تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

سیاحتی مقامات اورصفائی کا اہتمام

Share Button

وزیراعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے ہنزہ سیاحوں کا مسکن ہے صفائی نصف ایمان ہے سب سے زیادہ اہمیت ہمیں ماحول کی صفائی پر رکھنا ہے اسلئے ہماری حکومت تقریبا آٹھ اضلاع میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کا قیام عمل میں لائی ہے۔ انشاء اللہ آئندہ ایک سال کے اندر باقی کے اضلاع میں بھی سالڈ ویسٹ کمپنی کام کریگی۔انہوں نے مزید کہا کہ گلگت کے بعد دوسری بڑی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ہنزہ میں ہے جہاں پر ملکی و غیر ملکی لاکھوں سیاح علاقے کا رْخ کرتے ہیں جبکہ ہنزہ کے علاقہ سوست میں بھی سالڈ ویسٹ کے لئے گاڑیاں اور ملازمین فراہم کردیے ہیں۔ وزیراعلی گلگت بلتستان نے مزید کہا کہ ہنزہ گلگت بلتستان بلکہ پاکستان کا چہرہ ہیں صوبائی حکو مت اس وقت ہنزہ میں پونے تین ارب کی لاگت سے مختلف منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔ سالڈ ویسٹ منجمنٹ کے قیام سے علاقے کی صفائی ستھرائی کے علاوہ سینکڑوں افراد کو روز گار کے مواقع بھی مل چکے ہیں انشاء اللہ ملازمین کے لئے انشورنس پالیسی بھی متعارف کرائیں گے تاکہ ملازمین کو ریٹائرڈ ہونے کے بعد بھی گھر کے کم سے کم اخراجات کیلئے مدد مل سکے۔سیاحتی مقامات پر صفائی کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جا سکتا لیکن عموما ہمارے ہاں ان مقامات پر سیاح حضرات جی بھر کر گندگی پھیلاتے ہیں اور انہیں اس بات کا کوئی احساس نہیں ہوتا کہ انہیں صفائی ستھرائی کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔یہی وجہ کہ ہمارے سیاحتی مقامات گندگی کا نمونہ پیش کرتے ہیں جن افراد کو صفائی پر معمور کیا جاتا ہے وہ بھی اپنی ذمہ داریاں ایمانداری سے ادا کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے ہیں۔ہم جانتے ہیں کہ سیاحت ایک بہت بڑی صنعت ہے جو اربوں ڈالر کا زرمبادلہ فراہم کر سکتی ہے خوش آئند بات یہ ہے کہ حکومت نے سیاحت کے فروغ کی خاطر ویزاپالیسی نرم کر دی ہے۔بہت سے ملکوں کے شہریوں کے لیے ویزا کا حصول آسان بنا دیا گیا ہے اور توقع کی جا رہی ہے کہ سیاح جوق در جوق پاکستان آئیں گے ‘ زرمبادلہ خرچ کریں گے ‘ عام پاکستانی ملکوں ملکوں کے لوگوں سے متعارف ہوں گے اور دنیا کے بارے میں نقطہ نظر میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔
یہ خوش آئند سوچ ہے لیکن اس کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا کے ملک سیاحت سے بہت سرمایہ کما رہے ہیں اور اس سے بھی بڑھ کر سماجی سرمایہ بنا رہے ہیں’ اپنا بہتر تصور اجاگر کر رہے ہیں جس کی پاکستان کو بہت ضرورت ہے کہ پاکستان کے لوگوں کی حقیقی ملنساری’ تواضع اور اعلیٰ اقدار کی پاسداری کا تصور دنیا پر واضح نہیں ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی دنیا کے باشندے یہاں سے جنم لینے والی خبروں کے حوالے سے پہچانتے ہیں اور گزشتہ کئی عشروں سے پاکستان سے ایسی خبریں نہیں ابھر رہیں جو پاکستانی قوم کا حقیقی تعارف اجاگر ہو رہا ہو اور یہ خبریں ان کے لیے قابلِ فخر ہوں۔ پاکستانی قوم کے مزاج اور مہمان نوازی کا تصور دنیا پر واضح نہیںہے۔بے شک یہ باور کرایا جاتا رہے کہ پاکستانی قوم نہایت اعلیٰ اوصاف کی حامل ہے اس کا یقین عمومی تجربے ہی سے واضح ہو سکتا ہے۔
سیاحت کے فروغ کا خواب بہت پرانا ہے لیکن عملا ایسا نہیں ہو سکا۔پاکستان میں سارے موسم پائے جاتے ہیں۔ پھلوں اور سبزیوں کی مختلف انواع پیدا ہوتی ہیں۔پاکستان میں سمندر کے ساحل سے لے کر دنیا کی بلند ترین چوٹیاں ہیں اور اس متنوع وسعت میں بے شمار خوبصورت مناظر ہیں۔ پاکستان میں جنگلی حیات اور پرندوں کی نادر اور خوبصورت انواع پائی جاتی ہیں جو سیاحوں کی گہری دلچسپی کی حامل ہوتی ہیں۔ ان مناظر سے لطف اندوز ہونے کے لیے پاکستان میں دنیا بھر سے سیاح آتے ہیں لیکن اتنے نہیں جتنی تعداد کے یہ مناظر اور آثار اور تاریخی ورثہ مستحق ہیں۔