تازہ ترین

Marquee xml rss feed

ڈاکٹر صدیقی امریکی ریاست ٹیکسس میں واقع کارزویل جیل میں قید ہیں جہاں بہترین سہولیات میسر ہیں کارزویل جیل میں صرف خواتین قیدی زیرحراست ہیں، ڈاکٹر صدیقی عموما شلوار شلوار ... مزید-آصف زرداری نے پارٹی کارکنوں کو انتخابات کی تیاری کی ہدایت کردی پیپلز پارٹی کے تمام اراکین اسمبلی کو اپنے حلقوں میں کھلی عوامی کچہریاں بھی لگانے کی ہدایت-سابق صدر آصف علی زرداری کا قریبی ساتھی اور بھٹو ہاؤس کا انچارج عدالت میں رو پڑا غریب آدمی ہوں، وکیل کرنے کے بھی پیسے نہیں ہیں، نہیں جانتا کہ اکاؤنٹ میں اتنے پیسے کہاں سے ... مزید-اسد عمر کی وفاقی کابینہ میں دوبارہ شمولیت کا امکان سابق وزیر خزانہ وزیراعظم سے مشاورت کیلئے اسلام آباد پہنچ گئے، وزارت قبول کرنے کیلئے دوست احباب سے مشورے جاری-اگر این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ پی ایف سی ایوارڈ کو حتمی شکل نہ دی گئی تو لوگوں کو اٹھارویں ترمیم سمیت این ایف سی ایوارڈ کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا، مصطفی کمال-ایف بی آر نے واپڈا ٹائون میں واقع ڈیپارٹمنٹل سٹور کے اکاونٹس منجمد کر دئیے-عمران خان اپنے تمام فیصلے خود کرتے ہیں جہاں ضرورت محسوس ہو تبدیلی کر دیتے ہیں‘ صمصام بخاری وزیر اعظم نے عثمان بزدار کو میرٹ پر پنجاب کا وزیر اعلی مقرر کیا ہے انہیں ہٹانے ... مزید-کابینہ اجلاس میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر کڑی نظر رکھنے کا فیصلہ کیا گیا،ڈاکٹر فر دوس عاشق عوان آئندہ بجٹ کو عوام دوست بنانے کیلئے اقدامات کررہے ہیں، اشیائے ضروریہ ... مزید-وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں وفاقی کابینہ نے 22 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دیدی وزیراعظم عمران خان نے کابینہ اراکین کو باور کرایا ہے کہ وہ عوامی خدمت کے اقدامات ... مزید-لاہور ، وزیراعظم عمران خان کی آٹھ رکنی اقتصادی مشاورتی کونسل کے رکن ڈاکٹر عابد قیوم سلہری کا لاہور پریس کلب کا دورہ

GB News

صدارتی نظام کی باز گشت

Share Button

ملک کی موجودہ صورتحال میں عوام اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ گزشتہ عرصے میں احتساب کے نام پر بڑے بڑے ناموں کی گرفتاریاں کی گئیں۔ بڑے بڑے مالیاتی سکینڈل میں ملوث ہونے کے دعوے کیے گئے لیکن اس کے نتائج برآمد نہیں ہوئے؟اگر اس استدلال کو درست مان لیں کہ دبائو بڑھانے کے لیے اپوزیشن جلسے جلوس کر رہی ہے تا کہ حکومت کو بلیک میل کیا جا سکے این آر او لیا جا سکے۔ مگر یہاں تو یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اپوزیشن مہینے میں کوئی ایک جلسہ کرتی ہے لیکن حکومتی وزراء تو دن رات ایک بیانیہ دوہراتے رہتے ہیں۔حکومت کا دعوی ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم نے تو کوئی این آر او نہیں مانگا۔ جس نے مانگا اْس کا نام لیں۔ طرفہ تماشا یہ ہوا ہے کہ وزیر اعظم سے لیکر کابینہ کے تقریباً سبھی وزراء این آر او لینے کا کہہ رہے ہیں کہ پیسے دے دو ہم چھوڑ دیں گے، کبھی کہتے ہیں نہیں چھوڑیں گے۔ کبھی عدلیہ کو سراہتے ہیں تو ضمانت مل جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔دراصل ریاست کو حکومت پر اعتماد ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اپنے اداروں پر اعتماد نہیں رہا اور مطلوبہ اہداف نہ ملنے کے سبب عجیب و غریب بیانات دیے جا رہے ہیں ۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی جلسے جلوس شروع کر دیے ہیں۔ ماحول ایسا بن رہا ہے کہ جیسے پھر کسی میدان کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اب یہ انتخابی میدان ہو گا یا پھر اس کی کوئی دوسری شکل۔ لیکن عوام کے دماغ یہ سوچنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ موجودہ نظام سے عوام کو مکمل مایوس کر کے صدارتی نظام لایا جائے گا۔ بالفرض صدارتی نظام لانا ہی ہے تو انہیں چلانے والے فرشتے تو نہیں ہونگے بلکہ یہی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہو گی۔ پارلیمان نظام کئی ممالک میں کامیاب ہے تو صدارتی نظام میں بھی کوئی بْرائی نہیں۔ دنیا اس وقت کئی ایسے نظام ہیں جو کہیں کامیاب ہیں تو کہیں ناکام۔ اصل بات اتنی ہے کہ اس کے چلانے والے اپنی مملکت سے کتنے مخلص اور انہوں نے اپنے اداروں کو کتنا مضبوط کیا ہوا ہے۔

Facebook Comments
Share Button