تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

صدارتی نظام کی باز گشت

Share Button

ملک کی موجودہ صورتحال میں عوام اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ گزشتہ عرصے میں احتساب کے نام پر بڑے بڑے ناموں کی گرفتاریاں کی گئیں۔ بڑے بڑے مالیاتی سکینڈل میں ملوث ہونے کے دعوے کیے گئے لیکن اس کے نتائج برآمد نہیں ہوئے؟اگر اس استدلال کو درست مان لیں کہ دبائو بڑھانے کے لیے اپوزیشن جلسے جلوس کر رہی ہے تا کہ حکومت کو بلیک میل کیا جا سکے این آر او لیا جا سکے۔ مگر یہاں تو یہ دیکھنے میں آ رہا ہے کہ اپوزیشن مہینے میں کوئی ایک جلسہ کرتی ہے لیکن حکومتی وزراء تو دن رات ایک بیانیہ دوہراتے رہتے ہیں۔حکومت کا دعوی ہے کہ اپوزیشن این آر او مانگ رہی ہے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ ہم نے تو کوئی این آر او نہیں مانگا۔ جس نے مانگا اْس کا نام لیں۔ طرفہ تماشا یہ ہوا ہے کہ وزیر اعظم سے لیکر کابینہ کے تقریباً سبھی وزراء این آر او لینے کا کہہ رہے ہیں کہ پیسے دے دو ہم چھوڑ دیں گے، کبھی کہتے ہیں نہیں چھوڑیں گے۔ کبھی عدلیہ کو سراہتے ہیں تو ضمانت مل جانے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔دراصل ریاست کو حکومت پر اعتماد ہے کہ کچھ نہ کچھ ہو جائے گا۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت کو اپنے اداروں پر اعتماد نہیں رہا اور مطلوبہ اہداف نہ ملنے کے سبب عجیب و غریب بیانات دیے جا رہے ہیں ۔ اپوزیشن کے ساتھ ساتھ حکومت نے بھی جلسے جلوس شروع کر دیے ہیں۔ ماحول ایسا بن رہا ہے کہ جیسے پھر کسی میدان کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اب یہ انتخابی میدان ہو گا یا پھر اس کی کوئی دوسری شکل۔ لیکن عوام کے دماغ یہ سوچنے پر مجبور نظر آتے ہیں کہ موجودہ نظام سے عوام کو مکمل مایوس کر کے صدارتی نظام لایا جائے گا۔ بالفرض صدارتی نظام لانا ہی ہے تو انہیں چلانے والے فرشتے تو نہیں ہونگے بلکہ یہی سیاسی جماعتیں اور ان کی قیادت ہو گی۔ پارلیمان نظام کئی ممالک میں کامیاب ہے تو صدارتی نظام میں بھی کوئی بْرائی نہیں۔ دنیا اس وقت کئی ایسے نظام ہیں جو کہیں کامیاب ہیں تو کہیں ناکام۔ اصل بات اتنی ہے کہ اس کے چلانے والے اپنی مملکت سے کتنے مخلص اور انہوں نے اپنے اداروں کو کتنا مضبوط کیا ہوا ہے۔

Facebook Comments
Share Button