اگر حکومت ان مناظر’ آثار’ ثقافتی رسم و رواج اور تاریخی ورثہ کی فوٹو گرافی کا ایک مقابلہ منعقد کروا دے ‘ اس مقابلے سے جو تصویریں حاصل ہوں ان میں سے نمایاں تصویروں کو قدرے تفصیلی تعارفی بیان کے ساتھ پاکستان کے سفارت خانوںکو بھیج دیا جائے اور وہ ان کی مستقل نمائش کا بندوبست کریں۔ہر سال اس مقابلے کی نمایاں تصویر یں اس نمائش میں شامل کی جاتی رہیں۔لیکن اصل مسئلہ محض سیاحو ں کو راغب کرنا نہیں ان کو تحفظ ‘صاف ستھری کم خرچ رہائش ‘ مشاورت’ رہنمائی اور مقامی سفر کی سہولتیں فراہم کرنا اہم ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لیے کرنے کے بہت کام ہیں جن پر توجہ دی جانا ضروری ہے۔ فروغ سیاحت کی کارپویشن جس حال میں بھی ہے وہ سیاحوں کی دلچسپی کے مقامات کی نشاندہی کر سکتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ سیاحوں کے رہنمائوں ٹورسٹ گائیڈز کا ایک مختصر کورس بھی شروع کر سکتی ہے تاکہ یہ گائیڈ سیاحوں کی رہنمائی کر سکیں اور ان کو ضروری خدمات اور سہولتیں حاصل کرنے میں مدد کر سکیں۔ یہ ایک پارٹ ٹائم پیشہ ہو جس سے متعلقہ علاقوں کے نوجوانوں کی ایک تعداد استفادہ کر سکتی ہے۔ ہمارے ہاں بے شمار تاریخی مقامات ہیں’ کچھ محفوظ ہیں اور کچھ گزرے وقت کی دست برد پر چھوڑ دیے گئے ہیں۔ مقامی’ صوبائی اور وفاقی حکومتیں ان کا اگر تحفظ نہیں کر سکتیں تو ان پر ان کے تعارف کی تختیاں ضرور لگوا سکتی ہے جو ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی دلچسپی کا باعث ہوں گی اور عام لوگ ان کے باعث اپنے تاریخی ورثے کے بارے میں شناسائی حاصل کر سکیں۔پاک فوج قبائلی علاقوں میں میوزیم قائم کر سکتی ہے۔ ایک تو سیاحوں کیلئے سفر کو محفوظ بنانے کی طرف توجہ بہت ضروری ہو گی تاکہ اغواء برائے تاوان ایسی وارداتوں سے سیاحوں کو تحفظ مل سکے۔ دوسرے سیاحتی مقامات پر آنے جانے کی سہولتوں کی طرف دھیان دیا جانا چاہیے۔سیاحوں کو جعل سازوں اور دھوکے بازوں سے بچانے کیلئے مشاورت فراہم کرنے کا بندوبست ضروری ہے۔ ان کیلئے محفوظ ٹھکانے مہیا کرنے پر توجہ دینا ہوگی جہاں وہ عارضی قیام کر سکیں اور انہیں کم خرچ صاف ستھرا کھانا مل سکے۔ صاف پانی اور ساتھ لے جانے والا ہلکا پھلکا کھانا میسر آسکے۔ جعلی آثار فروخت کرنے والوں کی حوصلہ شکنی ضروری ہو۔ سیاحتی مقامات کی صفائی کا بندوبست ضروری ہوتاکہ وہاں جانے والے کوڑا کچرا نہ پھیلائیں۔ پہاڑی مقامات پر یہ انتظام اور بھی اہم ہے۔ الغرض سیاحت کو ایک صنعت کے طور پر فروغ دینے کیلئے پرائیویٹ سیکٹر میں چھوٹے چھوٹے ٹورآپریٹر یونٹ قائم کرنے پر توجہ دینا چاہیے ۔ گلگت بلتستان اس اعتبار سے خصوصیت کا حامل ہے کہ اللہ تعالی نے اس خطے کو جنت نظیر خوبصورتی عطاء کی ہے اگر اسے دنیا میں جنت کے مشابہ قرار دیا جائے تو کچھ غلط نہیں ہو گا۔لیکن بدقسمتی سے اس علاقے کو عالمی سطح پر اس طرح متعارف نہیں کرایا جا سکا زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ عالمی سطح پر کوہ پیما یہاں بلند و بالا پہاڑیوں کے سبب اس سے متعارف ہے۔ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ حکام بالا اس جانب توجہ دیتے ہوئے سیاحت کو باقاعدہ ایک صنعت سمجھ کر اس میں سرمایہ کاری کا اہتمام کریں اور حکومت ہر سال سیاحت کے لیے بجٹ میں ایک معقول رقم مختص کرے ۔نئے نئے سیاحتی مقامات متعارف کرائے جائیں اور پہلے سے موجود مقامات کو متعارف کرانے کے لیے دنیا بھر میں موجود سفارتخانوں کو فعال کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہم سفارتخانوں پر اربوں روپے صرف کرتے ہیں لیکن وہ اپنے حقیقی مقاصد کو پورا کرنے میں تاحال ناکام ہیں حالانکہ سفارتخانوں کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ وہ ان ممالک میں اپنے ملک کے لیے سرمایہ کاری کے ذرائع تلاش کریں اپنی ثقافت کو اجاگر کرنے کا اہتمام کریں اور معیشت کو فروغ دینے کے راستے ڈھونڈیں تاکہ پاکستان ان مقامات سے قیمتی زرمبادلہ کما سکے اور روز گار کے نئے دروازے وا ہو سکیں۔

Facebook Comments
Share Button