تازہ ترین

Marquee xml rss feed

گوادر میں پاکستان کا سب سے بڑا اور جدید ترین ائیرپورٹ تعمیر کرنے کی تیاریاں مکمل وزیراعظم عمران خان 29 مارچ کو ساحلی شہر میں منصوبے کا سنگ بنیاد رکھیں گے، منصوبہ سی پیک ... مزید-بلاول بھٹو 26مارچ کو کراچی سے ٹرین مارچ کا آغاز کریں گے، خورشید شاہ اٹھارہویں ترمیم کی حفاظت کے لیے قانون کےدائرے میں رہ کر جو بھی کر سکتے ہیں کریں گے، بلاول بھٹو زرداری-460ارب جرمانہ ملک ریاض نے نہیں، عوام نے ادا کرنا ہے، محمود صادق ملک ریاض کوعدالت سے ڈیل میں اب بھی 700 ارب منافع ہوگا، بحریہ ٹاؤن پر دباؤ بڑھنے سے کام ٹھپ ہوا تو لوگوں نے ... مزید-مفتی تقی عثمانی پر حملہ کرنیوالے ملزمان بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے،آئی جی سندھ-آئی ایس پی آر اور پاک فضائیہ کی جانب سے یومِ پاکستان 2019 کی مناسبت سے آفیشل نغمے جاری کردیے پاکستان زندہ آباد کے عنوان سے جاری کیے گئے نغمے میں وطن کے محفافظوں کو ... مزید-فیس بک کا بغیر اجازت نامناسب تصاویر اپ لوڈ یا شیئر کرنے والے صارفین کو بلاک کے نئے اقدامات کا اعلان کسی کی نامناسب تصاویر اس کی اجازت کے بغیر شیئر کرنا نقصان دہ ہے، ہم ... مزید-وزیراعلیٰ سندھ کا مفتی تقی عثمانی پر قاتلانہ حملے میں شہید اہلکار کے نابینا بچوں کے علاج کرانے اور مفت تعلیم کا اعلان-یوم پاکستان : گورنر اور وزیراعلیٰ سندھ نے مزار قائد پر حاضری دی،ملکی سلامتی کیلئے دعاکی-سعودی ولی عہد کی مہمان نواز کرنے والے ملازمین میں ایک کروڑ اعزازی تنخواہ دیئے جانے کا انکشاف-ملائیشیا پاکستان کی دفاعی صنعت سے بے حد متاثر، پاکستان کے اینٹی ٹینک میزائل خریدنے میں دلچسپی کا اظہار گزشتہ روز ملائیشیا کے وزیراعظم نے جے ایف 17 تھنڈر جنگی طیاروں کی ... مزید

GB News

ڈاکٹروں کے بحران کی وجوہات پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے، ینگ ڈاکٹرز

