تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

استعفے کی باتیں غلط ہیں میں کہیں نہیں جارہا، وزیر خزانہ

Share Button

اسلام آباد+واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک+آئی این پی)بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے قرض پروگرام کیلئے کڑی شرائط رکھتے ہوئے ڈالر کی قدر سے متعلق فیصلوں کا اختیار سٹیٹ بینک کو دینے، نیپرا اور اوگرا کو خود مختار کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے قرض پروگرام کے لیے پاکستان کو ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے سخت اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹیکس ہدف 5 ہزار ارب روپے سے زیادہ رکھا جائے۔ نجی ٹی وی کے مطابق آئی ایم ایف کی جانب سے مطالبہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تنخواہ دار طبقے کے لیے ٹیکس کی چھوٹ ختم کی جائیں۔ ٹیکس چھوٹ سالانہ 12 لاکھ سے کم کر کے 4 لاکھ پر لائی جائے۔انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ کی جانب سے مطالبات میں کہا گیا ہے کہ بجلی اور گیس کے نقصانات کم کیے جائیں۔ نیپرا اور اوگرا کے فیصلوں میں حکومت مداخلت نہ کرے۔ بجلی اور گیس کے 140 ارب کے واجبات عوام سے وصول کیے جائیں۔اس کے علاوہ آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سٹیٹ بینک کو خود مختار بنایا جائے تاکہ وہ ڈالر کی قدر سے متعلق خود فیصلے کرے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کا وفد آئندہ چند ہفتوں میں پاکستان آئے گا۔واشنگٹن میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ استعفے کی باتیں غلط ہیں میں کہیں نہیں جارہا،وزیراعظم کے بغیر بیرون ملک جاتا ہوں تو ایسی باتیں کی جاتی ہیں، وزیراعظم نے کہا تھا پاکستان کو تمہاری ضرورت ہے،آئی ایم ایف کے ساتھ اصولی اتفاق ہوگیا ہے پروگرام جلد شروع ہوگا ، اس سے پاکستانی معیشت میں بہتری آئے گی۔گفتگو کے دوران صحافی نے ان کے استعفے سے متعلق زیر گردش افواہوں سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے اس کا جواب شعر بڑھ کردیا، ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے۔اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم کے بغیر بیرون ملک جاتا ہوں تو ایسی باتیں کی جاتی ہیں تاہم میں کہیں نہیں جارہا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام جلد مکمل ہو جائے گا، آئی ایم ایف کی شرائط سے پہلے ہی بنیادی تبدیلیاں کی جا چکی ہیں اور اگلا کام بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کا کرنا ہے، ہم پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی اصلاحات پر یقین رکھتے ہیں۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ خطرناک حد تک ادائیگیوں کے توازن کا بحران تھا جس سے نمٹنے کے لیے اقدامات لیے اور قیمتوں میں اضافے سے متعلق اقدامات پہلے ہی لیے جا چکے ہیں، ہم نے آپشنز پیدا کیے تھے اس لیے فوری طور پر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہیں کیا، معیشت میں ایسے اقدامات لینے پڑتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ پہلے آئی ایم ایف کی تجاویز پاکستان کی معیشت کے لیے بہتر نہیں تھیں، اس لیے اس وقت تک معاہدہ نہیں کیا جب تک ہمارے سامنے ایسی تجاویز نہ رکھے جو معیشت کی بہتری کے لیے ہوں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ فروری میں جاری کھاتوں کا خسارہ پچھلے سال کے مقابلے میں 72 فیصد کم تھا اور ہر ماہ تجارتی خسارے میں کمی آرہی ہے اور قلیل مدتی فنانسنگ کا بھی انتظام کرلیا، آئی ایم ایف پروگرام معیشت کو بہتری کی طرف لے جا سکے گا۔ان کا کہنا تھا کہ علاقائی تجارت سے خطے کے عوام کی بہتری ہوگی، بھارت کے ساتھ دوطرفہ مسائل اور تجارت پر بات چیت کا ارادہ ہے، امید ہے بھارت میں آنے والی نئی حکومت پاکستان کے ساتھ بیٹھے گی۔اسد عمر نے کہا کہ ترکی کے ساتھ اسٹریٹجک اکنامک فریم ورک کا ڈرافٹ تیار کرلیا جس پر ایک ماہ میں دستخط کریں گے جب کہ ترکمانستان کے ساتھ گیس پائپ لائن معاہدہ ہوچکا ہے، افغانستان کے وزیرخزانہ اور تاجکستان کے نائب وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی، دونوں ممالک کے ساتھ تجارت بڑھا سکتے ہیں۔

Facebook Comments
Share Button