تازہ ترین

Marquee xml rss feed

اے پی سی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف سخت موقف اپنانے کی مخالفت پارلیمان کو کمزور کیا گیا تو ملک میں تیسری قوت آجائے گی، پاکستان پیپلز پارٹی کا موقف-گلگت بلتستان میں ٹوپی شانٹی ڈے روایتی جوش و خروش سے منایا گیا-تفصیلی خبر اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے ... مزید-وزیرآبپاشی سندھ سید ناصر حسین شاہ کی ہدایت پر رینجرز کی مدد سے سندھ بھر میں آپریشن شروع-اپوزیشن کی کل جماعتی کانفرنس ناکام ہو گئی، اے پی سی اعلامیہ اپوزیشن کی نالائقی اور تحریری بدتمیزی کا منہ بولتا ثبوت ہے، اے پی سی اعلامیہ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مترادف ... مزید-وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق دائود سے تمباکو کمپنی فلپ مورس انٹرنیشنل کے ایم ڈی کی ملاقات-خصوصی افراد کو بااختیار بنانا ہماری اولین ترجیح ہے۔ سید قاسم نوید قمر-ابھی کئی اے پی سیز آئیں گی، پاکستان تحریکِ انصاف کے رہنما کا دعویٰ ایسی اے پی سیز آتی رہیں گی اور ایسے ہی ناکام ہوتی رہیں گی، فیصل واوڈا-وزیراعظم عمران خان کو ایوان نے پہلے الیکٹ اور پھر سلیکٹ کیا، فردوس عاشق اعوان سلیکٹ اور الیکٹ کے بعد ریجکٹ کی بھی بات ہونی چاہیے، مشیراطلاعات-اے پی سی کا پہلا شو ہی ناکام ہو گیا‘عوام کو اے پی سی سے زیادہ کرکٹ میچ سے دلچسپی رہی‘ اپوزیشن کا استعفوں و بائیکاٹ کا ایجنڈا ناکام ہو گا‘ اے پی سی جیسے ہتھکنڈے عمران ... مزید

GB News

سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینگے، کیپٹن (ر) محمد شفیع /جاوید حسین

Share Button

اسلام آباد (جنرل رپورٹر) اپوزیشن لیڈر کیپٹن (ر) محمد شفیع اور رکن اسمبلی جاوید حسین نے کہا ہے کہ متحدہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دینگے، عدالت عظمیٰ کے ججز کو دکھائیں گے کہ 7 رکنی لارجر بنچ کے فیصلے پر تین ماہ گزرنے کے باوجود بھی عملدرآمد نہیں ہوا ہے، پاکستان کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلے پر عمل نہ ہونا بہت بڑا سوالیہ نشان ہے، جب تک عدالتی فیصلے پر عملدرآمد نہیں ہوتا تب تکاحتجاج جاری رہے گا، اسلام آباد کے ساتھ گلگت بلتستان کے عوام کو بھی سڑکوں پر لائیں گے۔ کے پی این سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ وزیر امور کشمیر، وزیراعلیٰ جی بی اور گورنر راجہ جلال ہیں۔ ان تینوں نے آپس میں مک مکا کرلیا ہے۔ سپریم اپلیٹ کورٹ میں من پسند ججز کی تقرری، من پسند چیف الیکشن کمشنر اور چند دوسری اہم تقرریوں کیلئے تینوں شخصیات سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل کرنے نہیں دے رہیں۔ پرانی تاریخوں بیک ڈیٹ پر سمریاں اس کی واضح مثال ہیں۔ اس طرح کی جعل سازیاں توہین عدالت کے مترادف ہیں۔ ہم ان کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ثابت کرسکتے ہیں کہ سمریوں میں واضح جعل سازی کی گئی ہے۔ اس طرح جعل سازی سے گورنر اور وزیراعلیٰ صادق اور امین نہیں رہے، دونوں آئینی قانونی اور اخلاقی طور پر نااہل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دھرنے کے حوالے سے تمام اپوزیشن ممبران سے مشاورت کر رہے ہیں۔ یہاں راولپنڈی اسلام آباد میں موجود نوجوانوں کو بھی دعوت دیں گے۔ ایک سوال کے جواب میں دونوں ممبران کا کہنا تھا کہ مبصر والی نمائندگی کی ہمیں ضرورت ہی نہیں نہ ہم قبول کریں گے۔ عدالتی فیصلے کے مطابق صرف 2 ہی آپشن ہیں عبوری صوبہ یا متنازعہ حیثیت۔ ان دونوں کے علاوہ اب ہمیں زکوة اور خیرات کی کوئی ضرورت نہیں۔ پرانی تاریخوں پر سمریوں کے ذریعے اپیلٹ کورٹ میں ججز کی تقرری ہی کرنی ہے تو ہمیں ایسی کورٹ کی کوئی ضرورت نہیں۔ اپیلٹ کورٹ میں من پسند اور رشوت کی بنیاد پر ججز تقرر ہونے سے گلگت بلتستان میں انصاف کا قتل ہوا ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ہی ججز کی تقرری ہونی چاہیے، نہ ہونے کی صورت میں اپیلٹ کورٹ ختم کرنے کی تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ جعلی اعلانات کے ذریعے الیکشن پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اضلاع بنانے کا اختیار اسمبلی کے پاس نہیں تو وزیراعلیٰ کے پاس کہاں سے آیا۔ ایک سوال کے جواب میں ممبران کا کہنا تھا کہ ہنزہ کے رکن اسمبلی کو وزیراعلیٰ اور سابق چیف جج اپیلٹ کورٹ رانا شمیم نے سازش کرکے ہٹایا۔

Facebook Comments
Share Button