Share Button

گلگت(نامہ نگار خصوصی)ملک کے دیگرصوبوں میں خدمات انجام دینے والے اور سپیشلسٹ ٹریننگ لینے والے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ گلگت بلتستان میں ڈاکٹروں کے بحران کی کئی وجوہات ہیں جن پر سنجیدگی کے ساتھ توجہ دینے کی ضرورت ہے، یہاں بہت سے مسائل ہیں جن کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز خطے میںآنے سے کتراتے ہیں تاہم یہ مسائل حل ہوئے تو کوئی بھی مقامی ڈاکٹر کسی دوسرے صوبے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا ، کے پی این کو کے پی کے اور پنجاب میں موجود ینگ ڈاکٹروںنے بتایا کہ گلگت بلتستان میں سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ یہاں کوئی ٹیچنگ ہسپتال نہیں جس کی وجہ سے ینگ ڈاکٹرز پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ سے محروم رہ جاتے ہیں ڈاکٹروں کو کنٹریکٹ پر چلایا جاتا ہے جو ریگولر ہوتے ہوتے عرصہ لگ جاتا ہے جونیئر ڈاکٹرز کی تنخواہ دوسرے صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے، یہاں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ حکومت بڑی مراعات کا شوشہ چھوڑتی ہے لیکن حقیقت میں ایک جونیئر ڈاکٹر کی تنخواہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں انتہائی کم ہے ، انہوں نے مثال پیش کرتے ہوئے بتایا کہ کے پی کے میں کٹیگری سی کا ایک میڈیکل آفیسر اس وقت ڈیڑھ لاکھ روپے تک تنخواہ لے رہا ہے، لیکن گلگت بلتستان میں ایک میڈیکل آفیسر کو بمشکل 60سے 80ہزار دیاجاتا ہے۔ سی ایم سپیشل الائونس کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ مشروط طور پر ہر تین ماہ بعد ملتا ہے لیکن دیگر صوبوں میں ڈاکٹر کو لم سم پے اس سے کہیں زیادہ ملتی ہے، گلگت بلتستان اس وقت صرف جونیئر ڈاکٹر پید ا کررہا ہے یہ ڈاکٹرز ملک کے کسی بھی ڈاکٹر سے کم نہیں ہیں، انتہائی محنت اور میڈل لینے کے بائوجود گلگت بلتستان کے ینگ ڈاکٹرز کو پوسٹ گریجویٹ سپیشلائزیشن کے مواقع میسر نہیں اس لیے وہ انتہائی کم تنخواہ پر ٹریننگ کرکے سپشلسٹ بن جاتے ہیں، سپیشلائزیشن کی ٹریننگ کیلئے گلگت بلتستان حکومت نے آج تک ڈاکٹر وںکے مسئلے کو حل کیا نہ ہی کوئی اقدامات اٹھائے گئے، انہوں نے کہا کہ جو ڈاکٹرسپیشلسٹ بن کر گلگت بلتستان آتے ہیں وہ اپنی مدد آپ کے تحت بنتے ہیں، اگر جی بی حکومت یہی رویہ برقرار رکھے گی تو مستقبل میں گلگت بلتستان میں کوئی بھی سپیشلسٹ ڈاکٹر نہیں رہے گا، اور گلگت بلتستان غیر مقامی سپیشلسٹ ڈاکٹروں پر انحصار کریگا، ان مسائل کو کیسے حل کیا جاسکتاہے پر جواب دیتے ہوئے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ سب سے پہلے گلگت بلتستان میں کم از کم ایک بڑے ہسپتال کو میجر سپیشلسٹ ٹریننگ کیلئے منظور کروانا ہوگااس کا مطلب یہ ہے کہ کالج آف فزیشن اینڈ سرجنز پاکستان(CPSP) سے ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دلانا ہوگا اس سے گلگت بلتستان میں اپنے سپیشلسٹ پیدا ہونگے، ینگ ڈاکٹرز کی ریگولرائزیشن اورانہیں سپیشلائزیشن کیلئے ڈیپوٹیشن پر بھیجنا ہوگا،تاہم ان سپیشلسٹ کو گلگت بلتستان میں خدمات انجام دینے کا پابند بنانے کا معاہدہ کروانا ہوگا،ان ڈاکٹروں کو ملک کے دیگر صوبوں کے برابر تنخواہ و مراعات دینا ہونگی، ینگ ڈاکٹرز کیلئے ملک کے دیگر صوبوں کے گورنمنٹ ہسپتالوں میں پیڈ سپیشلائزیشن کی ٹریننگ کے حصول کیلئے کوٹہ مختص کرنا ہوگا، انہوں نے مزید بتایا کہ ہم ہمیشہ سے میڈیکل کالج بنانے کے دعوے کرتے رہے ہیں لیکن میڈیکل کالج کا قیام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ اس صوبے میں ٹیچنگ ہسپتال کا قیام اور مخصوص تعداد میں سپیشلسٹ ڈاکٹرز موجود نہ ہوں۔ڈاکٹروں کا کہناتھا کہ دیگر صوبوں میں سالانہ 80سے90ایم بی بی ایس کی سیٹیں مختص ہیں لیکن پوسٹ گریجویٹ اور سپیشلائزیشن کیلئے پنجاب اور کے پی کے میں صرف8یا9سیٹیں مختص ہیں، حکومت کو سوچنا ہوگا کہ کیا صوبے میں صرف جونیئر ڈاکٹر چاہیے یا سپیشلسٹ، کیونکہ ایف سی پی ایس ون پاس کرنے کے بائوجود80سے 90فیصد ڈاکٹرزٹریننگ سے محروم ہیںیا پھربھاری اخراجات پر کسی پرائیویٹ ہسپتال سے ٹریننگ کررہے ہیں

Facebook Comments
Share Button