تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

گلگت بلتستان کے عوام اپنے بنیادی حقوق چاہتے ہیں

Share Button

پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں وفاقی وزیربرائے امورکشمیروگلگت بلتستان علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے جائیں گے جو آئین پاکستان کے تحت کسی بھی صوبے کے شہریوں کو حاصل ہیں تاہم مسئلہ کشمیر کے باعث گلگت بلتستان کو صوبہ نہیں بنایاجاسکتا۔ وفاقی وزیر کاکہنا تھا چونکہ گلگت بلتستان فی الوقت صوبہ نہیں بن سکتا اس لئے سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی نہیں مل سکتی تاہم قومی مالیاتی کمیشن ،مشترکہ مفادات کونسل’ اقتصادی رابطہ کمیٹی سمیت دیگرآئینی اداروں میں بطور مبصرو نان ووٹنگ ممبر نمائندگی دی جائے گی۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے حالیہ فیصلے کے مطابق تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ جامع مشاورت کے بعدنیا ڈرافٹ تیار کرلیا ہے، جسے قومی اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔حکومت نے ڈرافٹ کو قومی سلامتی کمیٹی میں بھی پیش کیاتھا۔سپریم کورٹ نے بھی گلگت بلتستان کو حقوق کی فراہمی سے متعلق کیس میں یہی فیصلہ دیا تھا کہ گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے سے کشمیر کاز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے لہٰذا صوبہ بنائے بغیر حقوق دیئے جارہے ہیں جبکہ دفتر خارجہ کو بھی کشمیر کاز کے باعث گلگت بلتستان کو صوبہ بنانے پر تحفظات تھے۔کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق تحریک انصاف بھی گلگت بلتستان کو حقوق فراہم نہ کرنے کے ضمن میں انہی امورومعاملات کا سہارا لے رہی ہے جس کا سہارا ماضی کی حکومتیں لیتی رہیں۔ ایک بار پھر مسئلہ کشمیر’بین الاقوامی مسائل کا عذر تراشا گیا ہے حالانکہ سرتاج عزیز کمیٹی نے جو سفارشات پیش کی تھیں اس وقت تو ان معاملات کی بابت اظہار خیال نہیں کیا گیا تھا۔کیا سرتاج عزیز کمیٹی کو سفارشات مرتب کرتے ہو ئے اس عالمی صورتحال کا اندازہ نہیں تھا جو انہوں نے سفارشات پیش کیں ۔وہ یقینا تمام حالات اور واقعات کو بخوبی جانتے تھے اسی تناظر میں انہوں نے سفارشات مرتب کیں لہذا یہ کہا جا سکتا ہے جو جواز وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور نے پیش کیا ہے وہ ہرگز قابل قبول نہیں بلکہ حقائق کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا تحریک انصاف اس بات کا جواز پیش کر سکتی ہے کہ اس نے آخر کن بنیادوں پرگلگت بلتستان کو آئینی حقوق دینے کے وعدے اپنی انتخابی مہم کے دوران کیے۔کیا یہ محض ووٹ بٹورنے کی خاطر عوام کو گمراہ کرنے کی سعی اور ان کے جذبات سے کھیلنے کی بھونڈی حرکت تھی۔اگر ایسا ممکن نہیں تھا تو عوام سے وعدے اور دعوے کیوں کیے گئے۔تحریک انصاف ہی کی جانب سے گلگت بلتستان کو قومی اسمبلی وسینیٹ میں نمائندگی کی بھی بات کی گئی تھی لیکن اب محض کچھ اداروں میں بطور مبصر ووٹ کے بغیرنمائندگی کا لولی پاپ دیا جا رہا ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن ،مشترکہ مفادات کونسل’ اقتصادی رابطہ کمیٹی سمیت دیگرآئینی اداروں میں بطور مبصر نمائندگی یہاں کے عوام کا مطالبہ نہیں نہ ہی انہیں اس نمائندگی سے کوئی سروکار ہے۔ایک جانب یہ کہا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان کے شہریوں کو وہ تمام بنیادی حقوق دیئے جائیں گے جو آئین پاکستان کے تحت کسی بھی صوبے کے شہریوں کو حاصل ہیں اور دوسری جانب تضاد بیانی سے کام لیتے ہوئے یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ گلگت بلتستان کو آئینی حقوق نہیں دیے جا سکتے۔یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ اس حوالے سے کچھ رکاوٹیں ہیں تو یہاں کے عوام عبوری صوبے کی بات بھی کر چکے ہیں اس جانب توجہ دینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی جاتی؟کیا عبوری صوبے کے قیام میں بھی کوئی مسئلہ ہے ہم جانتے ہیں کہ یہ سیاسی جماعتیں ووٹ کے حصول کے لیے بے بنیاد و جھوٹے وعدے کرتی ہیں لیکن اقتدار میں آنے کے بعد کشمیری قیادت کے سحر اور دبائو میں سب کچھ بھول کر ان کی زبان بولنے لگتی ہیں۔تحریک انصاف نے بھی یہاں کے عوام کو مایوس کیا ہے حالانکہ ان کے دعوئوں پر نگاہ دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ان سے زیادہ شاید ہی کوئی گلگت بلتستان کا خیرخواہ ہولیکن یہ خیر خواہی خطے کے عوام کو مزید مشکلات سے دوچار کرنے اور ان کے مسائل کے حل سے فرار کے علاوہ کچھ نہیں۔آپ کا کہنا تو یہ ہے کہ ہم چاہتے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان کی ستر سالہ محرومیوں کا خاتمہ کیا جائے۔کیا محرومیوں کا خاتمہ اس طرح ہو سکتا ہے۔ایکٹ آف پارلیمنٹ بھی اگر گلگت بلتستان کو حقوق فراہم نہیں کر رہا تو آرڈرز اور ایکٹ آف پارلیمنٹ میں کیا فرق باقی رہ جاتا ہے۔ہم پھر یہ عرض کیے دیتے ہیں کہ گندم پر سبسڈی اور ٹیکس پر چھوٹ برقرار رکھنا عوام کا مطالبہ نہیں بلکہ عوام اپنی ستر سالہ محرومیوں کے تدارک کے لیے آئنی حقوق چاہتے ہیں دنیا کا کوئی بھی مسئلہ اور قانون و اخلاقیات کسی علاقے کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی سے نہیں روک سکتے اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام بالا خطے کے عوام کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے انہیں بلا تاخیر آئینی حقوق دینے کی نہ صرف راہ ہموار کرے بلکہ انہیں ان حقوق کی فراہمی کے لیے فوری اقدامات کرے اور اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں ووٹنگ کرا کر آئین میں ترمیم کا اہتمام کرے۔انہیں یہ امر ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے کہ لوگ اب مزید انتظار نہیں کر سکتے ۔ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے’انہیں مزید محرومیوں کی دلدل میں دھکیلنے اور لالی پاپ’پیکجز وڈرافٹس کے چکروں میں الجھانے کی بجائے ان کے حقیقی حقوق فراہم کیے جائیں تاکہ انہیں بھی ان کی شناخت میسر آسکے۔

Facebook Comments
Share Button