تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

کوئٹہ : ہزار گنجی کی سبزی منڈی میں خودکش دھماکہ،20 افراد جاں بحق

Share Button

کوئٹہ ( آئی این پی )صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی کے سبزی منڈی میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں20 افراد جاں بحق جبکہ 48 زخمی ہوگئے ہیں ،لاشوں اور زخمیوں کو فوری طو رپر سول ہسپتال ، بولان میڈیکل کمپلیکس ہسپتال اور شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں زخمیوںکو امداد دی جارہی ہے ، واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سول اور بی ایم سی میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بلوچستان خطے کا ایک اہم حصہ بن رہا ہے جو دشمن کو ہضم نہیں ہورہا ، پولیس اور سیکورٹی نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کی ناکہ بندی کرکے تحقیقات شروع کردی ہے۔وزیراعظم عمران خان ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی محمد قاسم خان سوری ،اپوزیشن لیڈر قومی اسمبلی میاںمحمدشہبازشریف، گورنر بلوچستان امان اللہ یاسین زئی ،وزیراعلیٰ جام کمال خان ،وفاقی وزراء شہریار آفریدی ،زبیدہ جلال ،معاون خصوصی برائے وزیراعظم سرداریارمحمدرندسمیت دیگر نے کوئٹہ دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے انسانی قیمتی جانوں کے ضیاع پرگہرے دکھ وافسوس کااظہار کیاہے ۔ تفصیلات کے مطابق جمعہ کو علی الصبح ساڑھے 7 بجے کے قریب کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی میں واقع سبزی و فروٹ منڈی میں اس وقت زور دار دھماکہ ہوا جب لوگوں کی بڑی تعداد خرید و فروخت میں مصروف تھی ۔ دھماکے کے نتیجے میں 16 افراد جاں بحق جبکہ 50 سے زائد زخمی ہوگئے جنہیں امدادی ٹیموں نے فوری طور پر سول ، بی ایم سی اور شیخ زید ہسپتال منتقل کردیا گیا تاہم بعد میں 4 مزید افراد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خالق حقیقی سے جاملے ۔ دھماکے سے قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا ، دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی ۔ جاں بحق ہونے والوں میں 2بچے اور ایک ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں جبکہ دیگر میں 8 افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے ہیں ۔ سیکورٹی فورسز نے اطلاع ملتے ہی علاقے کی ناکہ بندی کردی اور تحقیقات شروع کردی ہے ۔بعد ازاں صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دھماکے میں 20 افراد کی موت اور 48 کے زخمی ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہزار گنجی دھماکہ صوبے کے عوام کے لئے سیاہ دن ہے ، دھماکہ خود کش تھا جس کا ٹارگٹ کوئی خاص کمیونٹی نہیں تھا ہزارہ کے علاوہ مری بلوچ و دیگر بھی متاثر ہوئے ہیں ۔ دھماکے کے زخمیوں کو فوری طبی امداد دی جارہی ہے ۔ انہوں نے واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ سیکورٹی فورسز دہشت گردوں کا پیچھا کررہی ہے ان کی سازشیں ناکام بنادیں گے ۔ لوگوں کی حفاظت اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لئے سیکورٹی فورسز تیار ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان خطے کا ایک اہم حصہ بننے جارہا ہے جو دشمن کو ہضم نہیںہورہا ہے اس لئے وہ اس طرح کی غیر انسانی حربے استعمال کررہی ہیں مگر ہم واضح کرنا چاہتے ہیںکہ دشمن کو کبھی بھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔ اس سے قبل جائے وقوعہ پر میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی انسپکٹرجنرل کوئٹہ پولیس عبد الرزاق چیمہ نے بتایا کہ ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے پھل اور سبزی فروشوں کو سکیورٹی میں ہزار گنجی منڈی لایا گیا تھا۔انھوں نے بتایا کہ جب ان لوگوں کو لایا جاتا ہے تو سکیورٹی اہلکار چار مرکزی دروازوں پر ڈیوٹی دینے کے علاوہ مارکیٹ میں بھی گشت کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد آلوں کے گودام پر آئے تو زوردار دھماکہ ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر برادریوں کے لوگ بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں ہزارہ قبیلے کے علاوہ دیگر لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں اس لیے اس بات کا تعین تحقیقات کے بعد کیا جاسکے گا کہ اس حملے کا ہدف کون لوگ تھے۔انھوں نے کہا کہ دہشت گرد تو سب لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں۔اس علاقے میں پہلے بھی ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے سبزی اور پھل فروشوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ماضی میں ہونے والے حملوں کے پیش نظر انہیں مری آباد اور ہزارہ ٹان کے علاقوں سے سکیورٹی میں لایا جاتا ہے اور سبزی اور پھلوں کی خریداری کے بعد واپس لے جایا جاتا ہے۔ان حملوں کے پیش نظر ہزارہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے افراد کے علاقوں میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے جن کے پیش نظر حکام کا کہنا ہے کہ ماضی کے مقابلے ان پر حملوں میں کمی آئی ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے ہزارگنجی سبزی منڈی میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ وزیراعلی کا کہنا تھا کہ پرامن ماحول کو خراب کرنے کی سازش کو ناکام بنانا ہوگا، ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسانیت کے دشمن دہشت گرد کسی رعایت کے مستحق نہیں ہے، واقعہ کے شہدا کے غم میں برابر کے شریک ہیں،انہوں نے کہاکہ شدت پسند سوچ کے حامل افراد معاشرے کا ناسور ہیں اور ان کا تدارک ناگزیر ہے ۔ وزیراعلی نے ہدایت کی کہ زخمیوں کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کی جائیں ۔وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کوئٹہ کے علاقے ہزارگنجی میں بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے اس میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ وافسوس کااظہار کیاانہوں نے واقعہ کی فوری رپورٹ طلب کرتے ہوئے زخمی افراد کو بہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔صدر عارف علوی نے بھی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے دھماکے میں قیمتی جانوں کے نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات دہشت گردی کے خاتمے کے لیء قومی عزم کو مزید پختہ کرتے ہیں۔ وزیر مملکت برائے داخلہ شہریارخان آفریدی نے کوئٹہ ہزار گنجی میں دھماکے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی بلوچستان کو دہشت گردی کے واقعے پر تفصیلی طور پر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہاہے کہ دہشت گرد شکست کھانے کے بعد اب مسلمانوں کو تقسیم کرنے کی سازش پر عمل پیرا ہیں،انہوں نے کہاکہ ہم فرقہ پرست دشمن کی قوم کو تقسیم کرنے کی سازش کو ایک بار پھر ناکام بنائیں گے۔ جمعہ کے مبارک دن مسلمانوں پر حملہ آور کبھی مسلمان نہیں ہوسکتے۔

Facebook Comments
Share Button