GB News

مکران کوسٹل ہائی وے پر سانحہ، دہشت گردوں نے بسوں سے اتار کر سکیورٹی اہلکاروں سمیت 14 افراد شہید کردئیے

Share Button

بلوچستان کے علاقے اورماڑہ کے قریب مکران کوسٹل ہائی وے پر نا معلوم دہشتگردوں نے مسافر بسوں سے 16 افراد کو اتار کر شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد سیکورٹی اہلکاروں سمیت 14افراد کو شہید کردیا ،2 افراد نے بھاگ کر جا بچائی، فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق افراد کی لاشیں اورماڑہ کے اسپتال میں منتقل کردی گئیںسیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی تفصیلات کے مطابق نامعلوم ملزمان نے کراچی سے گوادر اور گوادر سے کراچی آنے والی بسوں کو کوسٹل ہائی پر روکا اور کچھ لوگوں کو شناخت کیا جنہیں دور لے جا کر ہاتھ پائوں باندھنے کے بعد فائرنگ کر کے قتل کردیا جن کی شناخت محمد یوسف ،وسیم ، فرحان اللہ، علی رضا ، ذوالفقار ،ہارون ، علی اصغر ،حمزہ ، رضوان ، وسیم، محمد زین کے نام سے ہوئی جبکہ باقی افراد کی شناخت کا عمل جاری تھا۔ترجمان پاک بحریہ کے مطابق بوزی ٹاپ کے قریب کوسٹل ہائی وے پر دہشت گردوں نے سول بسوں میں سوار 14 افراد کو شہید کیا جن میں پاک بحریہ کے اہلکار بھی شامل ہیںلیویز ذرائع کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق افراد کی لاشیں اورماڑہ کے اسپتال میں منتقل کردی گئیںسیکورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ملزمان کی تلاش شروع کردی وزیر داخلہ بلوچستان ضیا لانگو کے مطابق مسافر بسوں سے اتار کر 14 افراد کو فائرنگ کر کے قتل کرنے کا واقعہ کوسٹل ہائی وے پر بزی چڑھائی کے مقام پر گزشتہ رات پیش آیاوزیر داخلہ بلوچستان کا کہنا ہے کہ تمام 14 مسافروں کے شناختی کارڈز دیکھنے کے بعد انہیں بسوں سے اتار کر قتل کیا گیا، سیکورٹی ادارے جلد ملزمان تک پہنچ جائیں گے ضیا لانگو نے کہا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے ٹیمیں بنا دی گئی ہیں، عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، دہشت گردوں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگاذرائع کے مطابق یہ واقعات اورماڑہ میں بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب پیش آئے اور ہلاک شدگان مختلف مسافر بسوں میں کراچی اور گوادر کے درمیان سفر کر رہے تھے۔اورماڑہ میں انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اہلکار نے اس واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ یہ واقعہ ہنگول کے قریب بزی پاس کے علاقے میں کوسٹل ہائی وے پر پیش آیااہلکار کا کہنا تھا کہ اس علاقے میں نامعلوم مسلح افراد نے چار، پانچ بسوں کو روکااہلکار کے مطابق مسلح افراد نے بسیں روکنے کے بعد مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرنے کے بعد ان میں سے 14 افراد کو اتارا جنھیں تھوڑی دور لے جا کر ہلاک کر دیا گیابعض اطلاعات کے مطابق حملہ آوروں نے بھیس بدلنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی وردیاں پہن رکھی تھیںاہلکار نے بتایا اس حملے کے بعد حملہ آور آواران کے پہاڑی علاقے کی جانب فرار ہو گئے جن کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں بڑے پیمانے پر کارروائی شروع کی ہے۔ انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس محسن حسن بٹ کاکہناتھا کہ کیموفلیگ یونیفارم پہنے 15 سے 20 مسلح افراد نے 6 بسوں کو روکاکوئٹہ میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ مسلح افراد نے 5 سے 6 بسوں کو روکا، جس میں کراچی سے گوادر کے درمیان چلنے والی ایک بس سے 16 مسافروں کو شناخت کے بعد اتار لیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ ہے جس میں مسافروں کو شناخت کے بعد قتل کیا گیا۔پولیس افسر کے مطابق دو مسافر اپنی جان بچاتے ہوئے لیویز کی چیک پوسٹ پر پہنچے، جنہیں بعد میں طبی امداد کیلیے اورماڑہ اسپتال منتقل کیا گیا۔واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے ادارے معاملے کا جائزہ لینے کیلئے جائے وقوعہ پر پہنچے قتل ہونے والے افراد کی لاشیں نور بخش ہاسٹل سے برآمد کرکے برمانگا اسپتال منتقل کی گئیں۔اورماڑہ سے بزی پاس کا فاصلہ تقریبا 75 کلومیٹر ہے جو کہ ہنگول نیشنل پارک کے قریب واقع ہے۔دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور دہشتگرد واقعے کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے۔ وزیراعظم نے واقعہ کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔گورنربلوچستان جسٹس(ر) امان اللہ یاسین زئی نے مکران کوسٹل ہائی وے پر 14افراد کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے لواحقین سے ہمدردی کااظہار کیاہے ۔دوسری جانب وزیراعلی بلوچستان جام کمال خان کا واقعہ پر کہنا تھا کہ دہشت گردی کا واقعہ ملک کو بدنام کرنے اور بلوچستان کی ترقی کو روکنے کی گھنائونی سازش ہے، بزدل دہشت گردوں نے بے گناہ نہتے مسافروں کو قتل کرکے بربریت کی انتہا کی وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ امن کے دشمن اپنے بیرونی آقاں کے اشارے پر اپنے ہی لوگوں کا خون بہا رہے ہیں، بلوچستان کے عوام بیرونی عناصر کے ایجنڈہ پر عمل پیرا دہشت گردوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیںجام کمال نے کہا کہ ترقی اور امن کا سفر ہر صورت جاری رہے گا، صوبے کے عوام کی تائید و حمایت سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا جائے گا، جبکہ دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عمل جاری رہے گاوزیر داخلہ بلوچستان میر ضیا لانگو کے مطابق ملزمان کی گرفتاری کیلئے ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی جان و مال کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے، ملزمان کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔وزیر مملکت برائے داخلہ شہریار آفریدی نے اورماڑہ میں دہشتگردی کی شدید مذمت کی ہے، جمعرات کو شہریار آفریدی نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ دشمن پاکستان کو ایف اے ٹی ایف اور دیگر عالمی فورم پر نقصان پہنچانا چاہتا ہے، بزدل دہشتگردوں نے غیر ملکی آقاں کو خوش کرنے کے لیے وطن فروشی کا ثبوت دیا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کو کمین گاہوں سے نکال کر عبرت کا نشان بنائیں گے، آج پھر سیاسی جماعتوں اور اداروں کو دہشتگردی کے خلاف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنا ہوں گے۔

Facebook Comments
Share Button