تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

شہید سیف الرحمن ہسپتال کا مختصرمدت میں کام کرنا قابل تحسین ہے،وزیر اعلیٰ

Share Button

گلگت(پ ر)وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ شہید سیف الرحمن ہسپتال کا مختصرمدت میں کام کرنا قابل تحسین ہے۔ نئے پاکستان والوں کو 8ماہ ہوچکے ہیں اور سب کو ان کے ترجیحات نظر آرہے ہیں۔ چھوٹے صوبوں کیلئے شہباز شریف نے پنجاب کے وسائل وقف کئے۔ عطاء آباد سانحے میں بھی نواز شریف اورشہباز شریف نے بھرپور مدد کی۔ گلگت بلتستان کے طلبہ کے لئے96 میڈیکل سٹیوں میں سے 76 سیٹیں پنجاب میں ہیں۔ سندھ اور خیبرپختونخوا والے ایک سیٹ بڑھانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ بلاول بھٹو نے ہارٹ سنٹر کا وعدہ خود کیا مگر6 ماہ سے چیف سیکریٹری رابطہ کررہے ہیں کوئی جواب نہیں آرہاہے۔ انہوںنے کہا ہے کہ دیگر صوبوں کوبھی گلگت بلتستان کی ترقی میں اپناکردار اد اکرنا چاہئے۔ این ایف سی اجلاس میں اس وقت کے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے گلگت بلتستان کیلئے 3فیصد رقم دینے کی بات کی تھی جس پر سندھ اور خیبرپختونخواہ نے مخالفت کی۔ جوجماعتیں گلگت بلتستان میں سیاست کرنا چاہتی ہیں ان کو چاہئے کہ جن صوبوں میں ان کے جماعت کی حکومت ہے ان کو این ایف سی سے 3فیصد حصہ گلگت بلتستان کو دینے کی حمایت کرائیں۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پنجاب کے بجٹ میں سے ایک ارب روپے گلگت بلتستان کودیئے۔ ان خیالات کا اظہار شہید سیف الرحمن ہسپتال کے سنگ بنیاد رکھنے کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کا مینڈیٹ چوری کیا گیا۔ نئے پاکستان والوں نے گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ میں 2 ارب روپے کا کٹ لگایا یہ ان کی کارکردگی ہے۔ پنجاب حکومت نے 40 کروڑ کی مشینری فراہم کرنی تھی جس میں سے نئے پاکستان والوں نے ایمبولنس روک کر کم ظرفی کا مظاہرہ کیا۔ حفیظ الرحمن نے کہا کہ صحت کا شعبہ ہماری ترجیحات میں شامل ہے۔ گلگت بلتستان میں اس وقت 540 ڈاکٹرز خدمات سرانجام دے رہے ہیںمزید150ڈاکٹرز درکار ہیں جس کیلئے اقدامات کررہے ہیں۔ ہم نے تعلیم اور صحت کے شعبے کو اپنی اولین ترجیحات میں رکھا ہے۔ میرٹ کی بالادستی کو یقینی بنایا ہے۔ تعلیم اور صحت سے ووٹ نہیں ملتا لیکن یہ قوم کی ضرورت ہے۔ ہم نے تمام اداروں میں اصلاحات کی ہیں۔ گلگت بلتستان میں ایک ایم آر آئی مشین نہیں تھی ۔کسی اور جماعت کو توفیق نہیں ہوئی کہ گلگت بلتستان کو ایم آر آئی مشین فراہم کرے۔ سابق وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے عوام کو ایم آر آئی مشین کا تحفہ دیا۔ ملک کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کام کرنے والوں کیخلاف کارروائی ہوتی ہے کام نہ کرنے والوں کو کوئی نہیں پوچھتا۔ ماضی کی حکومتوں نے اقتدار کو صرف عیاشی کا ذریعہ بنایا۔ گلگت بلتستان میں صرف عملی کام مسلم لیگ (ن) نے کیا۔ادھر وقار النساء ماڈل گرلز ہائیر سکنڈری سکول کشروٹ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا ہے کہ محکمہ تعلیم اور سکولوں کی بہتری کیلئے مثالی روڈ میپ بنایا گیا ہے۔ بنیادی نظام تعلیم کو بہتر بنایا گیا ہے۔ ماڈل سکولز اورپبلک سکولزصوبائی حکومت نے بنائے ہیں۔ ہر سال 10 ماڈل سکولز بنارہے ہیں۔ نئے پاکستان والوں کی وجہ سے تعلیم کے شعبے میں بجٹ میں کمی کی گئی ہے۔ ماڈل سکولوں میں تقریباً 3 کروڑ روپے لگائے ہیں جہاں جدید کمپیوٹر لیب اور تمام سہولیات میسر ہیں۔تعلیم کے شعبے میں کی جانے والی اصلاحات کے ثمرات فوری نظر نہیں آئیں گے۔ ماضی میں نمائشی کاموں پر توجہ دی گئی۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ حقیقی معنوں میں تعلیم کی بہتری کیلئے نہیں سوچا گیا۔ بدقسمتی سے ماضی میں الیکشن کو مدنظر رکھ کر کام کیا گیا۔ ہماری حکومت نے اصلاحات متعارف کرائے جس کی وجہ سے آج پورا صوبہ امن کا گہوارہ بن چکا ہے۔ ماضی میں بے گناہوں کا خون بہایا جارہا تھا ۔گزشتہ4 سالوں میں کوئی دہشت گردی کا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔ امن کی وجہ سے تعمیر و ترقی کا سفر شروع ہوا۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ سرکاری سکولوں میںبہتری کی وجہ سے انرولمنٹ بہتر ہوئی ہے۔ 8 کروڑ مفت کتابوں کی فراہمی کیلئے مہیا کئے سابق حکومتوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا۔282 مڈل اور ہائی سکول بنائے ہیں۔ سکولوں کا نظم و نسق بہتر ہوناچاہئے۔ اب اساتذہ کو مزید بہتر زرلٹ دینے کی ضرورت ہے۔ جو والدین ماڈل سکول کے طالب علموں کو سکول یونیفارم خرید نہیں سکتے ان کو صوبائی حکومت یونیفارم فراہم کرے گی۔وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ سرکاری سکولوں کی تعمیرات محکمہ تعلیم کے انجینئرنگ سیل بنائے گا۔ سکول میں جن مسائل کی نشاندہی کی گئی ہے ان کو2 ماہ میں حل کئے جائیں اور ماسٹر پلان تیار کیا جائے۔کوتاہی کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمن نے کہاکہ یوتھ کی مثبت سرگرمیوں کیلئے وسائل فراہم کررہے ہیں۔ خواتین کے پارک کا افتتاح بہت جلد کیاجائے گا۔ خواتین پارک کی تعمیر سے خواتین کو آپس میں مل بیٹھنے کے مواقع میسرآئیں گے۔ جو بچے تعلیم میں کمزور ہیں ان کواضافی ٹائم دیا جائے۔ معیار تعلیم حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ 2029ء تک روڈ میپ کے مطابق صوبے کے تمام مڈل اور ہائی سکولوں کو ماڈل سکول بنائے جائیں گے۔

Facebook Comments
Share Button