بڑھوتری، ایٹمی جوہری تنصیبات کی حفاظت کے لئے ایٹمی چھتری کا حصول ازبس ضروری ہے لیکن یہ حقیقت فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ پاکستان کا مقابلہ اب دنیا کی کوئی فوج نہیں کر سکتی۔

Facebook Comments
Share Button