GB News

ٹیکس ضرور اکھٹا کریں مگر۔۔۔۔

Share Button

ایمنسٹی اسکیم پر مشاورت کے لیے خصوصی اجلاس وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ایمنسٹی اسکیم پر مشاورت کی گئی۔مگرٹیکس ایمنسٹی اسکیم پر حکومتی کابینہ میں اتفاق رائے نہ ہو سکا اور اس پر مزید بحث کے لیے اسکیم کی منظوری کو وفاقی کابینہ کے آئندہ اجلاس تک موخر کردیا گیا ۔اس ضمن میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسکیم میں چند چیزوں کو مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے لہٰذا اس معاملے کو کابینہ کے اگلے اجلاس تک موخر کردیا گیا ہے۔ ٹیکس ایمنسٹی سکیم کوئی انوکھی چیز نہیں۔ مختلف ممالک میں ایسی سکیمیں رائج ہیں۔ البتہ پاکستان میں جن پرکشش شرائط پر اس سکیم کو متعارف کرایا جاتا ہے۔ اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت زیادہ تر ملکوں میں ٹیکس کی شرح یا اس سے بھی زیادہ ٹیکس کی وصولی کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں ٹیکس چوروں کو سزا یا جرمانہ کے بجائے الٹا ٹیکس میں رعایت دی جاتی ہے۔کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی مودیز نے گزشتہ سال کہا تھا کہ اگر پاکستانی حکومت کی ٹیکس سے استثنیٰ اسکیم کامیاب ہوجاتی ہے تو اس سے خزانے پر پڑنے والے بیرونی اور مالی دباؤ کو کم کیا جاسکے گا، جو کالے دھن کو سفید بنانے کی سرکاری اسکیم ‘ٹیکس اصلاحات پیکج’ کا حصہ ہے۔عالمی ادارے نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستانی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کی کامیابی سے حکومت کی آمدنی میں اضافہ ہوگا جب کہ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈورکے اخراجات سے پڑنے والے بوجھ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ بیس کروڑ کی آبادی والے ملک میں صرف بارہ لاکھ ٹیکس گوشوارے جمع کرواتے ہیں جس میں سے صرف سات لاکھ افراد انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں۔حکومت کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جی ڈی پی میں محصولات کی مد میں حاصل ہونے والی آمدنی، پڑوسی ممالک اور ایشیا پیسیفک کے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے کم ہے جبکہ پاکستان میں محصولات سے حاصل شدہ آمدنی کی ابتر صورتحال کے سبب گزشتہ پچیس برس میں کوئی خاص مالی فائدہ دیکھنے میں نہیں آیا۔کہا جاتا ہے کہ کامیاب ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کی آمدنی کا بہتر دور شروع ہوگا، بیرون ملک اثاثوں پر کم سے کم عائد کردہ ٹیکس سے اس اسکیم کی کامیابی کے امکانات موجود ہیں۔نئی ٹیکس ایمنسٹی سکیم کے تحت اندرون ملک اثاثے چھپانے اور ٹیکس چوری کرنے والے صرف پانچ فیصد ٹیکس دے کے تمام دولت کو قانونی بنا سکتے ہیں۔ یہ شرح ٹیکس کی موجودہ شرح سے چھیاسی فیصد تک کم ہے جبکہ اس وقت، ٹیکس کی موجودہ شرح سات سے پینتیس فیصد تک ہے۔بھارت نے 2016 میں ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا اعلان کیا لیکن سکیم کے تحت اثاثے ظاہر کرنے والوں سے پنتالیس فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کیا گیا۔ اس سے بھارتی حکومت کو 294 ارب روپے کی وصولیاں ہوئیں۔حالیہ چند برسوں میں امریکہ، آسٹریلیا، کینیڈا، جرمنی سمیت متعدد ممالک نے ٹیکس چوروں اور بیرون ملک اثاثے ظاہر کرنے کے سلسلہ میں مختلف ایمنسٹی سکیموں کا اعلان کیا لیکن کسی بھی ملک میں اثاثے ظاہر کرنے والوں سے رعایتی شرح سے ٹیکس وصول نہیں کیا گیا۔ٹیکس پورا ہی وصول کیا گیاصرف جیل نہ بھیجنے کی رعایت برتی گئی۔وزیرخزانہ اسد عمر کے مطابق ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا مقصد کالا دھن سفید کرنا ہے۔اثاثہ جات پر ایمنسٹی اسکیم سے صرف کاروباری افراد فائدہ اٹھا سکیں گے اور یہ کہ عالمی مالیاتی ادارے کو اسکیم پر اعتراض نہیں ہے اس اسکیم سے منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیاست دان فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔تاہم بے نامی بینک اکاؤنٹس رکھنے والے افراد اس اسکیم کے ذریعے اپنے اثاثے ظاہر کر سکیں گے اور انہیں اپنے ذرائع آمدن نہ بتانے کی چھوٹ حاصل ہو گی۔ تحریک انصاف ماضی کی حکومتوں کی جانب سے متعارف کروائی گئی ایسی سکیموں کی مخالفت کرتی رہی ہے۔حال ہی میں حکومت نے بے نامی بینک اکاؤنٹس رکھنے والوں کے خلاف کاروائی کے لئے قانون سازی کے بعد قواعد و ضوابط کی منظوری دی ہے۔مسلم لیگ ن کے رہنماء اور سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے مطابق حکومت کا اس وقت ٹیکس اسکیم لانے کا مقصد ٹیکس آمدن میں کمی کو پورا کرنا ہے۔پاکستان میں حکومتیں ماضی میں بھی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کرتی رہی ہیں اور پچھلی حکومت کے دور میں تین ٹیکس ایمنسٹی اسکیم جاری کی گئی تھیں، جس میں بے نامی جائیدادوں کو قانونی قرار دینے کی جون 2018 کو ختم ہونے والی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم سے حکومت کو 120 ارب روپے کی آمدن ہوئی تھی۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کالا دھن سفید کرنے کے لئے ٹیکس ایمنسٹی سکیم کا جب اعلان کیا تھا تو مخالفت کا طوفان کھڑا کیا گیا تھا اس وقت کہا گیا تھا کہ جن پاکستانیوں کے اثاثے ملک سے باہر ہیں وہ دو فیصد جرمانہ ادا کر کے ایمنسٹی سکیم سے مستفید ہو سکیں گے، جبکہ اندرونِ ملک اثاثے ظاہر کرنے والوں کو پانچ فیصد جرمانہ ادا کرنا ہو گا، خفیہ پراپرٹی کو ڈیکلیئر کرنے کے لئے ایک فیصد ادائیگی کرنا ہو گی سکیم کا مقصد یہ بتایا گیاتھا کہ شہری رضا کارانہ طور پر اپنے اثاثے اور دولت ظاہر کریں اور اس کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جا سکے،ٹیکس گوشوارے جمع نہ کرانے والے چالیس لاکھ سے زیادہ مالیت کی جائیداد نہیں خرید سکیں گے، حکومت جائیداد کی اعلان کردہ مالیت سے دوگنی قیمت ادا کر کے خرید سکے گی، سکیم کا اطلاق منی لانڈرنگ، منشیات، سمگلنگ دہشت گردی کو فنانسنگ کرنے والوں پر نہیں ہو گا۔مخصوص حالات میں ایسی سکیمیں آتی رہتی ہیں، پاکستان کی ماضی کی حکومتیں بھی ایسی سکیمیں جاری کرتی رہیں، تاہم یہ سوال اہم ہے کہ کیا اس سکیم کے ذریعے وہ مقاصد حاصل کئے جا سکتے ہیں، جو حکومت کے پیشِ نظر ہیں اس کا ایک سادہ سا جواب تو یہ ہے کہ کوئی بھی سکیم کبھی سو فیصد کامیاب نہیں ہوتی اور نہ ہی مکمل طور پر ناکام ہوتی ہے، کامیابی اور ناکامی کے درمیان اگر کوئی خطِ امتیاز کھینچنا ممکن ہو تو کہا جا سکتا ہے کہ جس سکیم کا پلڑا کامیابی کی طرف جھکا ہو وہ کامیاب کہلاتی ہے اور جس کا رجحان ناکامی کی طرف زیادہ ہو وہ ناکام ہو جاتی ہے،ماہرین معاشیات نے سکیم کے اعلان کے ساتھ ہی اس پر اپنے اپنے تجزیے اور تبصرے دینے شروع کر دیئے ہیں، تحفظات کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔ہم جانتے ہیں کہ پاکستان کے اندر بڑے سیاست دانوں نے اپنے دوستوں کے نام پر جائیدادیں بھی بنا رکھی ہیں اور اْن کے نام پر کاروبار بھی ہوتے ہیں،ان جائیدادوں اور کاروباروں کی قانونی حیثیت جو بھی ہو یہ اس پاک سرزمین پر موجود بھی ہیں اور دیکھے جا سکتے ہیں لیکن ان کا کبھی قانون نے کچھ نہیں بگاڑا،پاکستان میں کئی دفعہ زرعی اصلاحات بھی ہو چکی ہیں ان اصلاحات سے بھی مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہوئے تھے کیونکہ بڑے زمینداروں نے اپنی زمینیں مزارعین کے نام منتقل کر دی تھیں۔حکومت نے اگر لوگوں کو ایک سہولت کی پیشکش کی ہے اور اپنی دانست میں انہیں ایک موقع بھی دیا ہے،جس سے وہ فائدہ اٹھانے میں آزاد ہیں تو ممکن ہے لوگ اس سکیم سے مستفید ہونا بھی چاہیں لیکن اِس بات کا قوی امکان ہے کہ بعض سیاست دان یا سیاسی جماعتیں اِس سکیم کو عدالتوں میں ہی چیلنج کر دیں اور جب تک عدالت کا فیصلہ آئے اْس وقت تک سکیم کی مدت ہی ختم ہو جائے۔موجودہ صورتحال میں ضروری ہے کہ حکومت ٹیکس اکھٹا کرنے کیلئے ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے کالے دھن کو سفید میں تبدیل کر کے ناجائز کو جائز نہ بنایا جائے بلکہ ایسا دھن رکھنے والوں کو ان کے کیے کی سزا کا بھی اہتمام کیا جائے۔جب حکومت خود جرم کو جائز قرار دے گی تو جرم و سزا کا تصور ہی ختم ہو جائے گا۔

Facebook Comments
Share Button