تازہ ترین

Marquee xml rss feed

سمندری حدود میں کیکڑا 1 کے مقام پر توانائی کے ذخائر کی تلاش کا کام مکمل طور پر ناکام نہیں ہوا جس مقام پر ڈرلنگ کی گئی وہاں آس پاس توانائی کے ذخائر موجود ہیں، کسی دوسری جگہ ... مزید-پاکستان اور بنگلا دیش کے درمیان کشیدی شدت اختیار کر گئی بنگلا دیش حکومت نے پاکستانیوں کو ویزہ جاری کرنے پر پابندی عائد کردی، پاکستان کے لیے پروازوں کو اجرابھی روک دیا ... مزید-آئی جی پنجاب نے ڈولفن فورس کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بعد ہدایات جاری کر دیں جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے حملے یا فائرنگ کی صورت میںہی ڈولفن فورس کو جوابی فائر کی اجازت ... مزید-چوہدری محمدسرور سے صوبائی وزیر میاں محمودالرشید اور فہیم خان کی ملاقات حکومت کا مشن عام آدمی کی ترقی اور خوشحالی ہے،گور نر پنجاب کی گفتگو-میاں اسلم اقبال سے جرمن الباء گروپ کے نمائندوں کی ملاقات کوڑا کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بات چیت کی گئی-گلگت کی سیاسی جماعت کا سربراہ ’راء‘ کا ایجنٹ نکلا، 14رکنی گروہ نے گرفتاری کے بعد بڑے انکشافات کر دیے ’راء‘ نے عبدالحمید کو بھارت بلا کر تربیت دی، پاکستان کو عالمی سطح ... مزید-بلاول بھٹو کا بی این پی مینگل، ایم کیوایم کوبجٹ میں ووٹ نہ دینےکا مشورہ ایم کیو ایم اور بی این پی کے معاہدے پر عمل نہیں ہوا، بی این پی لاپتا افراد کی بازیابی اور ایم کیوایم ... مزید-ڈولفن فورس کا مقصد سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ کمیونٹی بیسڈ پولیسنگ کو فروغ دینا ہے‘کیپٹن (ر) عارف نواز صرف جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے حملے یا فائرنگ کی صورت ... مزید-شرح سود میں اضافے سے مقامی قرضوں پر سود کی مد میں300ارب کا فرق پڑیگا‘معاشی تجزیہ کار بینکوں سے قرض لیکر کی جانیوالی سرمایہ کاری کے رجحان میں کمی سے معیشت سست روی کا شکار ... مزید-وفاقی اور پنجاب حکومت بجٹ میں غر یب آدمی پر فوکس کر یں گی انکو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جائیگا ‘چوہدری محمد سرو ر کچھ عناصر ملک میں اقتصادی غیریقینی صورتحال پیدا کرنے ... مزید

GB News

گندم کے پندرہ لاکھ کوٹے سے 84 ہزار بوری کی کٹوتی

Share Button

ڈپٹی سپیکر جعفراللہ خان کی صدارت میں اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے محکمہ خواراک کا اجلاس اسمبلی کے کمیٹی روم میں گزشتہ روز منعقد ہوا ۔اجلاس میں کمیٹی کے ممبران ،ممبر اسمبلی راجہ جہانزیب ، ممبر اسمبلی بی بی سلیمہ اور محکمہ خوراک کے ذمہ داران نے شرکت کی۔ا س موقع پر محکمہ خوراک نے کمیٹی کو سبسڈی گندم کے بحران کے حوالے سے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وفاق کی طرف سے پندرہ لاکھ بوری گندم کی ایلوکیشن ہے جبکہ فیڈرل فنانس گزشتہ کئی سالوں سے گندم کی قیمت بڑھانے پر زور دے رہا ہے۔ گندم کی قیمت نہیں بڑھانے کے سبب فیڈرل فنانس نے پندرہ لاکھ گندم سے چوراسی ہزارگندم بوری کو ٹے سے کاٹ کر14 لاکھ سولہ ہزار بوری گندم ریلیز کر دی ہے۔محکمہ خوراک نے مزید کہا کہ جیل مینول کے مطابق ایک قیدی کے لیے روزانہ 950گرام گندم فراہم کیا جاتا ہے اور آرمی کے لیے فی نفر 750 گرام گندم مختص ہیں۔ جبکہ اس وقت موجودہ آبادی پر تقسیم کرے تو سبسڈی کا گندم گلگت بلتستان میں فی نفر 250 گرام مل رہی ہے جو کہ انتہائی کم ہے 15 لاکھ گندم بوری سے بحران کا خاتمہ ناممکن ہے موجودہ مردم شماری کے تحت سبسڈی گندم کے کو ٹے کوبڑھا کر چوبیس لاکھ سولہ ہزار بوری گندم کرنے کی ضرورت ہیں۔ اس کے لیے سبسڈی کے مد میں مزید ساڑھے تین ارب روپے وفاق سے منظور کرانے کی اشد ضرورت ہے۔کمیٹی نے اس صورتحال کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ 250گرام فی نفر روزانہ گندم یعنی ایک پائو گندم سے تین وقت کا کھانا لوگ کیسے کھائیں؟ کمیٹی نے کہا یہ سراسر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے خوراک کی کمی کی وجہ سے انسانی صحت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ کمیٹی نے اس مسئلے کا فوری اور مستقل حل نکالنے کے لیے اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اسمبلی کے آنے والے اجلاس میں حکومت اور اپوزیشن ممبران مل کر قرارداد لائیں گے اور ممبران اسمبلی کی تجاویز کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔کمیٹی نے یہ بھی فیصلہ کیا ہے کہ اس اہم مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی کے ممبران اور محکمے خوراک کے ذمہ داران اسلام آباد جا کر فیڈرل فنانس سے بات چیت کرینگے اور ضرورت پڑنے پر وفد کی شکل میں وزیراعظم پاکستان سے بھی ملاقات کرینگے۔کمیٹی نے کہا کہ وفاق میں اس مسئلے کے حل کے حوالے سے جو بھی پیش رفت ہوگی اس سے عوام کو آگاہ کیا جائے گا۔ کمیٹی نے کہا کہ اس مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار وفاقی حکومت کا ہے ۔ امید ہے یہ مسئلہ مستقل بنیادوں پر حل ہوگا۔کمیٹی نے گورنر اور وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔تاکہ کسی بھی ایمرجنسی صورتحال میں مشکلات سے دوچار نہ ہونے پائے اس موقع پر محکمہ خوراک نے کمیٹی کو بتایا کہ بیس ہزار بوری گندم فیڈرل فنانس سے اپیل کرکے لائے تھے ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے تقسیم کیا ہے اور کسی حد تک بحران کو قابو کرنے کی کو شش کی ہے۔ ایمر جنسی سٹاک میں ڈیڑھ مہینے تک کے لیے گندم موجود ہیں ریگولر سٹاک میں کافی مشکلات کا سامنا ہے کمیٹی نے کہا کہ گلگت شہر میں دور دراز علاقوں سے روزانہ آکر آباد ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے یہاں گندم کی مانگ میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔ کمیٹی نے محکمہ خوراک کو ہدایت کی ہے کہ گلگت شہر میں گندم بحران پر قابو پانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں تاکہ عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لائے جا سکیں۔

Facebook Comments
Share Button